جسام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
wikipedia:How to read a taxoboxHow to read a taxobox
جسام (mammoth)
سلسلۂ رکاز: ابتدائی عصر جدید تا Holocene
ایک کولمبیائی جسام کا ڈھانچہ


قـواعـد اسـم بنـدی
ساحہ:
domain
حقیقی المرکزیہ
مملکہ:
kingdome
حیوانات
جماعت:
class
پستانیہ
Mammalia
طبقہ:
order

Proboscidea
خاندان:
family
فیلخن
Elephantidae
جنس:
genus
جسامجنس
Mammuthus
انوع

جُسام (ج پر پیش کے ساتھ ؛ انگریزی mammoth) ایک قبل از تاریخ ناپید ہوجانے والے ہاتھی کو کہا جاتا ہے جو کہ جنس Mammuthus سے تعلق رکھنے والے جانداروں میں شمار ہوتا ہے۔ ان ہاتھیوں کے سامنے کے دانت یعنی انواب (tusks) خاصے طویل اور خمدار ہوا کرتے تھے۔ انکا عرصہ 48 لاکھ سال قبل تا 4،500 سال قبل تک کا بتایا جاتا ہے۔ mammoth کا اردو نام گو کہ فیل کبیر بھی آتا ہے لیکن لفظ ----- جسام ----- زیادہ بہتر ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ لفظ mammoth اپنی اصل الکلمہ میں تو مٹی کے معنوں میں ہے مگر آج کل جسیم ، نہایت بڑے اور باالفاظ دیگر جسام کے معنوں میں ہی رائج ہوچکا ہے۔ mammoth اصل میں روسی زبان کا لفظ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ روسی زبان کے اس علاقے سے آیا ہے کہ جو شمالی جانب ہیں اور وہاں فین و یوگری گروہ (Finno-Ugric) کی زبان میں maa کے معنی زمین کے بتاۓ جاتے ہیں ، اور اسی وجہ سے mammoth کا درست اور بنیادی نام پڑا کیوں کہ اس جاندار کی باقیات زمین کھود کر دریافت ہوئیں تھیں۔ جسام کا لفظ اختیار کرنے کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ یہ انگریزی کے ہم پلہ ایک یک لفظی کلمہ ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ جسام اردو میں (بطور خاص سائنسی مضامین میں) انفرادی طور پر لفظ واحد کی شکل میں آنے کا امکان نا ہونے کے برابر ہے اور بالفرض کہیں آ بھی گیا تو بطور مرکب کوئی ابہام پیدا نا کر سکے گا۔

جسام کی ہلاکت[ترمیم]

