یوسف القرضاوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
امام  ویکی ڈیٹا پر (P511) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
یوسف القرضاوی
(عربی میں: يُوسُف القرضاوي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Qardawi.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 ستمبر 1926[1]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صفط تراب[2]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 ستمبر 2022 (96 سال)[3]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دوحہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt (1922–1953).svg مملکت مصر (1926–1953)
Flag of Egypt (1922–1953).svg جمہوریہ مصر (1953–1958)
Flag of Syria.svg متحدہ عرب جمہوریہ (1958–1971)
Flag of Qatar.svg قطر (1971–2022)
Flag of Egypt.svg مصر (1971–2022)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام،  مجمع البحوث الاسلامیہ مصر،  بین الاقوامی اسلامی فقہ اکادمی، جدہ،  اخوان المسلمون[4][5]  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد عبد الرحمان یوسف،  الہام القرضاوی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد
مناصب
صدر یورپی کونسل برائے افتاء و تحقیق (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
30 مارچ 1997  – 26 ستمبر 2022 
سربراہ بین الاقوامی اتحاد برائے علمائے اسلام (1 )   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
2004  – 7 نومبر 2018 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
احمد ریسونی  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الازہر (1944–1958)
ادارۂ تحقیق و مطالعات عرب (–1958)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ڈاکٹریٹ،پوسٹ گریجوایٹ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم،  مصنف،  فقیہ،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[6]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل اسلامی عقیدہ،  اصول دین  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ قطر،  اسلام آنلائن  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں اسلام میں حلال و حرام  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
دبئی بین الاقوامی قرآن مقدس اعزاز (2000)[7]
العویس اعزاز (1999)
عالمی شاہ فیصل اعزاز برائے مطالعہ اسلامیات  (1994)[8]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یوسف عبد اللہ القرضاوی (9 ستمبر 1926ء - 26 ستمبر 2022ء) مصری نژاد، قطری شہریت یافتہ مسلمان عالم اور فقیہ تھے،[9][10] عالمی اتحاد برائے علمائے اہل اسلام کے بانی و سابق سربراہ اور یورپی کونسل برائے افتا و تحقیق کے صدر تھے۔ اسی طرح انھیں اخوان المسلمین کا عالمی پیمانے پر روحانی سرپرست اور اولین نظریہ ساز سمجھا جاتا تھا۔[11][12]

پیدائش[ترمیم]

یوسف قرضاوی کی پیدائش 9 ستمبر 1926ء کو مصر کے محافظہ غربیہ کے مرکز المحلہ الکبری کے ایک گاؤں "صفط تراب" میں ہوئی۔[13]

تعلیم[ترمیم]

یوسف قرضاوی نے دس سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن مکمل حفظ کر لیا تھا، [14] بعد ازاں جامع ازہر میں داخل ہوئے اور وہاں سے ثانویہ کی فراغت پر مصری سلطنت میں دوسرا مقام حاصل کیا۔[15] پھر جامع ازہر کے کلیہ اصول الدین میں داخلہ لیا اور وہاں سے عالمیت کی سند 1953ء میں حاصل کی، جس میں وہ اپنے ایک سو اسی ساتھیوں میں اول درجے سے کامیاب ہوئے۔[15] 1954ء میں کلیہ اللغہ سے اجازتِ تدریس کی سند حاصل کی اور اس میں پانچ سو طلبائے ازہر کے درمیان میں اول درجے سے کامیاب ہوئے۔[15] اس کے بعد 1958ء میں انھوں نے عرب لیگ کے ذیلی ادارہ "معہد دراسات اسلامیہ" سے "تخصص در زبان و ادب" میں ڈپلوما کیا، ساتھ ہی ساتھ 1960ء میں اعلیٰ تعلیم کے لیے جامع ازہر کے کلیہ اصول الدین سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی، 1973ء میں وہیں سے اول مقام و درجے سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اس کے مقالہ کا موضوع "زکوٰۃ اور معاشرتی مشکلات میں اس کا اثر" تھا۔[16]

