انٹرنیٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(جالبین سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یہ مضمون بطور خاص جالبین کے بارے میں ہے، دیگر جالکاری تصوّرارت کیلئے شمارندی جالکاری اور جالبینی جالکاری کے صفحات مخصوص ہیں۔
جالبین کا عوامی استعمال۔

جالبین یا انــٹــرنــیــٹ (انگریزی: Internet) ، باھم مربوط شمارندوں کا ایک عالمی جال (شمارندی جالِکار (Computer Network)) ہے جو کہ عوامی یا اجتماعی سطح پر ہر کسی کے لئے قابل دسترس و رسائی ہے۔ شمارندوں کا یہ جال یا نظام جالبینی دستور (internet protocol) کا استعمال کرتے ہوئے رزمی بدیل (packet switching) کے زریعے سے مواد (data) کو منتقل یا ارسال کرتا ہے۔ جالبین اصل میں خود لاتعداد چھوٹے چھوٹے جالاتِکار کا محموعہ ہے جو کہ علاقائی سطح پر پائے جاتے ہیں اور اسطرح یہ تمام یکجا ہو کر مختلف معلومات اور خدمات فراہم کرتے ہیں مثلاً برقی خط، گفتگو روئے خط (online chatting)، فائلوں کا تبادلہ و منتقلی، آپس میں مربوط ویب کے صفحات اور ایک عالمی دستاویزات کا نظام یعنی حبالہ محیط عالم ۔

لفظ ‘‘جالبین’’ کا انتخاب

لفظ ‘‘جالبین’’ انگریزی لفظ Internet کی معنی ہے. Internet اصل میں دو الفاظ International اور Network کی جوڑ و توڑ سے بنا ہے. International سے Inter اور Network سے Net کو ملانے سے Internet حاصل ہوتا ہے. اِسی طرح لفظ ‘‘جالبین’’ بھی دو اِصطلاحات ‘‘جالِ کار/جالکار’’ اور ‘‘بین الاقوامی’’ کی جوڑ و توڑ سے بنا ہے. جالکار سے جال اور بین الاقوامی سے بین آپس میں ملانے سے لفظ ‘‘جالبین’’ تشکیل پاتا ہے.

جالبین اور حبالہ

یہ بات قابل توجہ ہے کہ عام سمجھ کے برعکس ، جالبین اور حبالہ یا ویب (Web) آپس میں مترادف یا ہم معنی نہیں: جالبین دراصل آپس میں موبوط شمارندی جالاتِکار کا ایک مجموعہ ہے جن کو تانبے کی تاروں، بصری ریشوں (Optical fibers) اور لاسـلـکی یعنی بے تار رابطوں یا اتصالوں سے آپس میں جوڑا جاتا ہے؛ جبکہ حبالہ دراصل آپس میں مربوط دستاویزات کا ایک مجموعہ ہے جن کو وراۓمتن اور URLs کے رابطوں یا اتصالوں سے آپس میں جوڑا جاتا ہے۔ حبالہ (ویب) تک رسائی جالِکار (انٹرنیٹ) کی مدد سے کی جاتی ہے، اور اسی کے ساتھ ساتھ دیگر خدمات مثلاً برقی خط، اور ملفی شراکت (file sharing) تک بھی رسائی انٹرنیٹ سے ہی ممکن ہوتی ہے۔

تخلیق جالبین

سویت یونین کے منصوبہ اسپاٹ نیک نے امریکہ کو 1958 میں دوبارہ طرزیاتی برتری حاصل کرنے کے لئے ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجینسی /ARPA (جو بعد میں ڈیفینس ایڈوانسڈ ریسرچ پروجیکٹس ایجینسی کہلایا /DARPA) بنانے کی طرف راغب کیا۔ ARPA نے سیمی آٹومیٹک گراؤنڈ انوائرونمنٹ پروگرام کی تحقیق کے لئے ایک انفارمیشن پروسیسنگ ٹیکنالوجی آفس (IPTO) تخلیق کیا، جس نے پہلی بار ملک بھر میں پھیلے ہوئے ارسالوں کو ایک مشترک نظام میں مربوط کیا۔ J.C.R. Licklider کو IPTO کی راہنمائی کے لئے منتخب کیا گیا جس نے ایک عالمی نظام جالکاری (نیٹ ورکنگ) کی ضرورت کو محسوس کیا۔ لکلائڈر نے Laurence Roberts کو جالِکار (نیٹ ورک) کو عمل میں لانے کی ذمہ داری سونپ دی، روبرٹ نے Paul Baran کے کام سے استفادہ حاصل کیا جس نے نظام جالکار میں ترقی اور امکانات میں تیزی سے اضافہ کی خاطر circuit switching پر رزمی بدیل (packet switching) کو ترجیح دی تھی۔ خاصی تگ و دو کے بعد، 29 اکتوبر 1960 کو جامعہ کیلیفورنیا لاس انجلس (UCLA) سے براہ راست جاری ہوا جسکو ARPANET کہا گیا اور جو آج کے شبکہ یا انٹرنیٹ کی ابتداء کہا جاسکتا ہے۔

