ہندی ماہ نامہ احساس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مفتی خالد ایوب مصباحی شیرانی {{{مضمون کا متن}}}

حوالہ جات[ترمیم]

Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔

تاریخی نام:۔خالد ایوب خان مدنی شیرانی (۱۴۰۹ ؁ھ) عرفی و قلمی نام:۔خالد ایوب مصباحی تخلص:۔ شفق ؔ شیرانی۔ نسب:۔خالد ایوب بن خلیل احمد بن عمر خاں بن پیارو خاں بن دین دار خاں بن صلو خاں بن پیرخاں (شیرانی پٹھان) خاندانی حالات:۔’’شیرانی‘‘پٹھانوں کا ایک نہایت قدیم قبیلہ ہے جو صوبہ سرحد بلوچستان اور کوہ سلیمان کے گردو نواح میں آباد ہے۔ انتظامی لحاظ سے اس وقت ضلع ژوب اور تحصیل شیرانیاں کے تحت ہے۔یہ قبیلہ شجاعت میں بڑا مشہور رہا ہے اسی وجہ سے حملہ سومنات کے وقت محمود غزنوی اپنے ساتھ اس کے چند سپاہیوں بھی لائے تھے ۔ سلطان کے حکم سے راستے میں جا بجا فوجی چوکیاں قائم ہوئیں۔ چوں کہ راستہ ملتان، ناگور، اجمیر اور نہروالا ہوتا ہوا تھا اس لیے ایک چوکی مارواڑ کے صحرا میں بھی قائم ہوئی جہاں اس وقت ناگور ضلع کا قصبہ بڑی کھاٹو واقع ہے ۔ وہاں سے کچھ لوگ نقل مکانی کر کے چھوٹی کھاٹو آئے اور آخر میں اٹھارہویں صدی کے وسط میں انھوں نے چھوٹی کھاٹو سے متصل ایک ویرانے میں اپنی نئی آبادی قائم کی جسے اب ’’شیرانی آباد‘‘ کہا جاتا ہے۔ الحمد للہ علی احسانہ سب کے سب لوگ سنی صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ علما کی خاصی تعداد ہے۔ مشایخ اہل سنت کی مسلسل آمد و رفت رہی ہے۔ مفتی اعظم راجستھان کا منظور نظر قصبہ رہا ہے۔

           خاندان میں دیانت کا عنصر شروع سے رہا۔ بالخصوص خاندان کی روح رواں جدہ محترمہ مرحومہ حجن سائرہ بیگم اپنی الگ شناخت رکھتی تھیں۔باضابطہ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود کنز الایمان اور تفسیر خزائن العرفان کے واسطے سے معارف قرآن پر ان کی بڑی گہری نگاہ تھی۔ اوراد و ظائف، اعتکاف، صیام شوال، چاشت اور دیگر امور خیر  کی بڑی پابند تھیں۔ مزاج میں ہمیشہ فقر رہا۔  کبھی سونا زیب تن نہیں کیا۔ کسی بیماری میں ڈاکٹروں سے مراجعت نہیں کی۔ جب بھی بیمار ہوتیں ، اوراد و وظائف اور اذکار کا سہارا لیتیں۔فاسق بالخصوص داڑھی منڈے لوگوں سے بے حد بیزار رہتیں اوربڑی جرأت و غیرت انگیزی کے ساتھ  منہ پر زجر و توبیخ فرماتیں۔ جس کو دعائیں دے دیتیں، اس کی بگڑی بن جاتی تھی۔ فقیر خالد ایوب کو بارہا ان کی مخصوص دعائیں ملیں۔ زیارت حرمین کے بعد ذکر حرمین ان کا محبوب مشغلہ ہوگیا تھا۔ انصاف پسند ایسی تھیں کہ پورے لمبے چوڑے کنبے میں ان کی دھاک تھی۔ جو بات حق ہوتی بلا خوف لومۃ لائم کہتیں۔ ان کی جاں کنی کا عالم واضح طور پر ان  کے صلاح و تقوی کا غماز تھا۔ نماز عشا اور اوراد و وظائف سے فراغت کے بعد تازہ وضو کیا، بستر پر لیٹیں  اور بغیر کسی پیشگی بیماری بلکہ  شبہ بیماری کے بلند آواز سے کلمہ طیبہ پڑھ کر جان جاں آفریں کے حوالے کر دی۔    