بال دار جسام اس نسل کی آخری قسم تھا۔ بال دار جسام کی زیادہ تر آبادی شمالی امریکہ اور یوریشیا میں برفانی دور کے آخری زمانے میں ہلاکت کا شکار ہوگئی۔ ماضی قریب تک یہ خیال تھا کہ بال دار جسام یورپ اور جنوبی سائبیریا سے تقریباًً 10،000 سال قبلِ مسیح غائب ہوگئے تھے تاہم نئی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ بال دار جسام 8،000 سال قبلِ مسیح تک ان علاقوں میں موجود رہے۔ اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد بال دار جسام شمالی سائبیریا سے بھی معدوم ہوگئے۔ [1] بال دار جسام کے ساتھ ساتھ کولمبیائی جسام بھی برفانی دور کے آخر میں شمالی امریکہ میں ناپید ہوگئے۔ ان کی آبادی کا کچھ حصہ سینٹ پال جزیرہ (الاسکا) پر بچا لیکن وہ بھی 6،000 سال قبلِ مسیح تک ختم ہوگئی۔[2] اور چھوٹے جسام بھی جزیرہ رینگل سے 2،000 سال قبلِ مسیح معدوم ہوگئے۔ تاہم جسام کی نسل کی ہلاکت یا معدوم ہونے کے حتمی اسباب پر فیصلہ کُن متفقہ رائے اب تک نہیں سامنے نہیں آسکی۔ تقریباًً 12،000 (بارہ ہزار) سال قبل جب گرم اور نم موسم نے اس کرہء ارض پر ڈیرے جمانے شروع کئے، دریاؤں کی بڑھتی ہوئی سطح نے ساحلی علاقوں کو تباہ کردیا۔ جنگلات اور چراگاہیں موسمی تغیرات کی تاب نہ لاسکے۔ جنگل کی بستیوں کے باسی غائب ہوگئے۔ جنگلی بیل اور جسام بھی اسی دوران غائب ہوئے۔ جسام کی ہلاکت موسمی تغیرات کی بدولت ہوئی یا اُس وقت کے لوگوں کے ہاتھوں شکار ہوکر، یہ بات اب تک متنازعہ ہے۔ ایک اور نظریہ سے یہ تجویز بھی ملتی ہے کہ شاید جسام کسی مہلک بیماری کا شکار ہوگئے۔ تاہم موسمی تغیرات اور انسان کے ہاتھوں جسام کے شکار کو، جسام کے غائب ہونے کی مناسب ترین وضاحت تسلیم کیا جاتا ہے۔
زندہ ہاتھیوں پر کی گئی ایک نئی تحقیق کے نتائج (دیکھیں لیوی 2006) سے یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ انسانی شکار بننا جسام کے معدوم ہونے کی بنیادی وجہ نہیں، تاہم جسام کی نسل انسانی شکار بننے سے متاثر ضرور ہوئی لیکن مکمل طور سے صرف انسانی شکار کو بنیاد بناکر اس قوی الجثہ جانور کے غائب ہونے کا الزام انسانوں کے سر پر تھوپنا مناسب نہیں کیونکہ تحقیق کے مطابق زمانہء قدیم کے انسانوں نے جسام کا گوشت تقریباًً 8۔1 ملین سال (ایک لاکھ اسی ہزار سال) قبل استعمال کیا تھا۔ (لیوی 2006:295)
تاہم امریکی ادارہ برائے حیاتیاتی سائنس اس بات کا بھی مشاہدہ کیا ہے کہ مرجانے والے ہاتھیوں کی ہڈیاں اگر زمین پر چھوڑ دی جائیں تو لامحالہ دوسرے ہاتھی اُنہیں پیروں تلے کچل دیتے ہیں جو کہ درندگی کی ایک ایسی علامت ہے جس کو پہلے کے ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے غلط تعبیر کیا تھا۔
روس کے جزیرہء رینگل پر بچ جانے والے پست قامت جسام بھی محض اس وجہ سے بچ سکے کہ وہ جزیرہ انتہائی دور دراز و غیر آباد تھا ۔ درحقیقت یہ جزیرہ سن 1820تک جدید تہذیب سے چھپا رہا، 1820ء میں امریکی مچھیروں نے اسے دریافت کیا تھا۔ اسی طرح کا پستہ قامت جسام جزیرہ نماء چینل کیلیفورنیا کے مضافات میں بھی پائے گئے تھے لیکن ابتدائی دور کے۔ ان جانوروں کو لگتا ہے کہ مقامی امریکی باشندوں نے قتل کیا تھا اور ان کی بستیوں کی تباہی دویاؤں کی بڑھتی ہوئی سطح کی سبب ہوئی۔

جسامت[ترمیم]

بالدارجسام کا مجسمہ، اپسووچ عجائب گھر، سوفولک
جنوبی ڈکوٹا میں دریافت کئے جانے والے جسام کے پنجوں کے نشان

