شہر زاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
شهرزاد
شہرزاد
الف لیلہ و لیلہ character
Scheherazade.tif
ملکہ شہر زاد کی ایک خیالی تصویر صوفائے اینڈرسن
مصور کیتھرین زیٹا جونز,آنا کارینا، ماریا مونٹیز
معلومات
جنس خاتون
پیشہ ملکہ
خاندان چیف ویزار (باپ)
دنیا زاد (بہن)
بیوی شہریار
اولاد 3 بچے
قومیت فارسی ادب
دیگر نام شهرزاد (فارسی و عربی)

شہر زاد، (فارسی:شھر زاد) قصہ گوئی کی مشہور کتاب، الف لیلہ و لیلہ میں ذکر کردہ ایک نسوانی افسانوی کردار۔الف لیلہ و لیلہ کی کہانی میں بیان کردہ ساری کہانیاں اسی کی زبانی بیان کی گئی ہیں۔

علم و عقل[ترمیم]

الف لیلہ کے مطابق، شہر زاد بہت عقل مند، اور کثرت مطالعہ رکھنے والی لڑکی تھی۔ کہانی کے شروع میں ہی شہرزاد کا تذکرہ اس طرح ہے:

وزیر کی دو لڑکیاں تھیں، بڑی کا نام شہر زاد اور چھوٹی کا نام دنیا زاد تھا۔ بڑی (شہر زاد) نے تاریخ، گزرے بادشاہوں کے حالات اور گزشتہ قوموں کے واقعات سی کتابیں پڑھی تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے کتب خانے میں گزشتہ قوموں، گزرے بادشاہوں اور شاعروں کے متعلق ایک ہزار کتابیں موجود تھیں۔[1]

ملکہ بننے کا پس منظر[ترمیم]

الف لیلہ کی تعارفی کہانی میں، جو کہ پہلی کہانی ہے الف لیلہ کی، اس کہانی کے مطابق سمرقند کا ایک بادشاہ شہر یار اپنی ملکہ کی بے وفائی سے دل برداشتہ ہو کر عورتوں سے نفرت کرنے لگتا ہے۔ اب وہ روز ایک نئی شادی کرتا اور دلہن کو رات بھر رکھ کر صبح کو قتل کر دیتا۔ آخر شہر میں عورتوں کا کھال پڑ گیا۔ وزیر کو کوئی لڑکی بادشاہ کے لئے نہ ملی تو آخر وزیر کی لڑکی شہر زاد نے اپنے باپ سے ضد کرکے بادشاہ سے شادی کر لی۔تا کہ اس سلسلہ قتل کو روکے۔

شہرزاد کی پہلی رات[ترمیم]

اُس نے بہن کے ساتھ مل کر طے کر لیا تھا کہ، وہ کسی بہانے اسے بلوا لے گئی اور وہ آکر کہانی سنانے کی فرمائش کرے۔آخر اسی طرح ہوا، رات کے وقت بادشاہ کو اجازت لے کر ایک کہانی سنانا شروع کی۔ رات ختم ہوگئی مگر کہانی ختم نہ ہوئی۔ کہانی اتنی دلچسپ تھی کہ بادشاہ نے باقی حصہ سننے کی خاطر وزیر زادی کا قتل ملتوی کردیا۔ دوسری رات اس نے وہ کہانی ختم کرکے ایک نئی کہانی شروع کردی ۔ شہر زاد روز کہنی کو کسی اہم مقام پر ختم کرتی کہ صبح ہو رہی ہوتی اس طرح ایک ہزار ایک رات تک کہانی سناتی رہی اس مدت میں اُس کے دو بچے ہوگئے اور بادشاہ نے قتل کا ارادہ ترک کر دیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ الف لیلہ و لیلہ (اردو ترجمہ)، صفحہ 7