           فقیر کے والد محترم الحاج خلیل احمدخاں  دیانت پسند، صوم و صلاۃ کے انتہائی پابند، حق بیاں اور بے حد  جفاکش انسان ہیں۔ صحت قرآن خوانی پر بے حد توجہ دیتے ہیں ۔ فقیر کو قرآن پاک اور اردو کی تعلیم انھوں نے ہی دی۔ انداز تعلیم یہ ہوتا  کہ تمام اسباق کی صحت پر مٹھائی سے ضیافت کرتے ۔اس طرح بڑی سبک روی کے ساتھ تعلیم کے ابتدائی مراحل طے ہو گیے اور ساتھ ہی نو سال کی عمر سے با قاعدگی کے ساتھ  نمازوں کا بھی پابند بنا دیا ۔ ان کی حسن تربیت کا ایک اہم حصہ معمولی معمولی باتوں پر گہری نگاہ رکھنا بھی تھا۔ صورت حال یہ تھی کہ گھر میں وہی چیز پکتی تھی جو فقیر کی خواہش ہوتی تھی۔وہ زمانہ یاد کرنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے اس وقت والدین نے  خود کو اولاد کا تابع فرمان بنارکھا ہو، خدا کرے اولاد تا دم حیات خادم بنی رہے۔ 
           والدہ ماجدہ بسم اللہ خانم نے چوں کہ یتیمی میں  پرورش پائی تھی، والدین کا سایہ عاطفت بہت پہلے اٹھ چکا تھا ، اس لیے تعلیم کا تو کوئی قابل ذکر معیار نہیں رہا البتہ مزاج دین دارانہ رہا۔ نا خواندہ ہونے کے باوجود اسلامی تاریخوں ، حساب و کتاب اور دیگر معاملات میں بڑی پختہ واقع ہوئی ہیں۔ مزاج میں بلا کا انصاف ہے۔پائی پائی کا حساب۔ بچے بچے کا خیال۔امور خانہ داری کے ساتھ  دست کاری  میں ید طولی حاصل ہے۔ ایک زمانے میں مدت تک بیمار رہیں۔ اس دوران فقیر کو والدہ کی خدمت کا بڑی زریں موقع ملا اور اسی وقت اسلامی تعلیم کا یہ فرمان  تجرباتی، یقینی اور عملی زندگی کا اٹوٹ حصہ بنا کہ والدہ کی کوئی دعااولاد کے حق میں رد نہیں ہوتی۔ فقیر اگرا ٓج  کسی لائق ہے تو اس میں والدہ کی دعاؤں کا کم سے کم نصف حصہ ضرور شامل ہے۔ اللہ رب العزت ان عظیم ہستیوں کا سایہ شفقت بالخیر دراز فرمائے۔ فرب ارحمہما کما ربیانی صغیرا۔

پیدائش:۔فقیر کی پیدائش ۹؍ ربیع الاول ۱۴۰۹ ؁ھ مطابق ۱۰؍ اکتوبر ۱۹۸۸ ؁ء بروز سنیچرحضرت عمر کالونی، صوفیہ محلہ، شیرانی آباد،تحصیل ڈیڈوانہ، ضلع ناگور شریف ، راجستھان میں ہوئی۔ تمام ڈوکومنٹ میں تاریخ پیدائش: ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۸۷ ؁ء درج ہے۔ تعلیم :۔ ابتدائی تعلیم یعنی قرآن پاک، اردو اور نقل و املا والد محترم الحاج خلیل احمد صاحب سے حاصل کی۔اور اعلی تعلیم کے لیے۲۵؍ جنوری ۲۰۰۱ ؁ء مطابق ۲۹؍ شوال ۱۴۲۱ ؁ھ بروز جمعرات جامعہ حنفیہ نجم العلوم ، مکرانہ میں داخلہ لیا جہاں درجہ اولی تا خامسہ شعبان ۲۰۰۵ ؁ءرہنا ہوا۔ پھر ایک سال یعنی ۲۰۰۶ ؁ء میں جامعہ اسلامیہ روناہی میں سادسہ پڑھی۔۲۰۰۷ ؁ ءسادسہ تا فضیلت ۲۰۰۹ ؁ءجامعہ اشرفیہ ، مبارک پور میں کسب علم کیا اور یہیں سے ۲۶؍ مئی ۲۰۰۹ ؁ء مطابق ۱؍ جماد ی الاخری ۱۴۳۰؁ھ بروز منگل۳۴؍ویں عرس عزیزی کے موقع پر سند و دستار فضیلت سے نوازا گیا۔ تعلیمی لیاقت:۔عالمیت: ۲۰۰۷؁ء۔فضیلت: ۲۰۰۹؁ء جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ۔بی۔ اے ۔فائنل: ۲۰۱۲؁ء اینڈ ایم ۔ اے ۔ فائنل: ۲۰۱۶ء مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی ، حیدرآباد۔منشی: ۲۰۰۷؁ء ۔مولوی : ۲۰۰۸؁ء ۔کامل: ۲۰۰۹؁ء۔ فاضل: ۲۰۱۴؁ء بورڈ آف عربک اینڈ پرسین اترپردیش۔ اساتذہ کرام:۔اساتذہ اشرفیہ:خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی ۔محدث جلیل علامہ عبد الشکور مصباحی۔ مولانا اسرار احمد اعظمی۔نصیرت ملت مولانا نصیر الدین عزیزی ۔ محقق مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی ۔ مفتی معراج القادری ۔ مولانا نفیس احمد مصباحی ۔مولانا صدر الوری قادری۔ مفتی نسیم احمدمصباحی۔مفتی بدر عالم مصباحی۔مولانا عبد الحق رضوی ۔مولانا اختر کمال قادری۔ اساتذہ روناہی:۔ شیخ المعقولات مفتی شبیر حسن رضوی ۔ مولانا وصی احمد وسیم صدیقی ۔مولانا بخش اللہ قادری۔مولانا ایوب عالم رضوی۔مولانا جنید نعیم بستوی۔مولانا بیت اللہ قادری۔ اساتذہ مکرانہ:۔ مولانا شمس الدین قادری۔مولانا رضوان احمد قادری مصباحی۔مولانا سجاد عالم مصباحی۔ مولانا حیات اللہ مشاہدی مصباحی۔ مولانا عبد الرحیم مصباحی۔مولانا ادریس رضا علیمی ۔مولانا غلام ربانی مصباحی۔ مولانا امتیازعالم علیمی۔دامت برکاتہم العالیہ۔ تدریسی خدمات:۔٭جامعہ حنفیہ نجم العلوم، مکرانہ۔ ۱۰؍ شوال ۱۴۳۰؁ ھ بروز بدھ تا۱۴؍ شعبان ۱۴۳۲ ؁ھ ٭رمضان ۱۴۳۲ھ تا رمضان ۱۴۳۴ھ عالمی تحریک: سنی دعوت اسلامی، شاخ: جے پور٭ معا:دار العلوم اہل سنت رضویہ، گھاٹ گیٹ، جے پور ۱۰؍شوال ۱۴۳۲؁ھ تا شعبان۱۴۳۳؁ھ۔٭ ۹؍ شوال۱۴۳۴؁ھ تا ۱۲؍ شعبان المعظم ۱۴۳۶ھ جامعہ اشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ، یوپی۔ ٭ رمضان المبارک ۱۴۳۶ھ تا دم تحریر دوبارہ عالمی تحریک: سنی دعوت اسلامی، شاخ: جے پور٭ قومی صدرات: مسلم اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا ۳۰؍ جولائی ۲۰۱۶ء بروز سنیچر بمقام دہلی۔ خدمات:۔عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی شاخ راجستھان کی نگرانی ۱۴۳۲؁ھ تا ۱۴۳۴؁ھ ۔٭مسلم اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا کی آل راجستھان صدارت ۲۰۱۱؁ء تا ۲۰۱۴؁ء ۔٭ اصلاح معاشرہ کے لیے قادری اکیڈمی ، مکرانہ کی بنیاد ۔٭ مجلس فکر و اصلاح، شیرانی آباد کی بنیاد۔ ٭اردو سال نامہ ’’ احساس‘‘ کا اجرا: ۱۷؍ جولائی ۲۰۱۰ ؁ء مطابق ۴؍ شعبان ۱۴۳۱ ؁ھ بروز سنیچر بموقع ’’چوتھی سہ سالہ سنی تعلیمی کانفرنس ‘‘شیرانی آباد۔٭ ہفتہ واری ’’درس قرآن‘‘ آمیر، جے پور کا آغاز: ۹؍ مارچ ۲۰۱۲؁ء ۔٭ہفتہ واری ’’درس بخاری‘‘ امرت پوری، گھاٹ گیٹ، جے پور کا آغاز: ۱۲؍ مارچ ۲۰۱۲؁ء ۔٭ ہفتہ واری ’’درس فقہ‘‘ قریشیان مسجد، چاند پول، جے پور(تقریبا سال بھر)۔ ٭حضرت مفتی اعظم راجستھان علیہ الرحمہ کے عرس چہلم کے موقع پر ۱۷؍ نومبر ۲۰۱۳ ؁ء بروز اتوار رسالہ ’’احساس‘‘جے پور کا بطور ہندی ماہ نامہ اجرا۔٭ عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی کی جے پور شاخ کے تحت مفتی شہر جے پور مفتی عبد الستار صاحب رضوی کی سرپرستی میں ’’سنی دار الافتا‘‘ کا قیام ۔٭سوشل میڈیا کے توسط سے اسلامی پیغام کی تعمیم کے لیے معروف سائٹ وہاٹس ایپ پر ’’آن لائن مفتی‘‘ گروپس کی ایڈمنیننگ جس کے تحت اس وقت چار گروپس ہیں اور بے حد کامیاب ہیں ۔٭رمضان المبارک میں شہر جے پور میں ’’شبینہ مجالس‘‘ کا قیام جن میں نوجوانوں کی اصلاح اور بالخصوص تقلید کے تعلق سے سنجیدہ تفہیم ہوتی ہے جس کے نتیجے میں کئی وہ نو جوان جو عدم تقلید کی راہ پر جا رہے تھے ، راہ حق پر گام زن ہوئے۔ ٭ رمضان المبارک میں تین الگ الگ مسجدوں میں بالترتیب بعد نماز عصر، عشا اور قبل فجر’’تفسیر قرآن‘‘ کا اہتمام۔ تحریری خدمات:۔فقیر کے تحریری کاموں کی چند نوعیتیں ہیں۔ (ا) مستقل تصا نیف۔ (ب) ترجمہ، تسہیل، تجدید، تحشیہ۔ (ج) ہندی ترجمہ کاری۔(د ) غیر مقلدین کے رد میں (ھ)اردو مضامین۔(و) ہندی مضامین۔ (ز) عربی مضامین۔ مستقل تصانیف:۔(۱) حکمت کے سرچشمے (مختلف موضوعات پر چالیس جوامع الکلم کی فکری و ادبی شرح)۔ (۲)عید میلاد النبی ﷺ۔(۳)فلسطین اور مسجد اقصی کی حالت زار اور ہماری غفلت۔(۴) دلیل المحتاج لمزید انوار صلاۃ التاج ۱۴۲۹ھ ۔ (درود تاج کی عربی شرح جس کو حضور خیر الاذکیا نے سماعت فرما کر اصلاح فرمائی اور یہ تاریخی نام بھی تجویز فرمایا۔ یہ کام دوران طالب علمی کا ہے)۔ (۵)کرنے کے کام (جذبہ کار رکھنے والے افراد کے لیے چند اہم اور ممکنہ تدابیر )۔(۶) تفسیرسورہ فاتحہ (اردو ؍ ہندی)۔(۷) نغمہ نعت (نعتوں کا مجموعہ)۔ (۶) نسبت کی بات (منقبتوں کا مجموعہ)۔ (۷)پرواز تخیل (نظموں کا مجموعہ)۔ (۸) حضرت رابعہ بصریہ ۔(۹) امام احمد رضا اور رد آریہ۔ (۱۰)ایمانی کہانی قرآن کی زبانی۔(۱۱)منتخب احادیث۔(۱۲) بھکاری پن اور اسلام۔(۱۳) عزیز طلبہ!۔ (۱۴) تین طلاقیں تین یا ایک؟ (۱۵) جن پر لعنت ہے (ملعون کاموں سے متعلق چہل احادیث )۔(۱۶) آن لائن مفتی، حصہ اول ۔(۱۷) دھڑکتا دل۔ (۱۹) طریق مصطفیٰ۔ اول الذکر تینوں کے علاوہ باقی سب غیر مطبوعہ ہیں۔ ترجمہ، تسہیل، تجدید، تحشیہ:۔علامہ عبد الرحمن جوزی متوفی ۵۹۷؁ھ کی (۱) فضائل القدس اور (۲) ’’کتاب الاذکیا‘‘ کا نا مکمل اردو ترجمہ۔(۳) ’’افاضات حمید‘‘ کی تسہیل۔(۴) پروفیسر مسعود احمد مجددی علیہ الرحمہ کی ’’محبت کی نشانی‘‘ کی تسہیل و تحشیہ۔ ہندی ترجمہ کاری:۔ دسمبر ۲۰۱۴ء سے تا دم تحریرمستقل ہندی ماہ نامہ ’’احساس ‘‘ جے پور کی ادارت۔ درج ذیل کتب و رسائل کی تسہیل اور ان کا ہندی ترجمہ: (۱) تمہید ایمان (۲) تدبیر فلاح و نجات و اصلاح (۳) مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد ۔