آئین جاپان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Imperial Seal of Japan.svg
مضامین بسلسلہ
سیاست و حکومت
جاپان
باب Japan

آئین جاپان جاپان کا بنیادی قانون ہے۔ جاپان میں دستور کا نفاذ 3 مئی 1947ء کو ہوا تھا۔ جاپان میں جنگ کے بعد یہ نیا دستور تھا۔

آئین جاپان ملک کو پارلیمانی نظام فراہم کرتا ہے اور متعین بنیادی حقوق کو ضروری قرار دیتا ہے۔ آئین کے مطابق شہنشاہ جاپان ریاست کی علامت ہے اور وہ عوام کے اتحاد کا واحد ذریعہ بھی ہے۔ جاپان کا بادشاہ عوام کی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔ جاپان کے دستور کو مابعد جنگ دستور بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک نام دستور امن بھی ہے اور اسے دوسری جنگ عظیم کے دوران میں تحریر کیا گیا تھا۔ [1] ۔[2] منظوری اور نفاذ سے قبل جاپانی اسکالروں اور ماہرین سے اس پر نظر ثانی کی اور اس میں ضروری ترامیم کیں۔[2] اس آئین نے جاپان کی گزشتہ مطلق العنان بادشاہت کو لبرل جمہوریت میں بدل دیا۔ دستور کا دفعہ 9 سب سے مشہور اور اہم دفعہ جس کی رو سے جاپان نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور یہ ازروئے قانون جاپان میں بادشاہت کے ساتھ جمہوریت بھی رہے گی۔ جاپان کا دستور دنیا کا قدیم ترین غیر ترمیم شدہ دستور ہے۔ گزشتہ 70 برسوں میں اس میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کے دستوروں کا اوسط حجم 21,000 الفاظ ہے جبکہ جاپانی آئین کا حجم محض 5000 الفاظ ہے۔[3][4]

تاریخ[ترمیم]

میجی آئین[ترمیم]

آئین میجی شہنشاہ میجی (1867ء-1912ء) کے دور میں سلطنت جاپان کا بنیادی قانون تھا۔ اس آئین کے مطابق سلطنت جاپان مطلق العنان بادشاہت اور آئینی بادشاہت کی ملی جلی حکومت تھی۔ اس کی بنیاد برطانوی ماڈل اور پروشیا پر تھی۔ آئین کے مطابق شہنشاہ جاپان ریاست کا سب سے بڑا لیڈر تھا۔ اس کے پاس ایک کابینہ تھی جس کا وزیر اعظم ایک کونسل کے ذریعہ منتخب ہوتا تھا۔ بادشاہ سربراہ ریاست تھا لیکن وزیر اعظم اصل سربراہ حکومت تھا۔ یہ ضروری نہیں تھا وزیر اعظم اور اس کی کابینہ منتخب ہو کر آئیں۔ 3 نومبر 1946ء کو میجی دستور میں ترامیم کی گئیں اور اسے ہی ما بعد جنگ دستور تسلیم کر لیا گیا۔ وہی دستور 3 مئی 1947ء میں نفاذ العمل ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ constitution-us-authors نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. ^ ا ب نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ constitution-draft نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. "The Anomalous Life of the Japanese Constitution"۔ Nippon.com۔ 15 اگست 2017۔ مورخہ 11 اگست 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2019۔ Unknown parameter |url-status= ignored (معاونت)
  4. Ito, Masami, "Constitution again faces calls for revision to meet reality", Japan Times, 1 May 2012, p. 3.

{موضوعات ایشیا|Constitution of|title=Constitutions of Asia}}