حاتم طائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

605ء

عرب کے جاہلی دور کا نامور شاعر ۔ غیر معمولی شجاعت و سخاوت کی وجہ سے مشہور ہے۔ عربی زبان میں کسی کی سخاوت و فیاضی بڑھا چڑھا کر بیان کرنی ہو تو کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص حاتم سے بھی زیادہ سخی ہے۔ اردو میں بھی اسی طرح کہا جاتا ہے۔ عہد اسلام سے کچھ عرصہ قبل مرا۔ اس کی بیٹی سفانہ عروج اسلام کے زمانے میں گرفتار ہو کر دربار نبوت میں پیش ہوئی۔ تو اس نے نبی اکرم کے سامنے اپنے باپ کی فیاضیوں اور جود و کرم کا تذکرہ کیا۔ رسول اللہ نے اس کو رہا کرنے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ حاتم اسلامی اخلاق کا حامل تھا۔ حاتم کا دیوان پہلی بار رزق اللہ حسون نے لندن سے 1876ء میں شائع کیا۔ 1897ء میں دیوان کا ترجمہ جرمن زبان میں چھپا۔ حاتم کے بیٹے عدی بن حاتم نے اسلام قبول کر لیا تھا۔