از: اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ ۔ (۴) فقہ حنفی میں حالات زمانہ کی رعایت ۔ از: محقق مسائل جدیدہ حضرت مفتی محمد نظام الدین صاحب قبلہ رضوی۔ (۵) سعودی جانے والوں کے نام ایک پیغام۔از:مولانا سید رکن الدین اصدق (۶) یہودیت و صیہونیت : ایک جائزہ ۔ از: مولانا سید سیف الدین اصدق ۔ (۷) قرآن کی سات نصیحتیں۔ از: مولانا عبد القدیر قادری ، محبوب نگر ، آندھرا پردیش۔ (۸) نکات القرآن۔از: مولانا احمد رضا مصباحی ، بمبئی۔ (۹) گلزار قدس۔ از: مولانا حبیب اللہ بیگ ازہری استاذ: جامعہ اشرفیہ ،مبارک پور۔ (۱۰) احسن الوعا لآداب الدعا ۔ از: علامہ نقی علی خاں علیہ الرحمہ ۔ ہنوز جاری ہے۔ (۱۱) شمائل ترمذی ۔از: امام محمد بن عیسی ترمذی متوفی ۲۷۹؁ھ ۔ (۱۲)’’ارشاد الحیاریٰ فی تحذیر المسلمین من مدارس النصاریٰ‘‘ از: علامہ شیخ یوسف بن اسمٰعیل نبہانی ﷫۔ اردو ترجمہ بنام: مشنری اسکولوں میں مسلم طلبہ کا انجام۔از: مولانا فیض اللہ مصباحی ہزاری باغ۔ علاوہ ازیں فتاوی رضویہ ، بہار شریعت، دیگر اسلامی کتب و رسائل اور علماے اہل سنت کے چیدہ چیدہ درجنوں مسائل ، تحقیقات اور مضامین کو آسان ہندی لہجے میں منتقل کرکے ماہ نامہ احساس کے واسطے سے عوام اہل سنت تک رسائی۔ اردو مضامین:۔ (۱)خیر الاذکیا علامہ محمد مصباحی: ایک جھلک۔ (۲) ملک العلما امام احمد رضا کی نظر میں۔ (۳) مولانا محمد حنیف خاں رضوی شیرانی: حیات و خدمات ۔ (۴)اذان قبر کیوں اور کیسے ؟۔ (۵) حضرت نظمی مارہروی کی نعتیہ شاعری۔ (۶) حضرت رضا اور نظمی: غیر معمولی عقیدت و یکسانیت۔ (۷) ہائے ! یہ علاقائیت کا عفریت۔ (۸) اب سیاست ، سیاست ہی کہاں؟۔(۹) مدارس اسلامیہ کا سیاسی کردار۔ (۱۰) باپ کا علم بیٹے کو گر نہ آئے۔ (۱۱) مدارس اسلامیہ کا منصفانہ جائزہ۔ (۱۲) شخصیت سازی کیوں کر ممکن ہے؟ (۱۳) بین الاقوامی کرکٹ کی نوازشیں۔ (۱۴) قرآن کا اسلوب بیان اور معجزانہ شان۔(۱۵) انگلش میڈیم اسکول: وقت کا تقاضا اور تبلیغ کا ذریعہ۔ (۱۶) دیکھومجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو(ٹرین کے تعلق سے ادبی مضمون)۔ (۱۷) طائر فکر کی حد پرواز۔ (۱۸) مدارس اسلامیہ میں عملی فقدان۔(۱۹) امام احمد رضا کی شان ۔ (۲۰) سید العلما سید حامد اشرف الجیلانی ۔(۲۱) پردیسی ملازمت کتنی مفید ، کتنی مضر؟ ۔(۲۲) تف! یہ ظالم بڑھاپا۔ (۲۳) شادی کی صحیح عمر۔ (۲۴) ایک مضمون اسکولوں پر۔(۲۵) متمول طبقے سے دو بات۔ (۲۶) دل و نفس کی تو تو میں میں۔ (۲۷) اسلام اور پیغمبر اسلام مستشرقین کی نظر میں۔ (۲۸)اعلی حضرت کے تعلق سے ایک غلط فہمی کا ازالہ (کیا آپ دونوں سے لکھتے تھے؟)۔ (۲۹) اردو زبان کی عام غلطیاں۔(۳۰) سنی تبلیغی جماعت کا تعارف۔ (۳۱) آداب سوال۔ (۳۲) انسان قرآن کی روشنی میں۔ (۳۳) صحابہ کی محبت رسول : ایک حدیث کی روشنی میں۔(۳۴) حضرت صدیق کے لیے اجازت دفن۔ (۳۵) حضرت عیسی علیہ السلام۔