ابوبکر البغدادی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابوبکر البغدادی
(عربی میں: أبو بكر البغدادي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Mugshot of Abu Bakr al-Baghdadi, 2004.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 28 جولا‎ئی 1971 (47 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ قس،سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
وفاداری عراق اور الشام میں اسلامی ریاست  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وفاداری (P945) ویکی ڈیٹا پر
لڑائیاں اور جنگیں شامی خانہ جنگی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر
ابو بکر البغدای

ابراہیم عواد ابراہیم علی البدری السامرائی جو ابو بکر البغدادی کے نام سے معروف ہے، موجودہ بعض عراقی و شامی علاقوں پر قابض عراق اور الشام میں اسلامی ریاست نامی تنظیم و ریاست کا سربراہ ہے۔ انکو اکثر ان کی کنیت ابوبکر البغدادی سے بولایا جاتا ہے اور خود کو امیر المومنین اور خلیفہ ابراھیم بھی کہلاتے ہیں۔ 29 جون 2014 کو عراق اور الشام میں اسلامی ریاست کا پہلا خلیفہ ہونے کا دعوئ کیا اور تا حال ہے۔ ان کے سخت نظریات اور اسلام کو بطور سخت تشخص دینے کے سبب اسلامی دنیا اور مغربی ممالک میں میں ان پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔

ان کو گرفتاری کے صورت یا مارنے کے لیے امریکا نے دس ملین ڈالر انعام رکھا ،تاریخ امریکا نے اس وقت سب سے زیادہ انعام ایک القاعدہ کے سربراہ ایمن الزاوھری کے سر پہ زیادہ انعام رکھا ہے جو 26 ملین ہے اور اس کے بعد ابوبکر البغدادی پہ جو دس ملین ہے۔

ابتدائی زندگی

ابوبکرالبغدادی 1971ء کو سامراء، عراق میں پیدا ہوئے اور بغداد میں پرورش و تعلیم حاصل کی۔ آپ کا تعلق عراق کے ایک معزز خاندان سے ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب سیدنا امام علی رضا علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ آپ کا اصل نام ابراہیم ہے۔ اور آپ کے والد کا نام عواد بن ابراہیم بن علی البدری ہے۔ ان کا خاندان معزز اور صوفی تها۔ پر افسوس، بغدادی دنیا کا ایک بدنام دہشت گرد بن گیا۔ آپ نے اسلامیہ کالج بغداد سے اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اس کے بعد آپ پروفیسر بهی رہے ۔

القاعدہ سے روابط

2003ء میں عراق پر امریکی حملہ کے بعد انہوں نے القاعدہ کے ساتہ روابط شروع کیے اور امریکہ کے خلاف بهرپور مزاحمت شروع کردی۔ اس وقت القاعدہ فی العراق کا سربراہ ابو مصعب الزرقاوی تها۔ بغدادی کو گرفتار کیا گیا اور 2009ء میں رہا ہوئے ۔ 2006ء کو ابومصعب الزرقاوی کی ہلاکت واقع ہوئی اور مجاہدین شوری کونسل کا سربراہ ابو عمر البغدادی مقرر ہوا۔ جس نے تنظیم کا نام بدل کر دولة العراق الاسلامية رکها۔ 2010ء میں ابوعمر بهی امریکی بمباری میں ہلاک ہوا اور تنظیم کا نیا سربراہ ابوبکر البغدادی مقرر ہوا۔

خلافت کا اعلان

2012ء میں شام میں خانہ جنگی تیز ہو گئی۔ بغدادی نے اپنی تنظیم کا کچہ حصہ شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے کے لیے بهیجا۔ 2013ء بغدادی اپنی مکمل جماعت کے ساتہ شام گیا اور شامی شہر رقہ پر کنٹرول کرنے کے بعد بڑی تیزی سے شام و عراق کا ایک بہت بڑا رقبہ اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ آخرکار موصل میں 29 جون 2013ء بمطابق 1 رمضان 1435ہجری کو بغدادی نے ایک وڈیو کے ذریعہ اپنی خلافت کا اعلان کر دیا۔

طرز حکمرانی

ابوبکر البغدادی کو اس کے لوگوں نے ایک طریقہ کار کے تحت باقاعدہ اپنا خلیفہ مقررکیا ہے۔ داعش کے اہم ترین رہنماؤں کی مجلس نے اس کے ہاتہ پر بیعت کی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ ہم نے بغدادی کو اسی طرح خلیفہ منتخب کیا ہے۔ جس طرح خلفاء راشدین کو صحابہ کرام نے کیا تها۔ ابوبکر البغدادی نے اپنے زیر اثر علاقوں کو ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم کیا ہے۔ ہر ولایت پر والی یا گورنر مقرر ہے۔ الرقہ دار الخلافہ ہے۔ فوج کا جرنیل بغدادی نے ابو عمر الشیشانی کو مقرر کیا ہے اور داعش کا ترجمان ابو محمد العدنانی الشامی ہے۔ ابوبکرالبغدادی خود کو "امیرالمومنین" کہلاتا ہے۔ اس نے فوج، تعلیم، صحت، صدقات، مال اور ہر شعبے کے لیے الگ الگ "دیوان" مقرر کیے ہیں ۔ جنگجوؤں اور دیگر تنظیم کے ارکان کے لیے باقائدہ تنخواہیں مقرر کی گئی ہے۔  [حوالہ درکار]

قید

ابوبکر البغدادی 2005ء تا 2009ء چار سال کے عرصہ تک ایران کے زیرتسلط عراق کے علاقے ام القصر کے نذدیک واقع بوکا جیل میں قید و بندکی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ۔

تنقید

  • امریکی حکام کا نے اگست 2015 میں دعوی کیا کہ 26 سالہامریکی خاتون سماجی کارکن کائلہ مولر کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر بغدادی نے تسلسل سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا [1] ۔

سعودی عرب کے مفتی اعظم اور کئی علما بغدادی کو خارجی قرار دے چکے ہیں ۔ تجزیہ نگار اسے موساد کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں ۔ ایڈورڈ سنوڈن کے انکشاف کے مطابق بغدادی اصل میں اسرائیلی شہری ہے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. "’ابوبکر بغدادی نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا‘"۔