پہلا وسیع TCP/IP جالِکار (نیٹ ورک) 1 جنوری 1983 میں اپنا کام شروع کرچکاتھا جب امریکی قومی ادارہ برائے سائنس (NSF) نے ایک جالکارِ جامعہ (University Network) کا بنیادی ڈھانچہ تشکیل دیا جو کہ بعد میں NSFNet بنا۔ اور یہ تاریخ اکثر جالبین کی فنی تاریخِ پیدائش کہلائی جاتی ہے۔ اسکے بعد 1985ء میں جالبین کو کاروباری مقاصد کے لئے کھول دیا گیا۔ اور پھر دیگر اہم جالاتِکار مثلاً Usenet ، Bitnet ، X.25 اور JANET وغیرہ بھی USFNet میں ضم ہوگئے۔ Telenet (جو بعد میں Sprintnet کہلایا) وہ سب سے بڑا نجی سطح پر کام کرنے والا جالکار تھا جو کہ 1970 سے امریکہ کے شہروں میں سہولیات مہیا کررہا تھا یہ بھی TCP/IP کے مقبول ہونے کے بعد رفتہ رفتہ 1990 تک دوسروں کے ساتھ مدغم ہوگیا ۔ TCP/IP کی پہلے سے موجود ابلاغی شراکوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوجانے کی صلاحیت نے اس تمام کام کو بہت تیز رفتاری سے آگے بڑھایا۔ اور یہی وہ وقت تھا جب ایک عالمی TCP/IP جالِکار کو بیان کرنے کے لئے جالبین (اٹرنیٹ) کی اصطلاح مقبول ہوئی۔

جالِکار یا نیٹ ورک کو 1990ء کی دہائی میں اس وقت عوامی شناخت ملی جب یورپی تنظیم برائے مرکزی تحقیق (CERN) نے ٹـم بیرنر لی کے HTML ، HTTP اور پہلے صفحہ حبالہ کے منصوبوں کے دو سال بعد اگست 1991ء میں ورلـڈ وائـڈ ویـب کو عوامی سطح پر مشہور کیا۔

ابتدائی مقبول ہونے والا ویب براؤزر ، ViolaWWW تھا جو کہ ورق وراء (ہائپر کارڈ) پر بنیاد کرتا تھا۔ اسکے بعد موزیک نامی ویب براؤزر آیا جسکا پہلا نسخہ 1.0 ، قومی مرکز برائے فوق شمارندی نفاذ (National Center for Supercomputing Applications) نے جامعہ الینوئی (UIUC) میں 1993 میں جاری کیا اور 1994ء کے اوآخر تک یہ عوام کی بے پناہ دلچسپی حاصل کرچکا تھا۔ 1996ء تک لفظ انٹرنیٹ انتہائی مقبول ہوچکا تھا ، مگر اس لفظ سے عموماً مراد حبالہ محیط عالم ہوا کرتی تھی۔

اور ایک دہائی کے اندر انٹرنیٹ کامیابی کے ساتھ گذشتہ پائے جانے والے تمام شمارندی جالاتِکار (کمپیوٹرنیٹ ورکس) کو اپنے اندر سمو چکا تھا۔ چند ایک (مثلاً FidoNet) ہی ایسے تھے جو اپنا وجود الگ برقرار رکھے ہوئےتھے۔ انٹرنیٹ کی اس شاندار افزائش کی وجوہات، کسی مرکزی نگرانی کا نہ ہونا اور انٹرنیٹ پروٹوکولز کی غیرملکیت (non-proprietary) بیان کی جاتی ہے۔

آج کا جالبین

جالبین کو بنانے والی تحتی ساخت (انفرااسٹرکچر) کی پیچیدگیاں ایک طرف، بنیادی طور پر اِس کا انحصار دو یا کثیرفرقی کاروباری عہدناموں (مثلا کوئی ہم مرتب معاہدہ) اور طرزیاتی و فنی اختصاصات یا دستوروں پر ہوتا ہے جو یہ بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ایک جالِکار پر مواد (ڈیٹا) کا تبادلہ کیا جائے۔ یعنی فی الحقیقت ، انٹرنیٹ کا دارومدار ان بین الروابط اور تبادلوں کی حکمت عملیوں پر ہی ہے۔

