یوگریٹک
وکیپیڈیا سے
فہرست |
[ترمیم] یوگریٹک Ugaritic
عہدِ قدیم میں کنعان تین حصوں پر مشتمل تھا، اس کا وسطی حصہ فونیقیا (موجودہ لبنان)فونیقی قوم کا سرسبز وشاداب علاقہ تھا، جنوب میں فلسطین کا مقدس خطہ تھا اور شمالی حصّہ جو اب شام کہلاتا ہے، یوگریٹک(یوگارت) تہذیب کا مرکز تھا۔ اس تہذیب کے آثار آج بھی بندرگاہ لتاکیہ کے قریب ایک بستی راس شمراءمیں پائے جاتے ہیں۔
[ترمیم] دریافت
تقریباً1929ءمیں فرانسےسی ماہرینِ آثارقدیمہ نے راس شمراءکے مقام سے کافی تعداد میں یوگریٹک رقم الخط میں لکھی گئی الواحیں برآمد کیں جن سے اس علاقے کے لوگوں کے عقائد اور رسم و رواج کا پتہ چلتا ہے۔
[ترمیم] تاریخ
یوگریٹک(یوگارت) قوم 1500سے 1200ق م تک شام کے اس علاقہ راس شمراءمیں آباد تھی۔ یہ قوم سامی زبان بولتی تھی اور اپنے جملوں میں ابجدی حروف استعمال کرتی تھی جب سمیریوں کا میخی رسم الخط عکادی، عیلامی، بابلی، کسدی، آشوری، حُرین اورحطی قوم نے اپنا یا اور میخی اندازِ تحریر مشرق وسطیٰ میں شہرت اختیار کرگیا تو یوگریٹک قوم نے میخی رسم الخط اپنایا اور اسے ابجد کی مناسبت سے تشکیل دیا۔ اس طرح میخی رسم الخط کی ایک نئی قسم سامنے آئی
[ترمیم] رسم الخط
یوگریٹک(یوگارت) خط اس دور کی دوسری میخی خطوں کی طرح مٹی کی تختیوں پر اور انگریزی کی طرح بائیں سے دائیں سمت پر لکھا جاتا تھا، اس میں تقریباً 30حروف تہجی ہوتے تھے جو بالترتیب اب ج خ د ہ و ز ح ط ی ک ش ل م ذ ن ظ س ع ف ص ق ر ث غ ت، ہوتے یوگریٹک میں دو حرف علّت Vowels اِ اُ بھی شامل تھے اورساتھ ہی اس رسم الخط میں ”س“ کا ایک نےا لہجہ ملتا ہے جو”ژ“ سے مماثل ہے۔ اس خط میں جملوں کو الگ ظاہر کرنے کےلئے ایک فُل اسٹاپ بھی موجود تھا۔ یوگریٹک(یوگارت) خط میں گنتی بھی موجود تھی جو موجود عربی گنتی سے مماثلت رکھتی تھی ، مثال کے طور پر: احد(ایک)، ثن(دو)، ثلث(تین)، اربعہ(چار)، خمس(پانچ)، ثت(چھ)، سبعہ(سات)، ثمن(آٹھ)، تس(نو)، عشر(دس)، عشت عشر(گیارہ)، ثن عشر(بارہ)، ثلث عشر(تیرہ)، عشرم(بیس)، ثلثم(تیس)، اربعم(چالیس)، خمسم(پچاس)، ثتم(ساٹھ)، سبعم(ستّر)، ثمنم(اسّی)، تسعم(نوّے)، مِہ(سو)، الف(ہزار)۔ یوگریٹک(یوگارت) خط کی الواحیں زیادہ تر کنعانی مذہب کی داستانوں پر مشتمل تھےں اِن میں کریٹ Kretکی داستان، دانیال کی داستان، بعل الیان کی اساطیر اور بعل کی موت کی داستان قابلِ ذکر ہیں۔اِن الواحوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ کنعان ”ایل“ کی پرستش کرتے تھے اور ایل کا تہوار موسمِ گرما کے آغاز میں مناتے تھے راس شمراءکی الواحوں میں ایل کے تہوار پر پیش کیے جانے والے ڈراموں کی لوح بھی ملی ہیں یہ الواحیں آج بھی شام کے نیشنل میوزیم آف الف الفو میں موجود ہیں۔
سامی النسل ہونے کی وجہ سے یوگریٹک(یوگارت) زبان کثیر الفاظ ایسے تھے جو بعد میں آنے والی سامی زبانوں عبرانی، عربی اور اردو وغیرہ میں موجود رہے۔ ساتھ ہی یونانی، لاطینی اور گیز(حبشی) زبان پر بھی اس کے اثرات ملتے ہیں۔
[ترمیم] حوالہ
ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کراچی
ذیشان 14:32, 26 دسمبر 2007 (UTC)