حالات زندگی[ترمیم]

یوسف قرضاوی زمانۂ جوانی میں

قرضاوی کی عمر جب دو سال تھی تو ان کے والد کی وفات ہو گئی، اس کے بعد ان کی کفالت و پرورش کی ذمہ داری ان کے چچا نے انجام دی۔[17] قرضاوی کو اخوان المسلمین سے وابستہ ہونے کے الزام میں کئی بار جیل جانا پڑا، پہلی مرتبہ 1949ء میں شاہی حکومت کے عہد میں جیل گئے،[18] پھر سابق مصری صدر جمال عبد الناصر کے عہد میں تین مرتبہ جیل گئے، جنوری 1954ء میں، پھر اسی سال نومبر میں جیل ہوئی اور تقریبا بیس مہینے سے قید رہے اور پھر 1963ء میں۔[19]

سنہ 1961ء میں قرضاوی مصر سے قطر منتقل ہو گئے جہاں شروع میں ایک ثانوی مذہبی اسکول میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمت کی اور وہاں قطری شہریت حاصل کر کے مستقل سکونت پذیر ہو گئے۔ پھر انھوں نے 1977ء میں جامعہ قطر میں کلیہ الشریعہ کا باضابطہ شعبہ قائم کیا اور 1990ء تک اس میں عمید کی حیثیت سے خدمات انجام دی، اسی طرح جامعہ قطر کے مرکز بحوث سنہ کے بھی پرنسپل رہے ہیں۔

خاندانی زندگی[ترمیم]

یوسف القرضاوی کی پہلی شادی 1958ء میں ایک مصری خاتون ام محمد اسعاد عبد الجواد سے ہوئی۔ اس سے چار صاحب زادیاں اور تین صاحب زادے ہوئے، الہام، سہام، علا اور اسما اسی طرح محمد، عبد الرحمن اور اسامہ۔[20]

دوسری شادی سنہ 80 کی دہائی میں ایک مراکشی خاتون عائشہ سے ہوئی جو جزائر کے ایک جامعہ میں طالبہ تھی اور وہاں "للنساء فقط (صرف خواتین کے لیے)" نامی ایک چینل میں پروڈیوسر کے طور پر کام کرتی تھی جو قطر کے الجزیرہ چینل پر نشر ہوتا تھا۔[21]

  • الہام القرضاوی 19 ستمبر 1959ء میں سمنود میں پیدا ہوئی، جامعہ قطر میں نیوکلیئر طبیعیات کی پروفیسر ہیں۔ انگلستان سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ہے،[20] نیوکلیئر طبیعیات کے میدان میں خدمات پر "احمد بادیب برائے عرب خواتین" نامی ایوارڈ حاصل کیا ہے۔[22]
  • سہام القرضاوی 5 ستمبر 1960ء کو قاہرہ میں پیدا ہوئی، کیمیا کی پروفیسر ہیں، انگلستان سے ماسٹر اور پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔[20]
  • محمد القرضاوی 15 اکتوبر 1967ء میں قطر میں پیدا ہوئے۔[23]
  • عبد الرحمن یوسف القرضاوی 18 ستمبر 1970ء میں قطر میں پیدا ہوئے،[24] عربی شاعر ہیں، جامعہ قطر کے کلیہ الشریعہ سے بیچلر کی ڈگری حاصل کی، اسی طرح جامعہ قاہرہ کے کلیہ دار العلوم سے "مقاصد الشریعہ الاسلامیہ" میں ماسٹر کیا ہے۔
  • اسامہ القرضاوی 10 فروری 1972ء میں قطر میں پیدا ہوئے۔[25]

اخوان المسلمین اور قرضاوی[ترمیم]