امارہ عالم جالبین کے مطابق 30 جون 2006ء تک ایک ارب چار کروڑ سے زائد افراد جالبین تک رسائی حاصل کررہے تھے۔

جالبین کے دستور (Protocols)

جالبین کے قواعد و ضوابط ، جن کو دستور یا پروٹوکول کہا جاتا ہے کے تین درجات ہیں:

  • سب سے پہلا درجہ یا سطح IP کا ہے جو کہ ان مخطط مواد یا رزموں کا تعین کرتی ہے جو مواد کے قطعات (blocks) کو ایک عقدہ سے دوسرے عقدہ تک منتقل کرتے ہیں۔ آج کے شبکوں کی اکثریت IP دستور کا متن چہارم (IPv4) استعمال کرتی ہے۔ گو IPv6 کا بھی معیار مقرر ہوچکا ہے مگر ابھی تک اکثر ISP اسکو شناخت نہیں کرتے۔
  • اسکے بعد TCP اور UDP آتے ہیں جنکے زریعے ایک میزبان دوسرے کو مواد ارسال کرتا ہے۔ اول الذکر ایک طرح کا مجازی رابطہ بھی بنالیتا ہے جسکی وجہ اس پر انحصار نسبتا یقینی ہوتا ہے جبکہ آخر الذکر ایک بلا رابط دستور ہے جسکی وجہ سے ترسیل کے دوران ضائع ہوجانے والے رزمے دوبارہ نہیں بھیجے جاسکتے ۔
  • اور سب سے بالائی درجہ پر نفاذی دستور آتے ہیں جو کہ دراصل ان پیغامات اور مواد کی اقسام کا تعین کرتا ہے جو رابطہ کے دونوں سروں پر موجود کارگذار (applications) یعنی سوفٹ ویئر سمجھتے ہیں۔

پرانے ابلاغی نظامات کے برعکس انٹرنیٹ پروٹوکول سوٹ کو اس انداز میں بنایا گیا ہے کہ یہ استعمال کئے جانے والے جسمانی واسطے سے بے نیاز ہے اور ہر وہ ابلاغی جالکار (سلکی یا لاسلکی) جو دو طرفہ رقمی معلومات لے جاسکتا ہو انٹرنیٹ کا ٹریفیک لے جاسکتا ہے۔ لہذا اسی وجہ سے جالبین کے پیکیٹس ؛ وائرڈ نیٹ ورکوں ---- مثلاً تانبے کے تاروں، کوایکسیئل کیبیل ، بصری ریشہ (Optical Fiber) وغیرہ اور وائرلیس نیٹ ورکوں ---- مثلا Wi-Fi وغیرہ، دونوں پر باآسانی سفر کرتے ہیں کہ مشترکہ طور پر یہ تمام شراکے ایک ہی جالبین کے ایک ہی دستور کی پیروی کرتے ہیں۔

جالبینی دستور کا منبع دراصل انٹرنیٹ انجینئرنگ ٹاسک فورس (IETF) اور اسکے ورکنگ گروپس کے درمیان ہونے والے تبادلہ خیالات پر ہے، جو شمولیت اور تجدید نظر کے واسطے عوام الناس کے لیۓ کھلی دستاویز ہے یعنی یہ انجمنیں ایسی دستاویزات بناتی ہیں جو کہ جن کو ، ڈاکیومنٹس فار کمینٹس (RFCs) دستاویزات کہا جاتا ہے۔ ان میں سے جو مناسب ہوں انکو IETF انٹرنیٹ اسٹینڈرڈ کا درجہ دے دیتی ہے۔

دستور شبکی حزمہ میں چند انتہائی کثرت سے استعمال کئے جانے والے نفاذی دستورں میں، DNS ، POP3 ، IMAP ، SMTP ، HTTPS ، HTTPS اور FTP شامل ہیں۔ ان سب کی تفصیل کےلئے اور مزید دستوروں کے لیے ان کے مخصوص صفحات اور ان صفحات میں دی گئی فہرست دیکھئے ۔

کچھ دستور ایسے بھی ہیں جو کہ مندرجہ بالا IETF کے طریقہ کار سے نہیں بنے بلکہ انکی ابتداء کسی نجی یا کاروباری ادارے کے تجرباتی نظام کی صورت میں ہوئی۔ جو بعد میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے لگے اور اپنی ایک مستقل حیثیت اختیار کرگئے۔ ان کی مثالیں IRC اور دیگر انسٹینٹ میسیجنگ و ھمتا بہ ھمتا اشتراک ملف (peer-to-peer file sharing) ہیں۔