جسام کی ایک غلط تشریح یہ کی جاتی ہے کہ یہ جدید دور کے ہاتھیوں سے بھی زیادہ قدآور اور قوی الجثہ تھے، یہ غلط فہمی یا غلط تشریح محض لفظ “جسام“ کے صفاتی معنوں کو سمجھنے سے ہوئی، جسام یعنی کہ “بہت بڑے جسم والا“۔ یقیناً اب تک پائے جانے والے جسام میں سب سے قدآور کیلیفورنیا کے شاہی جسام ہیں، جن کی لمبائی تقریباًً پانچ میٹر (16 فٹ) تک تھی اور ان کا وزن عموماً 6 سے 8 ٹن تک ہوتا ہوگا جوکہ کسی نر جسام کے بہت زیادہ قوی الجثہ اور قدآور ہونے کی صورت میں یہ وزن زیادہ سے زیادہ 12 ٹن تک ہوسکتاہے۔ 2005ء میں لینکولن،الینوس کے شمال میں ایک 3۔3(11 فٹ) لمبا جسام کے ہاتھی دانت (انواب) دریافت ہوئے تھے۔ [3] جسام کی زیادہ تر اقسام کی زیادہ سے زیادہ جسامت آج کے دور کے ایشیائی ہاتھی سے زیادہ نہیں تھی۔ کیلیفورنیا کے جزیرہء چینل اور بحیرہ روم کے جزہرہ ساردینیا پر بھی پستہ قامت جسام کے پنجوں کے نشانات دریافت کئے گئے ہیں۔ جسام کے قریبی رشتہ دار یعنی جدید ہاتھیوں پر کی گئی اب تک کی تحقیقات کے مطابق، جسام کے حمل کا دورانیہ ممکنہ طور پر 22 ماہ کا تھا اور یہ ایک وقت میں ایک ہی بچے کو پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کا سماجی ڈھانچہ ممکنہ طور پر ایسا ہی تھا جیساکہ افریقی یا ایشیائی ہاتھیوں کا ہوتاہے۔ مادائیں گلے کی شکل میں بڑی عمر کی مادہ کی نگرانی میں رہتی تھیں اور نر الگ گروہ میں رہا کرتے تھے۔

اچھی حالت میں محفوظ نمونے[ترمیم]

مئی، 2007ء میں روس کے ایک نواحی علاقے میں ایک نابالغ مادہ بال دار جسام کی لاش زمین کی منجمد تہوں سے نکالی گئی، جہاں وہ تقریباًً سینتیس ہزار (37،000) سال پہلے دفن ہوگئی تھی۔ روس کے ادارہ برائے حیوانی حیاتیات کے نائب منتظم الیکس تیکونوف نے تنسیل کے امکان کو مسترد کردیا کیونکہ اس کے لئے لاش کے خلیات کو منجمد حالت میں توڑ پھوڑ کا سامنا کرنا پڑتا۔ تاہم غالب امکان ہے کہ اس کا ڈی این اے محفوظ کرلیا جائیگا تاکہ مستقبل جسام کے نسلی ارتقاء اور عضویات کے مطالعے میں کام آسکے۔[4][5]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ انتھونی جے سٹیوارٹ, لیوپولڈ ڈی۔ سولرزشتکی، لویوبو اے۔ اورلووا، یاروسلو۔وی۔ قزمن اور ایڈرین۔ایم۔لسٹر: یورپ اور ایشیاء میں جدید بال دار جسام:چوعنصری سائنسی جائزہ، جلد نمبر 21, Issues 14-15, August 2002, Pages 1559-1569 روئے خط
  2. ^ "بال دار جسام (Mammuthus primigenius)". ادارہ برائے قدرتی علوم. http://www.ansp.org/museum/jefferson/otherFossils/mammuthus.php#top. Retrieved 2007-07-20. 
  3. ^ 'حال ہی میں دریافت کئے گئے جسام کے دانت کی نمائش الینوس کے قومی عجائب گھر میں الینوس محکمہ برائے قدرتی وسائل کی پریس ریلیز 14اگست، 2006
  4. ^ رنکن, پال (2007-07-10). "جسام کے بچے کی دریافت بے نقاب". news.bbc.co.uk (بی بی سی). http://news.bbc.co.uk/1/hi/sci/tech/6284214.stm. Retrieved 2007-07-13. 
  5. ^ سولویوف, ڈمٹری. "جسام کے بچے کی دریافت-تحقیق کی دنیا میں نئے عہد کا آغاز". reuters.com. http://www.reuters.com/article/scienceNews/idUSL1178205120070711.