یوسف القرضاوی کا تحریکی تعلق اخوان المسلمین تھا اور وہ اس کی سرگرمیوں سے اول روز سے وابستہ رہتے تھے، یہاں تک کہ اس کے مشہور نمائندوں اور قائدین میں شمار ہوتا تھا اور اس کے صف اول کے نظریہ ساز سمجھے جاتے تھے۔ بارہا انھیں اخوان کے "مرشد عام" کے منصب کی پیشکش ہوئی لیکن انھوں نے قبول نہیں کیا۔[26][27] وہ قطر میں اخوان المسلمین کی عالمی تنظیموں کے اجلاس میں برابر شرکت کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اخوان کے تنظیمی کاموں سے مستعفی ہو گئے۔[28]

یوسف القرضاوی نے ایک کتاب "الاخوان المسلمون سبعون عاما فی الدعوۃ و التربیۃ و الجھاد" نامی کتاب لکھی ہے، جس میں انھوں نے اس تحریک کے آغاز سے لیکر بیسوی صدی تک کی تاریخ کو جمع کیا ہے اور اس میں مصر، دیگر عرب ممالک اور پوری دنیا میں اس کی دعوتی، ثقافتی، معاشرتی اور جہادی خدمات اور کارناموں کو بیان کیا ہے۔

یوسف القرضاوی نے عرب بہاریہ کے موقع پر جمہوری انتخاب کے ذریعہ مصر میں اخوان المسلمین کی حکومت منتخب ہونے کا استقبال کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ "مطلوبہ اعتدال پسند اور اسلام پسند جماعت ہے"۔ امام حسن البنا کے منصوبے کے متعلق ان کا نظریہ تھا کہ وہ "مضبوط منصوبہ ہے جس کو فعال کرنے کی ضرورت ہے"۔ اسی طرح اخوان المسلمین کے متعلق ان کا بیان ہے کہ وہ "اپنے طرز عمل، اخلاق اور فکر کے اعتبار سے مصر کی سب سے بہترین جماعت اور سب سے زیادہ استقامت پسند اور پاکباز گروہ ہے"۔[29][30]

سرگرمیاں[ترمیم]

شیخ قرضاوی مختلف ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ

یوسف القرضاوی کو عالمی پیمانے پر بیسوی صدی کی عظیم شخصیت سمجھا جاتا تھا، چنانچہ عالم اسلام کی کئی ایک تنظیموں اور اداروں کے باضابطہ رکن اور سرپرست تھے۔ چند اہم عہدے اور سرگرمیاں درج ذیل ہیں:

اعزازات[ترمیم]

قرضاوی اپنے شاگردوان سے کلام کرتے ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

  • الحلال والحرام في الإسلام
  • مئة سؤال عن الحج والعمرة والأضحية
  • كتاب فتاوى معاصرة
  • تيسير الفقه للمسلم المعاصر
  • فقه الجهاد
  • من فقه الدولة في الإسلام
  • فقه الزكاة
  • فقه الطهارة
  • فقه الصيام
  • فقه الغناء والموسيقى
  • فقه اللهو والترويح
  • دراسة في فقه المقاصد
  • في فقه الأقليات الإسلامية
  • الفقه الإسلامي بين الأصالة والتجديد
  • الاجتهاد في الشريعة الإسلامية
  • المدخل لدراسة الشريعة الإسلامية
  • الفتوى بين الانضباط والتسيب
  • عوامل السعة والمرونة في الشريعة الإسلامية
  • الاجتهاد المعاصر بين الانضباط والانفراط
  • دية المرأة في الشريعة الإسلامية
  • موجبات تغير الفتوى
  • الفتاوى الشاذة
  • زراعة الأعضاء في ضوء الشريعة الإسلامية
  • مشكلة الفقر وكيف عالجها الإسلام
  • بيع المرابحة للآمر بالشراء
  • فوائد البنوك هي الربا الحرام
  • دور القيم والأخلاق في الاقتصاد الإسلامي
  • دور الزكاة في علاج المشكلات الاقتصادية وشروط نجاحها
  • لكي تنجح مؤسسة الزكاة في التطبيق المعاصر
  • القواعد الحاكمة لفقه المعاملات
  • مقاصد الشريعة المتعلقة بالمال
  • الصبر في القرآن
  • العقل والعلم في القرآن
  • كيف نتعامل مع القرآن العظيم
  • تفسير سورة الرعد
  • كيف نتعامل مع السنة النبوية
  • المدخل لدراسة السنة النبوية
  • المنتقى من الترغيب والترهيب
  • السنة مصدرا للمعرفة والحضارة
  • في رحاب السنة
  • نحو موسوعة للحديث الصحيح مشروع منهج مقترح
  • وجود الله
  • حقيقة التوحيد
  • الإيمان بالقدر
  • الشفاعة في الآخرة بين النقل والعقل
  • الحياة الربانية والعلم
  • النية والإخلاص
  • التوكل
  • التوبة إلى الله
  • الورع والزهد
  • المراقبة والمحاسبة

