پوسائڈن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
پوسائڈن
Poseidon
Poseidon sculpture Copenhagen 2005.jpg
کوپن ہیگن کے ایک عجائب گھر میں پوسائڈن کا مجسمہ
علامت ترشول، مچھلی، ڈولفِن، گھوڑا اور سانڈ
ساتھی امفیتریت
والدین کرونس (باپ) اور ریہہ (ماں)
بہن بھائی ہیسٹیہ، ڈیمیٹر، ہیرہ، ہادس اور زیوس
اولاد اطلس
رومی مترادف نیپچون

پوسائڈن یونانی اساطیر کے بارہ اولمپوی دیوتاؤں میں سے ایک تھا۔ اِس کے دائرہِ اختیار میں سمندر اور بحریرہ تھے اور یہ گھوڑوں کو مطیع کرنے میں بھی مستحسن تھا، چنانچہ اِسے ”سمندروں کا دیوتا“ کہا جاتا ہے۔ یہ زمین کو بھی لرزاں کر سکتا تھا اور اِسی لئے اِسے کبھی ”بُھونچالوں کا دیوتا“ بھی تصّور کیا جاتا ہے۔ فنون میں پوسائڈن کو ایک بوڑھے آدمی کی شکل میں دِکھایا جاتا ہے جس کے داڑھی اور سَر کے بال گھُنگرِیلے ہوتے ہیں۔

زندگی[ترمیم]

پیدائش[ترمیم]

پوسائڈن کرونس اور ریہہ کا دوسرا بیٹا تھا۔ دیگر بیانوں میں پوسائڈن کو پیدائش کے وقت اِس کا باپ، کرونس، نِگل گیا۔ کیونکہ پوسائڈن خود ایک لافانی دیوتا تھا، یہ کرونس کے پیٹ میں جا کر مرا نہیں بلکہ ابد کی قید میں جیتا رہا۔ کرونس نے پوسائڈن سمیت اپنے چار اور نومولود بچوں کو کھا لیا جن میں اِس کا ایک بھائی ہادس اور تین بہنیں، ہیسٹیہ، ڈیمیٹر اور ہیرہ، شامل تھیں۔ یہ سب بچے اپنے باپ کے پیٹ میں زندگی بسر کرتے رہے۔ جب اِس کے سب سے چھوٹے بھائی زیوس کی پیدائش ہوئی تو اِس کی ماں ریہہ نے زیوس کو ایک غار میں چھپا کر اِس کے باپ کو کپڑے میں لپٹا پتھر کھلا دیا۔ آگے جا کر زیوس نے اپنے بہن بھائیوں کو اپنے باپ کے پیٹ سے آزاد کروایا اور پوسائڈن، زیوس کے ہمراہ، تیتانی دیوتاؤں کے خلاف جنگ میں اُتر آیا۔

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

نگار خانہ[ترمیم]