ابوبکر البغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
أبو بكر البغدادي
إبراهيم عواد إبراهيم علي محمد البدري السامرائي
ابوبکر البغدادی

معلومات شخصیت
پیدائش 28 جولا‎ئی 1971 (46 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت عراقی
دیگر نام ابو بکر
خلیفہ ابراہیم
ابو دعاء[1]
'غیر مرئی شیخ'[2]
مذہب دیوبند مسلمان[3][4]
عملی زندگی
پیشہ قس،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
وفاداری عراق اور الشام میں اسلامی ریاست  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وفاداری (P945) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں شامی خانہ جنگی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
ابو بکر البغدای

ابراہیم عواد ابراہیم علی البدری السامرائی جو ابو بکر البغدادی کے نام سے معروف ہے، موجوده بعض عراقی و شامی علاقوں پر قابض عراق اور الشام میں اسلامی ریاست نامی تنظیم و ریاست کا سربراہ ہے۔ انکو اکثر ان کی کنیت ابوبکر البغدادی سے بولایا جاتا ہے اور خود کو امیر المومنین اور خلیفہ ابراھیم بھی کہلاتے ہیں۔۲۹ جون ۲۰۱۴ کو عراق اور الشام میں اسلامی ریاست کا پہلا خلیفہ ہونے کا دعوئ کیا اور تا حال ہے۔انکے سخت نظریات اور اسلام کو بطور سخت تشخص دینے کے سبب اسلامی دنیا اور مغربی ممالک میں میں ان پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔

ان کو گرفتاری کے صورت یا مارنے کے لئے امریکہ نے دس ملین ڈالر انعام رکھا ،تاریخ امریکہ نے اس وقت سب سے زیادہ انعام ایک القاعدہ کے سربراہ ایمن الزاوھری کے سر پہ زیادہ انعام رکھا ہے جو ۲۶ ملین ہے اور اس کے بعد ابوبکر البغدادی پہ جو دس ملین ہے۔

ابتدائی زندگی

ابوبکرالبغدادی 1971ء کو سامراء، عراق میں پیدا ہوۓ اور بغداد میں پرورش و تعلیم حاصل کی. آپ کا تعلق عراق کے ایک معزز خاندان سے ہے. آپ کا سلسلہ نسب سیدنا امام علی رضا علیه السلام سے جا ملتا ہے. آپ کا اصل نام ابراہیم ہے. اور آپ کے والد کا نام عواد بن ابراہیم بن علی البدری ہے. ان کا خاندان معزز اور صوفی تها. پر افسوس، بغدادی دنیا کا ایک بدنام دہشتگرد بن گیا. آپ نے اسلامیہ کالج بغداد سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی. اس کے بعد آپ پروفیسر بهی رہے.

القاعدہ سے روابط

2003ء میں عراق پر امریکی حملہ کے بعد انہوں نے القاعدہ کے ساته روابط شروع کئے اور امریکہ کے خلاف بهرپور مزاحمت شروع کردی. اس وقت القاعدہ فی العراق کا سربراہ ابو مصعب الزرقاوی تها. بغدادی کو گرفتار کیا گیا اور 2009ء میں رہا ہوۓ. 2006ء کو ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت واقع ہوئی اور مجاہدین شوری کونسل کا سربراہ ابو عمر البغدادی مقرر ہوا. جس نے تنظیم کا نام بدل کر دولة العراق الاسلامية رکها. 2010ء میں ابوعمر بهی امریکی بمباری میں ہلاک ہوا اور تنظیم کا نیا سربراہ ابوبکر البغدادی مقرر ہوا.

خلافت کا اعلان

2012ء میں شام میں خانہ جنگی تیز ہوگئی. بغدادی نے اپنی تنظیم کا کچه حصہ شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے کے لئے بهیجا. 2013ء بغدادی اپنی مکمل جماعت کے ساته شام گیا اور شامی شہر رقہ پر کنٹرول کرنے کے بعد بڑی تیزی سے شام و عراق کا ایک بہت بڑا رقبہ اپنے کنٹرول میں لے لیا. آخرکار موصل میں 29 جون 2013ء بمطابق 1 رمضان 1435ہجری کو بغدادی نے ایک وڈیو کے ذریعہ اپنی خلافت کا اعلان کر دیا.

طرز حکمرانی

ابوبکر البغدادی کو اس کے لوگوں نے ایک طریقہ کار کے تحت باقاعده اپنا خلیفہ مقررکیا ہے. داعش کے اہم ترین رہنماؤں کی مجلس نے اس کے ہاته پر بیعت کی ہے. ان کا دعوی ہے کہ ہم نے بغدادی کو اسی طرح خلیفہ منتخب کیا ہے. جس طرح خلفاء راشدین کو صحابہ کرام نے کیا تها. ابوبکر البغدادی نے اپنے زیر اثر علاقوں کو ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم کیا ہے. ہر ولایت پر والی یا گورنر مقرر ہے. الرقہ دارالخلافہ ہے. فوج کا جرنیل بغدادی نے ابو عمر الشیشانی کو مقرر کیا ہے اور داعش کا ترجمان ابو محمد العدنانی الشامی ہے. ابوبکرالبغدادی خود کو "امیرالمومنین" کہلاتا ہے. اس نے فوج، تعلیم، صحت، صدقات، مال اور ہر شعبے کے لئے الگ الگ "دیوان" مقرر کئے ہیں. جنگجوؤں اور دیگر تنظیم کے ممبران کے لئے باقائدہ تنخواہیں مقرر کی گئی ہے.  [حوالہ درکار]

قید

ابوبکر البغدادی 2005ء تا 2009ء چار سال کے عرصہ تک ایران کے زیرتسلط عراق کے علاقے ام القصر کے نذدیک واقع بوکا جیل میں قید و بندکی صعوبتیں برداشت کرتے رہے.

تنقید

  • امریکی حکام کا نے اگست 2015 میں دعوی کیا کہ 26 سالہامریکی خاتون سماجی کارکن کائلہ مولر کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے تسلسل سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا [7] ۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور کئی علماء بغدادی کو خارجی قرار دے چکے ہیں. تجزیہ نگار اسے موساد کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں. ایڈورڈ سنوڈن کے انکشاف کے مطابق بغدادی اصل میں اسرائیلی شہری ہے.

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. Cite error: حوالہ بنام dos-reward کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. Cite error: حوالہ بنام alarab-rise کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  3. "Profile: Abu Bakr al-Baghdadi"۔ BBC۔ 15 May 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 August 2015۔ 
  4. "The many names of Abu Bakr al-Baghdadi"۔ Al Monitor۔ 23 March 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 April 2015۔ 
  5. ^ 5.0 5.1 "Security Council Al-Qaida Sanctions Committee adds Ibrahim Awwad Ibrahim Ali al-Badri al-Samarrai to its Sanctions List". United Nations Security Council, SC/10405. 5 October 2011. http://www.un.org/press/en/2011/sc10405.doc.htm۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 July 2014. 
  6. Hal، John; Hanna، Laurie۔ "Report card emerges showing ISIS leader struggled at schoolDaily Mail۔ archived from the original on 2015-07-19۔ https://web.archive.org/web/20150719033545/http://www.dailymail.co.uk/news/article-2961814/From-failure-fanatic-Report-card-emerges-ISIS-leader-Baghdadi-showing-struggled-English-repeat-final-year.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 February 2015۔ 
  7. "’ابوبکر بغدادی نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا‘"۔