پرتیبھا پاٹل
وکیپیڈیا سے
پیدائش: 19 دسمبر1934ء
[ترمیم] تعارف اور ابتدائی زندگی
بھارت کی تیرہویں صدر ۔ ڈاکٹر عبدالکلام آزاد کی جانشین۔ہندوستان کی پہلی خاتون صدر۔پرتیبھا پاٹل کی مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں میں پیدائش ہوئی اور انہوں نے اپنی تعلیم جلگاؤں اور ممبئی میں مکمل کی۔ کالج کے دنوں میں وہ ٹیبل ٹینس کی اچھی کھلاڑی تھیں۔
[ترمیم] سیاست
پاٹل کا ریاست مہاراشٹر کی سیاست سے کافی گہرا تعلق رہا ہے۔ پرتیبھا پاٹل 1962 میں پہلی بار مہاراشٹر اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ بطور وکیل اپنے کریئر کی شروعات کرنے والی پرتیبھا پاٹل نے سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔زراعت، اقتصادیات اور خواتین کے مسئل میں دلچسپی رکھنے والی پرتیبھا پاٹل 1991میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں۔ پرتیبھا پاٹل ایوان بالا راجیہ سبھا کی ڈپٹی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔
شفاف شبیہ اور تنازعات سے دور رہنے والی پرتیبھا پاٹل مہاتما گاندھی کے نظریہ پرعمل کرتی ہیں۔ وہ ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت میں سامنے آئيں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون سے پھانسی کی سزا مکمل طور پر ختم کر دینی چاہیئے۔
[ترمیم] صدارتی امیدوار
2004سے 2007ء تک راجھستان کی گورنر رہیں۔2007ء میں حکمران اتحاد یو پی اے نے انہیں صدارتی امیداوار کے طور پر نامزد کیا۔انتخابات میں پرتیبھا نے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار بھیروں سنگھ شیخاوت کو تقریباً تین لاکھ ووٹوں سے شکست دی ہے۔ انہوں نے پرتیبھا پاٹل کو چھ لاکھ اڑتیس ہزار ایک سو سولہ جبکہ ان کے حریف بھیروں سنگھ شیخاوت کو تین لاکھ اکتیس ہزار تین سو چھ ووٹ ملے۔