پیڑو ناچ

وکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

عربی: رقص شرقی / رقص بلدی انگریزی: Belly dance فارسی: رقص عربی / رقص شکم فرانسیسی:danse du ventre یونانی: τσιφτετέλι ؛

مشرق وسطی میں رائج رقص کی ایک قسم جس میں رقاصہ ساز کی تھاپ پر اپنے پیٹ، کولہوں، پستان اور دیگر اعضاء کی تھرتھراہٹ کے ساتھ‍ خاص قسم کا آھنگ پیدا کرتی ہے۔ مشرق وسطی کے علاوہ مغربی ممالک اور ہندوستان میں بھی برابر مقبولیت رکھنے والے اس رقص کا مظاہرہ علاقہ اور ثقافت کی تبدیلی کے ساتھ‍ مختلف انداز اور لباس کے ساتھ‍ کیا جاتا ہے۔

فہرست

[ترمیم] ابتداء

رقص کی اس صنف کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ اس کی ابتداء قدیم ہندوستانی راجاؤں کے درباروں میں ہوئی تھی۔ قدیم ایران میں ساسانی عہد حکومت میں خسرو پرویز کے دربار میں اس صنف رقص میں کمال رکھنے والے افراد پائے جاتے تھے۔ اس ناچ کی موجودہ شکل دریائے دجلہ کے کنارے آباد بابل کے باسیوں کی وضع کردہ ہے۔ یورپ میں یہ فن اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی رومانوی تحریک کے دوران ایک خاص قسم کے مشرقی فنی مزاج کے آنے سے وارد ہوا۔ یورپ میں اس کی آمد ترک عثمانی کے راستے سے ہوئی۔ وکٹوریہ کے دور میں یورپ میں خاص طور پر اس ناچ کے میلوں کا اہتمام ہوا۔ نپولین کے دور میں اس ناچ کے مصری انداز کا فرانس میں نفوذ عمل میں آيا اور فرانس میں اسے نہایت پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس رقص میں انداز اور اطوار کے اس تنوع اور رنگارنگی کی وجہ سے اسے عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے۔

[ترمیم] ملبوس

مغرب میں اس رقص کا ملبوس عثمانی عہد کے حرم کا خاص عربی طرز کا ملبوس بدلہ (جوڑا) معمولی فنکارانہ رد و بدل کے ساتھ‍ رائج ہے۔ بِدلہ خاص جھانجھروں، سکوں اور گھنگرؤں پر مشتمل کناریوں والے چھاتی پوش اور کمر پوش کا ایک جوڑا ہوتا ہے۔ پیٹ کے ارتعاش کو واضح دکھانے کے لیے چھاتی پوش مختصر ہوتا ہے اور پیٹ کو برہنہ رکھا جاتا ہے، جبکہ کمر پوش مخصوص گھگرے کی شکل کا ہوتا ہے جس میں عموما کولہوں کو دونوں اطراف سے برہنہ رکھا جاتا ہے تاکہ سرینوں کی تھرتھراہٹ کو واضح محسوس کیا جا سکے۔ کلاسیکی عثمانی حرم کے طرز کا جامہ پیروں تک ہوتا ہے لیکن اسے کو مختصر یا لامبا کیا جا سکتا ہے، جبکہ چھاتی پوش اس سے الگ رکھا جاتا ہے تاہم ان دونوں کو ایک جوڑے کے طور پر بھی وضع کیا جاتا ہے۔ کمر پوش اور چھاتی پوش کے لیے باہم ملتے جلتے اور بھڑکیلے رنگ منتخب کیے جاتے ہیں۔ مصر میں 1950ء سے مختصر لباس میں اس رقص پر پابندی عاید ہونے کی وجہ سے وہاں ایک لامبے لیکن چست چغے میں یہ رقص کیا جاتا ہے۔ مصر میں حسب روایت یہ رقص ننگے پاؤں ہی کیا جاتا ہے لیکن اب شوخ جوتوں یہاں تک کہ ایڑی والے جوتوں کے ساتھ‍ بھی کیا جانے لگا ہے۔

لبنان میں پیٹ کی نمائش پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے “بدلہ“ طرز کا ملبوس رائج ہے اور پیروں میں جدید طور کے جوتے پہنے جاتے ہیں۔ لبنان میں بدلہ کے ساتھ ساتھ‍ عبایہ میں بھی اس رقص کا رواج ہے۔

ترکی میں ٹانگوں کی حرکات کے کولہوں سے لے کر پنڈلیوں اور ایڑی تک واضح مظاہرے کی غرض سے لہریہ پٹی دار گھگرا پہنا جاتا ہے۔ اس لباس میں شوخ چنچل پن اور بھونڈا پن دوسرے مروجہ لباسوں کی نسبت ذیادہ ہے۔

امریکہ میں اس رقص کے ملبوس عموما ترکی اور مصر سے ہی منگوائے جاتے رہے ہیں تاہم وہاں پر عثمانی طرز کے حرم جامے نہایت مقبول ہوتے ہیں جن پر سنہری دھاتوں کے گول سکے، گھنگرو اور طلائی دھاگے کا کام رائج ہے۔


[ترمیم] کھلونے

شائقین کی توجہ کو بڑھانے کے لیے فنکار مختلف قسم کے اوزار/ ہتھیار/ کھلونوں کے ساتھ رقص کا مظاہر کرتے ہیں، جس سے رقص کے پینتروں میں تنوع کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ ذیل میں ایسی کچھ اشیاء کے نام دیے گئے ہیں جنہیں فنکار اس ناچ میں استعمال کرتے ہیں:

  • ہاتھ کی جھانجھ
  • چھڑی
  • چہرے کا نقاب
  • تلوار
  • شمعدان یا کینڈلابرا (جلتی موم بتیوں کا تاج)
  • وِیل پوئی یا دبیز لہراتا آنچل (ذیادہ تر قبائلی پیٹ ناچ میں استعمال ہوتا ہے)
  • آگ کی چھڑی
  • کھنجڑا
  • پنکھا
  • زندہ سانپ
  • فَین ویلز (پنکھے اور دبیز لہریہ آنچل پر مشتمل)

[ترمیم] تکنیک اور اقدام

اس رقص کی حرکات و سکنات میں بدن کے تمام اعضاء کو جداگانہ لیکن ہم آھنگ حرکت میں لایا جاتا ہے۔ لیکن اعضاء میں حرکت بیرونی جلد کی بجائے عضو کے اندرونی پٹھوں کی ماہرانہ حرکات سے عمل میں لائی جاتی ہے۔مصری اور لبنانی رقاصائیں خاص طور پر سرینوں

کے پٹھوں کی حرکت پر رقص کو مرکوز رکھتی ہیں۔ اگرچہ اس رقص کے مختلف حصوں کی بابت نہایت پیچیدہ اصطلاحات رائج ہیں تاہم ناظرین کی نگاہ میں اس رقص کے کچھ سادہ عناصر یہ ہیں۔
ذاتی اوزار

متغیرات
ایکشنز
رہنمائی
آلات
دیگر زبانیں