گوہرشاد بیگم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(گوہر شاد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گوہرشاد بیگم
مشہد واقع گوہر شاد مسجد جو ملکہ گوہر شاد کے ذوق لطیف کا عظیم نمونہ ہے

دور حکومت 1405ء – 13 مارچ 1447ء
ساتھی yes
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 14ء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سمرقند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جولا‎ئی 1457  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ھرات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت تیموری سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام
شوہر شاہ رخ تیموری  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد الغ بیگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان تیموری
نسل مرزا الغ بیگ، بایسنقر، محمد جقی، مریم سلطان، سعادت سلطان، قتلغ ترخان آغا
اخنگان میں گوہر شاد بیگم کی بہن گوہر تاج کا مقبرہ۔ مقام اخنگان، صوبہ خراسان رضوی، ایران

گوہر شاد سلطنت تیموریہ کے دوسرے فرمانروا شاہ رخ تیموری کی اہلیہ تھیں۔ وہ تیموری دورکی ایک با اثر اور اہم شخصیت غیاث الدین ترخان کی صاحبزادی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے خاندان کو ترخان کا خطاب بذات خود چنگیز خان نے دیا تھا۔ ہرات میں تیموری دربار میں انتظامی فرائض انجام دینے والے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر گوہر شاد نے تیموری سلطنت کے ابتدائی دنوں میں اہم کردار ادا کیا۔ 1405ء میں ان کی خواہش پر ہی تیموری سلطنت کا دارالحکومت سمرقند سے ہرات لایا گیا۔ کیونکہ گوہر شاد کا تعلق فارس سے تھا اس لیے اُن کے عہد میں فارسی زبان اور فارسی ثقافت سلطنت تیموریہ کا ایک اہم جُز بن گئی۔ ملکہ اور شاہ رخ نے فن، تعمیرات، فلسفے اور شاعری کے لیے عظیم خدمات انجام دیں جس کے نتیجے میں معروف فارسی شاعر جامی سمیت اُس وقت کے بہترین فنکار، ماہرین تعمیرات، فلسفی اور شعراء نے تیموری دربار کا رخ کیا۔ ہرات میں آج بھی تیموری طرز تعمیر کی چند نشانیاں موجود ہیں۔ 1447ء میں شوہر کے انتقال کے بعد گوہر شاد نے اپنے من پسند پوتے (الغ بیگ) کو تخت پر بٹھایا اور اگلے دس سالوں تک وہ دریائے دجلہ سے چین کی سرحدوں تک پھیلی اس سلطنت کی حقیقی حکمران رہی۔ 19 جولائی 1457ء کو 80 سال کی عمر میں انہیں سلطان ابو سعید کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔ گوہر شاد کا مزار ہرات میں اس کے قائم کردہ مدرسے کے احاطے میں واقع ہے جس کے مینار آج بھی سلامت ہیں۔ گوہر شاد نے 1418ء میں مشہد، خراسان میں ایک مسجد تعمیر کروائی تھی۔ فارسی و تیموری طرز تعمیر کا یہ عظیم شاہکار آج بھی مشہد میں ملکہ گوہر شاد کی یاد دلاتا ہے۔ خراسان میں ان کی بہن گوہر تاج کا مزار بھی واقع ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]