وفات[ترمیم]

26 ستمبر 2022ء کو وفات پا گئے ،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/19289 — بنام: Youssef Qaradhawi
  2. کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n82164852
  3. وفاة العلامة الدكتور يوسف القرضاوي — اخذ شدہ بتاریخ: 26 ستمبر 2022 — سے آرکائیو اصل فی 26 ستمبر 2022 — شائع شدہ از: 26 ستمبر 2022
  4. Der Spiegel — اخذ شدہ بتاریخ: 30 ستمبر 2022
  5. https://www.disorient.de/magazin/grossbritannien-kontroverse-um-einreiseverbot-fur-yusuf-al-qaradawi — اخذ شدہ بتاریخ: 30 ستمبر 2022
  6. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12205173g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  7. https://www.quran.gov.ae/en/DIHQAPrograms/IslamicPersonality/Pages/FourthSession.aspx — اخذ شدہ بتاریخ: 26 ستمبر 2022
  8. https://web.archive.org/web/20110716221517/http://www.menofia.edu.eg/announcements/faisal/files/PDF_Files/English/KFIP-Winners-per-Years.pdf
  9. "معلومات يجب أن تعرفها عن يوسف القرضاوي". العربية (بزبان عربی). 2018-09-21. 3 مارس 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 03 مارچ 2021. 
  10. سفر قطري الجزء الثالث من مذكرات القرضاوي -ابن القرية والكتًا ب- 14، موقع القرضاوي نت آرکائیو شدہ 2011-07-24 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  11. "خدمة مصدر الإخبارية | وفاة الأب الروحي لجماعة الإخوان المسلمين يوسف القرضاوي عن عمر يناهز 96 عاماً". موقع نبض. اخذ شدہ بتاریخ 27 ستمبر 2022. 
  12. "من هو الداعية يوسف القرضاوي الذي تجدّد الجدل حوله بعد وفاته؟". BBC News عربي (بزبان عربی). 27 سبتمبر 2022 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 27 ستمبر 2022. 
  13. صورة قريتي۔. في عهد صباي -قرية صفط تراب[مردہ ربط]، الحلقة 2 الجزء الأول، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 11 يناير 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  14. إلى الكُتَّاب۔. ثم المدرسة الإلزامية[مردہ ربط]، الحلقة 9 الجزء الأول، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 25 يونيو 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  15. ^ ا ب پ السيرة التفصيلية للقرضاوي، القرضاوي نتآرکائیو شدہ 2011-02-26 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  16. المدخل إلى فقہ الأقليات (موسوعة فقہ الأقليات المسلمة في العالم -1-)، د۔محمد عبد الغني علوان النهاري۔ آرکائیو شدہ 2019-12-17 بذریعہ وے بیک مشین
  17. صورة عن أسرتي..[مردہ ربط]، الحلقة 8 الجزء الأول، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 11 يناير 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  18. ذكريات المعتقل[مردہ ربط]، الحلقة 22 الجزء الأول، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 8 مارس 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  19. القرضاوي يقابل صلاح نصر!![مردہ ربط]، الحلقة 18 الجزء الثاني، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 18 يونيو 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  20. ^ ا ب پ رحلة البحث عن بنت الحلال[مردہ ربط]، الحلقة 12 الحزء الثاني، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 29 مايو 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  21. يروي قصة غرامه بزوجته الثانية:القرضاوي: الحب جنون والجنون فنون والحياة شجون ولله في خلقه شؤون - القدس العربي - تاريخ النشر 7 نوفمبر-2008 - تاريخ الوصول 12 أبريل-2009 آرکائیو شدہ 2012-12-23 بذریعہ وے بیک مشین
