ابو ابراہیم ہاشمی قریشی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو ابراہیم ہاشمی قریشی
(عربی میں: أبو إبراهيم الهاشمي القرشي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Hajji‘Abdallah.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (عربی میں: Amir Mohammed Abdul Rahman al-Mawli al-Salbi)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش ستمبر 1976 (44–45 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلعفر  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Iraq.svg عراق (1976–2004)
بے وطنی (2004–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن عراق اور الشام میں اسلامی ریاست  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان قریش  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ موصل[3]  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عسکری قائد،  سیاست دان،  جنگجو،  دہشت گرد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
وفاداری عراق اور الشام میں اسلامی ریاست  ویکی ڈیٹا پر (P945) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ کمانڈر (–2019)  ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کمانڈر عراق اور الشام میں اسلامی ریاست  ویکی ڈیٹا پر (P598) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں عراقی خانہ جنگی (2014ء–تاحال)  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابو ابراہیم ہاشمی قریشی یا ابو ابراہیم الہاشمی القریشی[4] (ولادت: اکتوبر 1976ء)[5] (عربی: أمير محمد عبد الرحمن المولى الصلبي)[6] ایک عراقی اسلام پسند ہے جو داعش کا دوسرا اور موجودہ خلیفہ ہے۔[note 1][10] کبھی کبھی اس کو القریشی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔[11][12] جنوری 2020ء کی پریس رپورٹس کے مطابق، اس کا اصل نام امیرمحمد عبد الرحمٰن المولی الصلیبی (عربی: أمير محمد عبد الرحمن المولى الصلبي) ہے۔[13] ابو ابراہیم ہاشمی قریشی کا انتخاب ایک شوریٰ کونسل کے ذریعہ اعلان کیا گیا تھا۔ اس بات کی تصدیق داعش میڈیا نے ابوبکر البغدادی کی وفات کے ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ میں 31 اکتوبر 2019ء کو کیا گیا۔[14] امریکی انعامات برائے انصاف پروگرام القرشی کی معلومات کے بدلے 10 لاکھ ڈالر کی پیش کش کررہا ہے۔[15]

حالات زندگی[ترمیم]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

القریشی 1 یا 5 اکتوبر 1976ء کو تلعفر ، عراق میں پیدا ہوا [16] وہ ایک عراقی ترکمان گھرانے میں پیدا ہوا تھا اور موصل یونیورسٹی میں شریعت کی تعلیم حاصل کی تھی۔ [17] فارغ التحصیل ہونے کے بعد، القریشی نے بعثت عراق میں بطور آرمی آفیسر خدمات انجام دیا۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد صدام کی حکمرانی کے خاتمے کے بعد، اس نے القاعدہ میں شمولیت اختیار کی جہاں پر ایک مذہبی جماعت اور ایک عام شرعی فقہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیا۔ 2004ء میں، القریشی امریکی افواج نے جنوبی عراق میں کیمپ بُکا جیل میں حراست میں لیا تھا جہاں اس کی ابوبکر البغدادی سے ملاقات ہوئی تھی۔ [18] وہ نامعلوم وقت جیل سے رہا ہونے کے بعد القاعدہ میں دوبارہ شامل ہو گیا۔

2014ء میں، القریشی نے باضابطہ طور پر القاعدہ چھوڑ دیا، جس نے داعش (جو اس سے قبل القاعدہ کی عراقی شاخ کے طور پر کام کرتی تھی) سے اپنی وفاداری کی تصدیق کردی۔ اس نے جون 2014ء میں موصل پر داعش کے قبضے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ [17] القریشی داعش کے ان اہم رہنماؤں میں سے ایک تھا جنھوں نے اسی سال اگست میں سنجر قتل عام کے دوران یزیدیوں کے اجتماعی قتل عام کا ارتکاب کیا تھا۔ [19]

داعش کے مطابق، القریشی مغربی ممالک کے خلاف جنگ میں ایک تجربہ کار ہے،[20] ایک مذہبی طور پر تعلیم یافتہ اور تجربہ کار کمانڈر ہے۔[21] القریشی کو "عالم، کارکن، نمازی"، "جہاد کی ایک نمایاں شخصیت"،[22] اور "جنگ کا امیر " کے طور پر بیان کیا گیا تھا۔[23]

نوٹ[ترمیم]

