آبنائے سنڈا سونامی 2018ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آبنائے سنڈا سونامی 2018ء
Sunda Strait Tsunami affected 2018.jpg
خطے کا نقشہ، متاثرہ علاقوں کو نیلے رنگ میں دکھایا گیا ہے۔
تاریخ 22 دسمبر 2018
وقت تقریباً 21:27 انڈونیشیائی وقت (14:27 م ع و)
مقام آبنائے سنڈا، انڈونیشیا
متناسقات 6°06′11″S 105°25′23″E / 6.103°S 105.423°E / -6.103; 105.423متناسقات: 6°06′11″S 105°25′23″E / 6.103°S 105.423°E / -6.103; 105.423
اموات 426[1][2]
معمولی زخمی 14,059[1]
لاپتہ 25[3]
مالی نقصان 2,752 گھر اور 510 کشتیاں[4]

مورخہ 22 دسمبر 2018ء کو آبنائے سنڈا میں کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد ایک طاقتور سونامی نے بانتین اور لامپونگ کے ساحلی علاقوں میں تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں کم از کم 373 افراد ہلاک اور 1016 زخمی ہو گئے۔ اس سونامی میں سینکڑوں عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ گارڈین اخبار کے مطابق، "سونامی کی وجہ سمندر میں ریزش زمین اور اس کے ساتھ اناک کراکا آتش فشاں پھٹنا بتائی جا رہی ہے۔"[5] 23 دسمبر تک یہ واضح ہو گیا کہ آتش فشاں کا جنوب مغربی حصہ مکمل گر چکا ہے۔[6]

پس منظر[ترمیم]

سنہ 2018ء میں انک کراکاٹاؤ آتش فشاں

بحر الکاہل کے حلقۂ آتش میں ہونے اور 127 آتش فشاں کی وجہ سے انڈونیشیا میں زلزلے معمول بن چکے ہیں۔ 1927ء سے آتش فشاں پر ہونے والے نئے دھماکوں کے نتیجے میں ایک نیا جزیرہ وجود میں آیا ہے جسے انک کراکاٹوا یعنی کراکاٹوا کا بچہ کہتے ہیں۔ 1883ء میں کراکاٹوا دھماکے کی وجہ سے 30 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں اور ان میں زیادہ تر ہلاکتیں اسی جگہ ہوئیں جہاں پر موجودہ سونامی آیا۔

سونامی سے چند ماہ قبل اناک کراکاٹوا میں دھماکوں کا سلسلہ تیز ہو گیا اور 21 دسمبر کو ہونے والے دو منٹ کے عرصے میں دھماکے کے نتیجے میں 400 میٹر (1300فٹ) اونچا راکھ کا بادل آسمان پر چھایا رہا۔

2004 ء کو 26 دسمبر (باکسنگ ڈے) کے موقع پرایک تباہ کن سونامی آیا جس کی وجہ سے بھارتی سمندر کے ساحلی علاقوں پر زیادہ وسیع پیمانے پر نقصان پیدا ہوا تھا اور اس وجہ سے تھائی لینڈ اور سری لنکا جیسے ممالک کہیں زیادہ متاثر ہوئے۔

سونامی[ترمیم]

مقامی وقت 21:03 (14:03 یو این سی) کو اناک کراکاٹوا آتش فشاں پھٹا جس نے مقامی زلزلہ ناپنے والے آلات تباہ کر دیے تاہم نزدیکی زلزلہ نگارانہ اسٹیشن نے مسلسل طوفان کا پتا چلالیا۔ انڈونیشنا محکمہ موسمیات کو مقامی وقت 21:27 (14:27یو این سی) کے مطابق بونن کے مغربی ساحل کے کے ارد گرد سونامی کا پتہ چلا۔ لیکن وہ قبل از وقت کسی قسم کی ٹیکٹونیک ہلچل کی معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔انڈونیشیا کی قومی آفات بندوبستی مختار کے ترجمان سوتوپو پررو نوگروہو کے مطابق،'مقامی وقت کے مطابق21:30کے قریب لامپنگ اور باتنین کے ساحلی علاقوں سے طاقتور لہر ٹکڑائی جس کی وجہ سے کئی عمارات تباہ ہو گئیںٗ۔ جکارتا پوسٹ کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ سونامی مکمل چاند کی وجہ سے طاقتور لہر ، سمندری ریزش زمین اور آتش فشاں کے پھٹنے سے یہ سونامی وجود میں آئی۔ نڈونیشیا کی قومی آفات بندوبستی مختارنے آبنائے کے ارد گرد پانیوں میں بڑی لہر کی انتباہ جاری کی تھی۔ سونامی کے لیے مدو جزر پیمانے نے سیرانگ میں تقریباً 90 سینٹی میٹر (35 انچ) اور اور لامپونگ میں 30 سینٹی میٹر (12 انچ) سونامی کی پیمائش کی، جو 2 میٹر (6.6 فٹ) بڑی لہر کے اوپر ہے۔ انڈونیشیا کے پاس زلزلے کی وجہ سے سونامی کے لیے ایک سونامی انتباہ کا نظام موجود ہے تاہم آتش فشاں سونامی کی شدت ماپنے کے لیے کوئی آلہ موجود نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ کوئی ابتدائی انتبا ہ جاری نہیں کی گئی۔23 دسمبر کو مصنوعی سیارے کے اعداد و شمار اور ہیلی کاپٹر فوٹیج کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ اناک کراکاٹو کے جنوب مغربی علاقے میں دھماکا ہوا جس کی وجہ سے سونامی پیدا ہوئی۔