جالِبین کی ساخت

جالبین اور اسکی ساخت کی تجزیہ کاری کئی انداز میں کی جاتی رہی ہے۔ مثال کے طور پر، یہ تجزیہ کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ IP راؤٹنگ کی ترکیب اورورلڈ وائڈ ویب کے ہائپرٹیکسٹ لنکس دراصل اسکیل فری نیٹ ورکس ہیں۔ کاروباری شبکے ، انٹرنیٹ ایکسچینج پوائنٹس کے زریعے مربوط ہوتے ہیں، اور تحقیقی و علمی شراکوں میں بڑے ذیلی شراکوں کے ساتھ مربوط ہونے کا رجحان پایا جاتا ہے۔ مثلا

اگر ایک شبکی تخطیطی شکل کے طور پر ظاہر کیا جائے تو انٹرنیٹ کو ایک بادل سے تشبیہ دی جاتی ہے ، بادل کو سروس پرووائڈر تصور کیا جاتا ہے اور اس میں مختلف نیٹ ورکس یا تو داخل ہو رہے ہوتے ہیں (یعنی مواد اسمیں آرہا ہوتا ہے) یا پھر اس سے خارج ہو رہے ہوتے ہیں (یعنی مواد اس سروس پرووائڈر سے ارسال کیا جارہا ہوتا ہے)

شبکی جمیعت برائے متعین اسم و اعداد

  • تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: (ICANN)

شبکی جمیعت برائے متعین اسم و اعداد یا The Internet Corporation for Assigned Names and Numbers جسکا اوائل کلمات ICANN کیا جاتا ہے ، دراصل ایک ادارہ ہے جو کہ جالبین یا انٹرنیٹ پر ڈومین نیم، انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس ، پروٹوکول پورٹ اور پیرامیٹر نمبرز سمیت یکساں وسیلی شناختگروں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ جالبین کے درست طور پر کام کرنے کے لئے ایک یکساں اور عالمی فضائے نام (نیم اسپیس) کا ہونا لازمی ہے ، یعنی ہر پتے یا ہر مواد کی جگہ کا نام ایسا ہو جو کہ کسی دوسری جگہ نا پایاجاتا ہو۔ ICANN کا مرکزالقیادہ (headquarter) تو کیلیفورنیا میں ہے مگر نگہداری ؛ جالبین کے ماہرین ، تجارتکار، اور غیرتجارتکار حلقوں سے آنے والے مدیران (ڈائریکٹرز) کی ایک بین الاقوامی مجلس (بورڈ) کے زریعے کی جاتی ہے۔ ڈمین نیم کی سب سے بالائی اور اہم ترین سطح کی ملف (فائل)، منطقہ جذر (root zone) میں تبدیلیوں کی تصویب میں امریکی حکومت اہم عمل دخل رکھتی ہے، یہ ملف ، ڈومین نیم سسٹم کا قلب تصور کی جاتی ہے۔ انٹرنیٹ یا جالبین چوں کہ ایک منقسم جالکار ہے جو کہ آپس میں جڑے ہوئے مختلف ارادی یا رضاکار شراکوں پر مشتمل ہے ، لہذا مرکزی طور پر انٹرنیٹ پہ کسی حکمران یا نگراں ادارے کا تصور موجود نہیں۔ اور اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو صرف ICANN ہی وہ واحد ادارہ ہے کہ جسکو عالمی انٹرنیٹ پر ایک مرکزی عمل دخل رکھنے والا ادارہ کہا جاسکتا ہے، مگر اسکا اختیار شبکی نظام کے صرف ڈومین نیم ، انٹرنیٹ پروٹوکول ایڈریس ، پروٹوکول پورٹ اور پیرامیٹر نمبرز تک ہی ہے۔

16 نومبر 2005 کو ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائیٹی نے تیونس میں جالبین سے متعلق معاملات پر گفت وشنید کی خاطر ایک شبکی نگرانی دیوانخانہ (Internet Governance Forum) تشکیل دیا۔

حبالہ محیط عالم (World Wide Web)

اصل مقالہ: حبالہ محیط عالم

کلیدی تختے کے راستے، گوگل اور یاہو جیسے محرکۂ تلاش (سرچ انجن) استعمال کرتے ہوئے تلاش جالبین نے لاتعداد افراد کو بہ یک لخت معلومات کے عظیم ذخیرے تک پہنچا دیا ہے جو وہ اپنے شمارندے کے سامنے پیٹھے روئے خط (آن لائن) حاصل کرسکتے ہیں۔