کیمیاء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(کیمیائی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

کیمیاء (chemistry) سائنس کی وہ شاخ جو مادے کی ترکیب(composition)، ساخت، خواص اور مادوں کے تعاملات (reactions) سے متعلق ہے۔ اس شعبہ علم میں خاص طور پر جوہروں کے مجموعات ؛ مثلا سالمات اور انکے تعملات ، قلموں (crystals) دھاتوں سے بحث کی جاتی ہے۔ کیمیاء میں ان مذکورہ اشیاء کی ساخت اور پھر انکی نۓ مرکبات میں تبدیلیوں کا مطالعہ ، اور انکے تفاعل (interaction) کے بارے میں تحقیق شامل ہے۔ اور جیسا کہ اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ جب مادے کا بڑے پیمانے (یعنی سالمات اور قلمیں وغیرہ کے پیمانے) پر مطالعہ کیا جاۓ گا تو جوہر یا ایٹم یعنی باریک پیمانے پر مادے کا مطالعہ بھی لازمی ہوگا اور یہی وجہ ہے کہ کیمیاء میں جوہروں کی ساخت اور انکے آپس میں تعملات اور روابط کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے۔

تعریف[ترمیم]

علم کیمیا وہ علم/سائنس ہے جو موجود مرکبات و عناصر کی ترکیب و تعامل کی تحقیق اور قدرتی و مصنوعی یا ترکیبی مرکبات کے امتزاج کا مطالعہ کرتا ہے۔[1]

سرخیاں[ترمیم]

ایک جوہر (ایٹم) کا مسانچ ،جو ردرفورڈ نے پیش کیا۔

پہلے زمانے میں لوگو یہ سمجھتے تھے کہ اس دنیا میں تمام اشیاءایک از سو (1/100 گندم کے دانہ) کے برابر ایک چھوٹے سے ذرے سے بنے ہیں۔لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے ترقی کی اور یہ بات ثابت کی کہ دنیا کا سب چھوٹا ذرہ یوں ہوتا ہے کہ اس کے درمیان میں مرکزہ (نیوکلس) ہوتا ہے اور اس میں برقیہ،اولیہ اور تعدیلہ ہوتے ہیں جن میں اولیہ اور تعدیلہ مرکزہ (یعنی نیوکلس) میں ہوتے ہیں اور برقیہ جو منفی (نیگٹیو) چارج رکھتا ہے اس مرکزہ کے ارد گرد گھومتے ہیں یا چکر لگاتے ہیں۔؎

تاریخ[ترمیم]

ابتدائی تہذیبوں، جیسے کہ بابلی، مصری وغیرہ دھات کاری، اور ظروف سازی کے ماہر تھے۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں کوئی باقاعدہ نظریہ نہ وضع کیا۔ ابتدائی کیمیائی مفروضہ، ارسطو نے چار عناصر کے نظریہ کی صورت میں پیش کیا جس کے مطابق ہر چيز پانی، ہوا، مٹی اور آگ کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے۔ یونانی فلسفیوں کے مطابق ان چار عناصر کے مختلف تناسب سے ایک شے دوسری شے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ شروع میں کیمیا گری، دھاتوں اور عناصر کو سونے میں تبدیل کرنے اور دائمی زندگی کے لئے اکسیر حاصل کرنے جیسے جادوئی اور پراسرار نظریات تک محدود تھی۔

پیریڈیک ٹیبل[ترمیم]

پیریئڈک ٹیبل ایک ایسا ٹیبل ہوتا جس میں تمام طر عطوم یا جوہرات کی تفصیل ہوتی ہے۔اس ٹیبل کو ایک خاص اصول کے تحت تشکیل دیا گیا ہے ۔

Periodic table (polyatomic).svg

شا خیں[ترمیم]

کیمیا کی مندرجہ ذیل شا خیں ہیں:

نامیاتی کیمیاء[ترمیم]

آرگینک کیمسٹری، کاربن اور ہائیڈروجن کے آب کاربن (hydrocarbons) اور ان سے ماخوذ مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

غیر نامیاتی کیمیاء[ترمیم]

ان آرگینک کیمسٹری، غیر نامیاتی مرکبات کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

طبیعی کیمیاء[ترمیم]

فزیکل کیمسٹری مادے کی ترکیب اور طبیعی خواص کے درمیان تعلق اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں سے متعلق ہے۔

تجزیاتی کیمیاء[ترمیم]

کیمیائی نمونے کے اجزا کی علیحدگی، ان کا تجزیہ اور پہچان اینالیٹیکل کیمسٹری کہلاتا ہے۔

حیاتیاتی کیمیاء[ترمیم]

کیمیاء کی وہ شاخ جو جاندار اجسام میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی ساخت، ترکیب اور ان کے کیمیائی عمل کے مطالعہ سے متعلق ہے بائیو کیمسٹری کہلاتی ہے۔

نیوکلیائی کیمیاء[ترمیم]

نیوکلیئر کیمسٹری میں تابکاری، نوکلیائی عملیات اور نوکلیائی خصوصیات کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔

صنعتی کیمیاء[ترمیم]

کیمسٹری کی وہ شاخ جس میں تجارتی پیمانے پر مرکبات بنانے کے طریقوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے، انڈسٹریل کیمسٹری کہلاتی ہے۔

ماحولیاتی کیمیاء[ترمیم]

انوائرنمنٹل کیمسٹری، حیاتیاتی کیمیائی (biochemical) مظاہر جو قدرتی طور پر زمین پر رونما ہوتے ہیں کے مطالعہ سے متعلق ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://nlpd.gov.pk/lughat/search.php