حادثات[ترمیم]

سونامی کے بعد تباہی کا منظر

انڈونیشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے ابتدائی طور پر 20 موت اور 165 زخمی کی اطلاع دی۔ اگلے دن کے اعداد و شمار کے مطابق، 43 اموات میں 33 پانگگلنگ، 33 جنوبی لیمپپنگ،  سیرانگ میں تین، 584 زخمی اور 2 لاپتہ افراد شامل ہیں، جن میں پنڈگللانگ میں ہونے والی زیادہ سے زیادہ زخمی (491) بھی شامل ہیں۔ اس علاقے میں ساحل سمندر پر مشتمل سیاحوں کے مقامات جیسے ٹینجنگ لونونگ بھی شامل ہیں۔ ہلاکتوں کے ساتھ 62 سے زائد افراد لاپتہ افراد کا بھی بتایا گیا۔

رد عمل[ترمیم]

انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے قومی آفات بندوبستی مختار، سماجی وزارت اور مسلح افواج کو فوری طور پر اس صورت حال سے نبٹنے کے لیے اقدامات کرنے کےلئے حکم دیا ہے ۔ملائیشیا کی نائب وزیر اعظم وان عزیزہ وان اسماعیل نے تعاون کی یقین دہائی کروائی ہے۔ وزارت سیاحت نے س عارضی طور پر لامپنگ اور بیٹن سیاحت کے لیے تمام عمل کو روک دیا۔

آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ ماریسن نے متاثرہ علاقوں کے لیے امداد کی پیش کش کی اور ساتھ ساتھ ٹویٹر کے ذریعہ اپنی تعزیت بھیجی ۔ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ٹویٹر کے ذریعہ اسی جذبات کو اظہار کیا اور انڈونیشی حکومت کی مدد کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹر کے ذریعہ اپنی تعزیت پیش کی اور اسے "ناقابل اعتماد تباہی" سے تعبیر دی۔ اور پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان محمد فیصل اور وزیر اعظم عمران خان نے بھی تعزیت کی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Number of injured in Indonesia tsunami surges to over 14,000"۔ The Star Online۔ Asean Plus۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 دسمبر 2018۔
  2. "Indonesia Revisi Jumlah Korban Tsunami Anak Krakatau" (Indonesian زبان میں)۔ Mata Mata Politik۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جنوری 2019۔
  3. "Number of people injured by tsunami soars to 7,200"۔ Straits Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 دسمبر 2018۔
  4. "Number of injured in Indonesia tsunami surges to over 14,000 — Asean Plus | the Star Online"۔
  5. Justin McCurry؛ Frances Perraudin؛ agencies۔ "Sunda Strait tsunami death toll likely to rise, say Indonesian officials"۔ دی گارڈین۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 23 دسمبر 2018۔ The tsunami is believed to have been caused by the collapse of Anak Krakatau that followed an eruption of the Anak Krakatau volcano. There were no significant seismic tremors to indicate a tsunami was coming.
  6. "Large part of Anak Krakatau has collapsed into the sea – reconstruction of the eruption"۔ www.volcanodiscovery.com۔ مورخہ 5 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 دسمبر 2018۔

بیرونی روابط[ترمیم]

ویکی کامنز پر آبنائے سنڈا سونامی 2018ء سے متعلق مواد