  1. ISIL describes itself as a خلافت and its leader as a خلافت, but this is disputed by multiple Muslim scholars and authors.[7][8][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.theguardian.com/world/2020/jan/20/isis-leader-confirmed-amir-mohammed-abdul-rahman-al-mawli-al-salbi
  2. https://www.un.org/press/en/2020/sc14195.doc.htm
  3. https://www.skynewsarabia.com/middle-east/1314345-مصادر-استخباراتية-تكشف-هوية-خليفة-البغدادي?q=حجي%20عبد%20الله&r=1378914
  4. "Supporters Begin Flocking to New Islamic State Leader". Voice of America (بزبان انگریزی). 03 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 نومبر 2019. 
  5. "Security Council ISIL (Da'esh) and Al-Qaida Sanctions Committee Adds One Entry to Its Sanctions List". Security Council: Press Release - the United Nations. 21 May 2020. DOB: a) 5 Oct. 1976 b) 1 Oct. 1976 
  6. "تنظيم الدولة الإسلامية يعلن عن خليفة للبغدادي" (بزبان عربی). 31 October 2019. 01 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2019. 
  7. یوسف القرضاوی stated: "[The] declaration issued by the Islamic State is void under شریعت and has dangerous consequences for the Sunnis in Iraq and for the revolt in Syria", adding that the title of caliph can "only be given by the entire Muslim nation", not by a single group. Strange، Hannah (5 July 2014). "Islamic State leader Abu Bakr al-Baghdadi addresses Muslims in Mosul". The Telegraph. اخذ شدہ بتاریخ 06 جولا‎ئی 2014. 
  8. Hamid، Shadi (1 November 2016). "What a caliphate really is—and how the Islamic State is not one". Brookings (بزبان انگریزی). اخذ شدہ بتاریخ 05 فروری 2020. 
  9. Chulov، Martin (2019-10-31). "Islamic State names new leader after death of Abu Bakr al-Baghdadi". The Guardian (بزبان انگریزی). ISSN 0261-3077. 31 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2019. 
  10. Sanchez، Raf (1 November 2019). "Why Isil's new leader Abu Ibrahim al-Hashemi al-Qurayshi has inherited an empire in ruins". The Telegraph (بزبان انگریزی). ISSN 0307-1235. 01 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 نومبر 2019. 
  11. "Abu Ibrahim al-Hashemi al-Quraishi named IS leader". MEO (بزبان انگریزی). 1 November 2019. 04 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 04 نومبر 2019. 
  12. Chulov، Martin؛ Rasool، Mohammed (20 January 2020). "Isis founding member confirmed by spies as group's new leader". The Guardian (بزبان انگریزی). ISSN 0261-3077. 20 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  13. Chulov، Martin (2019-10-31). "Islamic State names new leader after death of Abu Bakr al-Baghdadi". The Guardian (بزبان انگریزی). ISSN 0261-3077. 31 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2019. 
  14. "Amir Muhammad Sa'id Abdal-Rahman al-Mawla". Rewards for Justice Program. 
  15. "Security Council ISIL (Da'esh) and Al-Qaida Sanctions Committee Adds One Entry to Its Sanctions List". اقوام متحدہ سلامتی کونسل. 21 May 2020. اخذ شدہ بتاریخ 05 اگست 2020. DOB: a) 5 Oct. 1976 b) 1 Oct. 1976 
  16. ^ ا ب "Amir Mohammed Abdul Rahman al-Mawli al-Salbi a.k.a. Abu Ibrahim al-Hashimi al-Quraishi". Counter Extremism Project (بزبان انگریزی). 29 January 2020. اخذ شدہ بتاریخ 05 فروری 2020. 
  17. "Islamic State appoints Amir Mohammed Abdul Rahman al-Mawli al-Salbi as new leader - The Financial Express". www.financialexpress.com. 2020-01-21. اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2020. 
  18. Paul Cruickshank (29 January 2020). "UN report warns ISIS is reasserting under new leader believed to be behind Yazidi genocide". CNN. اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2020. 
  19. "Islamic State names its new leader as Abu Ibrahim al-Hashemi". bbc.com. 31 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2019. 
  20. Dahhan، Ghassan (31 October 2019). "IS heeft een nieuwe leider: Abu Ibrahim al-Hashemi al-Quraishi" [IS did not release much information about the new leader, except that he is both a religious scholar and an experienced commander.]. Trouw (بزبان ولندیزی). اخذ شدہ بتاریخ 31 اکتوبر 2019. IS liet weinig los over de nieuwe leider, behalve dat hij zowel een religieus geleerde is als een ervaren commandant 
  21. "Islamic State names new leader, confirms death of Baghdadi in US raid". ABC News (بزبان انگریزی). 1 November 2019. 01 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 نومبر 2019. 
  22. Sanchez، Raf (31 October 2019). "Islamic State announces new leader after death of Abu Bakr al-Baghdadi". The Telegraph (بزبان انگریزی). ISSN 0307-1235. 31 اکتوبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 نومبر 2019. 

بیرونی روابط[ترمیم]