(۳۶) ذکر بالجہر اور ہماری روش۔ (۳۷) روڑ جام کرنا۔(۳۸) کلک رضا کایہ بھی ایک پہلو ہے(اعلی حضرت کی نرم خوئی)۔ (۳۹) مزاروں پہ حاضری کے آداب۔(۴۰) نکاح : سنت رسول یا رسم دنیا؟ (۴۱) ہاے!مدینے کے شیخ احمد کا خواب۔(۴۲) ویدک مذہب پر عمومی سوالات۔ (۴۳) توشہ شریف۔(۴۴) آداب نماز۔ (۴۵) اصحاب کہف۔(۴۶) حلال جانور کے حرام اعضا۔(۴۷) مدارس کی فادیت کے چند تاب ناک پہلو۔(۴۸) جے پور لٹریچر فیسٹیول ایک تجزیہ۔ (۴۹) بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ اور ہم۔ (۵۰) وقت کی بربادی کے اسباب۔ (۵۱) آنکھوں کی فن کاری۔(۵۲) احکام مسجد۔ (۵۳) اختر شیرانی کا عشق رسول۔ (۵۴) بیوی سے دوری کب تک جائز ہے؟ (۵۵) علماے دیوبند کا علم غیب۔ (۵۶) مجبور نبی کے مختار امتی۔ (۵۷) ہدایۃ النحو کا خاکہ۔(۵۸) جذبہ اصلاح۔(۵۹) عربی زبان میں شیر کے نام۔ (۶۰) لفظ ’’علامہ‘‘۔(۶۱) در در پہ آویزاں ’’اللہ ۔ محمد‘‘۔(۶۲) یہ القاب کی خیالی جنت۔ (۶۳) صحت قرآن خوانی کا عمومی فقدان۔ (۶۴) افکار و نظریات۔ (۶۵) خانقاہی، خانقاہیں اور خانقاہیت۔ (۶۶) کار تردید: مفہوم و انداز۔ (۶۷) اکیسویں صدی او رمدارس کی تعلیمی پوزیشن۔ (۶۸) صحبت کافیضان۔ (۶۹) موبائل کی کرشمہ سازیاں۔(۷۰) ہاے! یہ مسئلہ قیادت۔ (۷۱) خلافت یا کھلی آفت۔ (۷۲) فتوی کیا تھا ،کیا ہو گیا۔ (۷۳) عمل پیہم۔ (۷۴) سود سے بلا کی صورت جھوجھتا معاشرہ ۔ (۷۵) درجہ معلمی۔ (۷۶) عجب نرالا طور ہے ، عجب نرالا ڈھنگ ہے۔ (۷۷) تحفظ نسواں کے نام پر۔ (۷۸) داستان پارینہ بنتا علم میراث: ذمہ دار کون؟(۷۹) علم کی نیلامی کا دور۔ (۸۰) نیند کی عظمت۔ (۸۱) مصلی امامت۔ (۸۲) فیشن ایبل امامت۔ (۸۳) اسلام کا درس وحدت۔ (۸۴) ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانے کا خواب۔ (۸۵) جنس پرستی میں برطانیہ کی ڈگر پر جاتا ہمارا بھارت۔ (۸۶) یہ پیارکے رشتے ، اب دنیا بھگتے۔ (۸۷) وقت کی کمی کا رونا، آخر تا بکے؟ (۸۸) پرانی پیمائشوں کی نئی اصطلاحات۔ (۸۹) تجدیدات رضا۔ (۹۰) آداب زندگی۔(۹۱) مسعود ملت: چند تابندہ نقوش حیات۔ (۹۲)با فیض افراد عنقا کیوں؟۔ (۹۳) آداب مسجد: فقہ و حدیث کی روشنی میں۔ (۹۴) آداب نعت۔ (۹۵) آداب جلوس محمدی۔ (۹۶) جامعہ اشرفیہ کے امتیازات۔(۹۷) ارکان اسلام۔ (۹۸) امام احمد رضا خاں کے امتیازات۔ (۹۹) امام احمدرضا خاں عبقری الہند۔ (۱۰۰) انٹرنیشنل تیوہار:حقوق اور تقاضے۔ (۱۰۱) اہل سنت کےکچھ اصلاح طلب پہلو۔(۱۰۲) جماعت کا مرثیہ:کیا یہ اکابر ہیں؟ (۱۰۳) بانی خانقاہ رشیدیہ: شخصیات ساز شخصیت۔ (۱۰۴) نبی کی ضرورت اور قدموں کی برکت۔(۱۰۵) قوت حافظہ کے لیے حدیث سے عمل۔ (۱۰۶)دلالی کا مسئلہ۔ (۱۰۷) رفتہ رفتہ تھیلے سے باہر ہوتی سعودی بلی(انہدام گنبد خضری سے متعلق)۔ (۱۰۸) زیارتِ سرکار ﷺ کا وظیفہ۔ (۱۰۹) خلافت راشدہ۔(۱۱۰) اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے۔