  22. تقديراً لجهودها في مجال الفيزياء النووية..د. إلهام القرضاوي تحصد جائزة "أحمد باديب للتفوق العلمي للمرأة العربية"، الشرق، 10 أكتوبر 2008م آرکائیو شدہ 2009-01-24 بذریعہ وے بیک مشین
  23. إلى تركيا مرة أخرى، الحلقة 9 الجزء الثالث، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين آرکائیو شدہ 2009-04-23 بذریعہ وے بیک مشین
  24. مأساة أيلول الأسود[مردہ ربط]، الحلقة 12 الجزء الثالث، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 29 مايو 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 أكتوبر 2008. 
  25. نشاط علمي وسياحي مكثف، الحلقة 14 الجزء الثالث، مذكرات القرضاوي، إسلام أون لاين آرکائیو شدہ 2010-01-13 بذریعہ وے بیک مشین
  26. الحلقة الحادية والعشرون: اعتذرت عن عدم قبول منصب الإرشاد، مذكرات القرضاوي، الجزء الثالث، إسلام أون لاين آرکائیو شدہ 2009-01-23 بذریعہ وے بیک مشین
  27. الحلقة الرابعة: الاستعفاء من العمل التنظيمي في الإخوان المسلمين، مذكرات د. يوسف القرضاوي، الجزء الرابع، إسلام أون لاين "نسخة مؤرشفة". 24 سبتمبر 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 24 سبتمبر 2008. 
  28. الحلقة الثانية: مع التنظيم العالمي للإخوان، مذكرات د. يوسف القرضاوي، الجزء الرابع، القرضاوي نتآرکائیو شدہ 2009-01-31 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  29. دفاعا عن الحق وأمانة الكلمة لا عن الإخوان !، د. محمد جمال حشمت، موقع القرضاوي نت، 9 أكتوبر 2008مآرکائیو شدہ 2011-03-04 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  30. القرضاوي لـ «القاهرة اليوم»: القرآن والصحابة ونشر المذاهب خطوط حمراء في الحوار مع الشيعة، المصري اليوم، 27 سبتمبر 2008 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2018-06-20 بذریعہ وے بیک مشین
  31. القرضاوي عضواً بمجمع البحوث الإسلامية بالأزهر، موقع الاتحاد العالمي لعلماء المسلمين، 30 يونيو 2008م آرکائیو شدہ 2009-01-02 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  32. موقع شبكة إسلام أون لاين آرکائیو شدہ 2018-03-01 بذریعہ وے بیک مشین
  33. إقالة القرضاوي من جمعية البلاغ الممولة لإسلام أون لاين وتعيين مجلس إدارة جديد، مصراوي، 23 مارس 2010 آرکائیو شدہ 2011-01-13 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  34. ^ ا ب پ ت ٹ لفوزه بجائزة الهجرة النبوية: ماليزيا تستقبل 1431 هـ بتكريم القرضاوي، إسلام أون لاين، 14 ديسمبر 2009 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2020-05-21 بذریعہ وے بیک مشین
  35. نبذة عن القرضاوي، القرضاوي نت، 24 نوفمبر 2004مآرکائیو شدہ 2011-02-26 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  36. العاهل الأردنى يكرم شيخ الأزهر و"القرضاوى"، اليوم السابع، 29 سبتمبر 2010 آرکائیو شدہ 2010-11-24 بذریعہ وے بیک مشین