(۱۱۱)’’شہید بغداد‘‘اور سوشل میڈیا۔(۱۱۲) مجاہد آزادی علامہ فضل حق خیر آبادی کو سزا آخر کب تک؟(۱۱۳) کل محرمات کتنی ہیں ؟ (۱۱۴) آج کی عوام کے لیے عنوان اور معیار خطابت کیا ہونا چاہیے؟ (۱۱۵) مفتی شہر جے پورکی خدمات: پس منظر اور پیش منظر ۔(۱۱۶) ملفوظات صوفیہ ادب ہی کا نہیں، انسانیت کا سرمایہ ہیں۔ (۱۱۷)موبائل فون کے آداب۔(۱۱۸) دعا کا قرآنی تصور۔ (۱۱۹) عشق رسول کیوں کرپیداہو؟ (۱۲۰) اردو بحروں کا خلاصہ۔ (۱۲۱) اسلام اورحرمت انسانیت۔(۱۲۲) پردہ ضرورت سے مجبوری تک۔(۱۲۳) یہ امت خرافات میں کھوگئی۔(۱۲۴) امام احمدرضاامام نعت گویاں۔ (۱۲۵) طلبہ کیاکریں؟۔(۱۲۶) تلاش رزق۔(۱۲۷) اسلامی اخلاق وآداب۔(۱۲۸) دانہ اور انسان۔ (۱۲۹) وہ شرمیلاپن گاؤں کا۔ (۱۳۰) ایک مبہم مضمون۔ (۱۳۱) امت مسلمہ کی قیادت اور ائمہ کا کردار۔ (۱۳۲) عربی عبارت کیسے حل کریں؟ (۱۳۳) رمضان المبارک: احادیث کی روشنی میں ۔(۱۳۴) قلندری مسجد کا مسئلہ۔ (۱۳۵) حضور ﷺ کی بچوں سے محبت۔ (۱۳۶)شاہ مچھر میاں: خدمات و عنایت (مزاحیہ) (۱۳۷) گرمی کا موسم اور میں۔ (۱۳۸) ہمارا دائرہ اثر اور مسلکی خوش فہمیاں۔ (۱۳۹) ہندوستانی زبانوں کی سسکیاں آخر کب تک؟ (۱۴۰) سیاست کو مسلمان بنانے کا وقت۔(۱۴۱) اپنے وجود کو تلاش کیجیے۔ (۱۴۲) سقوط مسلم کا کچھ یوں ہی تو نہیں ۔ (۱۴۳)شہر جے پور کی سنیت :تجزیہ۔ (۱۴۴) عید کا چاند یا قومی مذاق؟ (۱۴۵) افسوس! یہ گاؤں کی درگت۔(۱۴۶) حضور وجہ تخلیق کائنات ہیں۔(۱۴۷) عجب گاؤں کے غضب حالات۔ (۱۴۸) شیرانیوں پر اشفاق کی شفقتیں۔ (۱۴۹) اذان: داخل مسجد یا خارج مسجد؟ (۱۵۰) شبینہ مدارس اور تعلیم بالغاں کا نصاب۔ (۱۵۱)حج کے چند ضروری مسائل۔ (۱۵۲) پانی اسلام کی نظرمیں۔ (۱۵۳) تعلیمات رسول اور مفلوج طبقہ۔ (۱۵۴)سورہ سبا کا سرسری مطالعہ۔ (۱۵۵) زکات کے ضروری مسائل۔(۱۵۶) کچھ ضروری مسائل: فتاوی رضویہ کی روشنی میں۔ (۱۵۷) پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔(۱۵۸) میری دادی جان۔ (۱۵۹) زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ؟ (۱۶۰) نعتیہ شاعری کی حد بندیاں۔ (۱۶۱) اقتدا کے مسائل۔ (۱۶۲)حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام۔ (۱۶۳) اجابت نے جھک کر گلے سے لگایا۔ (۱۶۴) اسلام میں عورت کا مقام۔ (۱۶۵) زحافات کا جدول۔(۱۶۶) آہ! صلاحیتیں ۔ (۱۶۷)اقامت کے وقت کب کھڑے ہوں؟ (۱۶۸)فیس بک اور وہاٹس ایپ کا استعمال کتنا مفید، کتنا مضر؟ (۱۶۹) جی ہاں! یہ بھی فرض ہے(میراث کے تعلق سے)۔ (۱۷۰)جدید ایجادات میں قرآن کریم بھرنے اور اسے چھونے وغیرہ کے احکام۔(۱۷۱) فقہی فروعی اختلافات کی شرعی حیثیت۔(۱۷۲) لیجربک پر رقوم کا اندارج قبضہ ہے یا نہیں؟ (۱۷۳) اردو تراجم قرآن کو دوسری عجمی زبانوں کے رسم الخط میں لکھنے کا حکم۔ (۱۷۴) ضروریات دین اور ضروریات مذہب اہل سنت کی وضاحت۔(۱۷۵) پیر ہاشم علی کی شخصیت۔ ہندی مضامین :۔ (۱) نکاح کے ضروری مسائل۔ (۲)غیر مقلدین کاا صلی چہرہ۔(۳) پٹھانوں کا علمی اتہاس۔(۴) جنگ بدر۔ (۵) ماہ محرم: فضائل، مسائل اور کرنے کے کام۔ (۶)ہر سوال کا ایک ہی جواب۔ (۷)یہ ساس بہو کا جھڑا۔(۸) آلسا (لالچ)۔ (۹) شکشا مانوتا کی سفلتا۔(۱۰) پردیس کی نوکریاں۔ غیر مقلدین کے رد میں:۔(۱) ابن تیمیہ کا تعارف۔ (۲) ادھر کی باتیں ادھر فٹ کرنے والے۔ (۳) الزام شرک دینے والو، دیکھو! (۴) کیا امام اعظم مرجئہ تھے؟ (۵) علم غیب پر کھلی حدیثیں، کھلا چیلنج۔ (۶) آمین بالجہر کا مسئلہ۔ (۷) ناف کے نیچے یا سینے کے اوپر؟ (۸) مسئلہ اقامت : احادیث کی روشنی میں (۹)تشہد میں انگلی ہلانا۔ (۱۰) تعویذ شرک یا مباح؟ (۱۱) درود پاک پڑھنے والا ۔ (۱۲) رفع یدین: حقیقت کیا ہے؟ ۔(۱۳) علم غیب پر ایک شان دار فتوی۔(۱۴) فاتحہ کا کھانا۔ (۱۵) فتنوں کی زمین نجد یعنی آج کا ریاض ہی ہے۔(۱۶) فضائل رجب المرجب: بحوالہ: فضائل الاوقات للبیھقی۔(۱۷) شب براءت: حدیثوں کی روشنی میں۔ (۱۸) تقلید کا مسئلہاور سعودیہ عربیہ۔(۱۹) یزید اور غزوہ قسطنطنیہ۔ (۲۰) معراج مصطفی ﷺ خواب میں بھی حقیقت میں بھی۔ (۲۱) مغرب سے پہلے نوافل کا مسئلہ۔ (۲۲) قرآن کا جشن میلاد۔(۲۳)’’ اولوا لامر‘‘ کون ہیں؟ (۲۴) يا محمداه۔ (۲۵) اہل حدیث، حدیثوں سے جواب دیں! (۲۶) تعویذ: حدیثوں کی روشنی میں۔(۲۷)ماہ شعبان المعظم: احادیث کی روشنی میں۔ (۲۸) آج کے خوارج کون :حدیث کی روشنی میں۔ عربی مضامین:۔(۱) المفتی الأعظم :شخصیتہ الفذۃ و ماٰثرہ الکرام۔(۲) ماذا نصنع فی ھٰذا الشھر الحرام (المحرم)؟ (۳) نقائص المجتمع المنتشرۃ: بیانھا و حلھا۔(۴) مکانۃ الاولیاء الکرام ۔(۵) طراز الاعلام العصبیۃ و مسئولیاتنا الصحفیۃ۔ (۶) مکانۃ الوقت فی ضوء الاسلام۔ (۷) المنھاج النبوی فی الدعوۃ الی اللہ تعالی۔ (۸) ھل یجوز للمحرم النکاح أم لا؟ (۹) یا اسفی! علی ضیعۃ الادب۔

           ماہ نامہ ’’احساس ‘‘ کے اداریے ، مختلف کتب و رسائل پر  تقریظات و تقدیمات، کتابوں پر تبصرے ،  کئی سو  فتاوی ،طلبہ کے لیے  مکالمات، خطبات، سفر نامے،  خطوط اور درسی مباحث وغیرہ ان کے علاوہ ہیں۔

بیعت:۔دوران تعلیم مکرانہ میں تاج الشریعہ حضرت علامہ اختر رضا خاں قادری ازہری دام ظلہ کے ہاتھوں شرف بیعت حاصل ہوا۔ خلافت:۔ شیخ الاسلام حضرت علامہ سید محمد مدنی میاں اشرفی الجیلانی دام ظلہ ۔ اجازت قرآن و حدیث و فقہ:۔اجازت و سند حدیث: علامہ عبد الشکور شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ، مبارک پور ۔ و۔ علامہ محمد احمد مصباحی صدر المدرسین جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور۔ اجازت و سند فقہ: مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ، مبارک پور۔ اجازت و سند قرآن کریم و احادیث نبویہ : مفتی محمد نظام الدین رضوی صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ ، مبارک پور۔