اختر انصاری دہلوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اختر انصاری دہلوی
اختر انصاری دہلوی

معلومات شخصیت
پیدائش 1 اکتوبر 1909  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 5 اکتوبر 1988 (79 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی گڑھ، بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ اسٹیفنز کالج، دہلی
جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر، افسانہ نگار، ادبی تنقید نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل قطعہ، غزل، نظم، افسانہ، ادبی تنقید، سوانح  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

محمد ایوب انصاری المعروف اختر انصاری دہلوی (پیدائش: یکم اکتوبر، 1909ء - وفات: 5 اکتوبر، 1988ء) بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور شاعر، افسانہ نگار اور نقاد تھے۔

حالات زندگی و فن[ترمیم]

اختر انصاری یکم اکتوبر 1909ء کوبدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3] ان کا اصل نام محمد ایوب انصاری تحا۔ پیدائش سے کچھ عرصہ پہلے ان کے والد نے ترکِ وطن کر کے دہلی میں سکونت اختیار کر لی تھی، اس لیے دہلوی مشہور ہوئے۔ عمر کا ابتدائی دور دہلی میں گزارا۔ قدیم اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی کے طالبِ علم رہے۔ 1924ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کر کے دہلی کے سینٹ اسٹیفنز کالج میں داخلہ لے لیا اور وہیں سے 1930ء میں بی اے (آنرز) تاریخ کی ڈگری حاصل کی۔ 1931ء میں انگلستان کے شہر لندن چلے گئے، لیکن والد کے انتقال اور بعض ذاتی مشکلات کے باعث لندن سے کوئی سند حاصل کیے بغیر دہلی واپس آگئے۔ 1932ء میں قانون پڑھنا شروع کیا۔ یہ تعلیم بھی ادھوری چھوڑ دی۔ 1933ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بی ٹی میں داخلہ لے لیا اور 1934ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہائی اسکول میں ملازمت شروع کی۔ 1947ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے کیا اور اسی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں لیکچرر ہو گئے۔ 1950ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے شعبہ تعلیم میں منتقل ہو گئے اور ریٹائرمنٹ تک وہیں رہے۔ اختر انصاری نے شعر گوئی کا آغاز 1928ء میں کیا۔ چند برس بعد افسانہ، تنقید اور دوسری اصنافِ نثر کی طرف بھی متوجہ ہوئے۔ شاعری کا پہلا مجموعہ نغمہ روح 1932ء میں شائع ہوا۔ ان کی دیگر کتابوں میں اندھی دنیا اور دوسرے افسانے، نازو اور دوسرے افسانے، آبگینے، افادی ادب، خونی اور دوسرے افسانے، خوناب، خندہ سحر، روحِ عصر، لو ایک قصہ سنو، یہ زندگی اور دوسرے افسانے، غزل اور درسِ غزل، حالی اور نیا تنقیدی شعور، ٹیڑیھی زمین، سرورَ جاں، مطالعہ اور تنقید، شعلہ بہ جام، غزل کی تنقید اور دلی کا روڑا شامل ہیں۔ دو کتابیں ایک قدم اور سہی اور اردو افسانہ، بنیادی اور تشکیلی مسائل بعد از مرگ شائع ہوئیں۔ تعلیم سے متعلق دو کتابیں بھی انگریزی میں شائع ہوئیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • نغمہ روح (1932ء )
  • اندھی دنیا اور دوسرے افسانے (1939ء، افسانے )
  • نازو اور دوسرے افسانے (1940ء، افسانے )
  • آبگینے (1940ء، قطعات)
  • افادی ادب (1941ء، تنقید)
  • خونی اور دوسرے افسانے (1943ء، افسانے )
  • خوناب (1943ء، غزلیں)
  • خندہ سحر (1944ء، نظمیں)
  • روحِ عصر (1945ء، قطعات، غزلیں، نظمیں)
  • لو ایک قصہ سنو (1952ء، افسانے )
  • یہ زندگی اور دوسرے افسانے (1958ء، افسانے )
  • غزل اور درسِ غزل (1959ء، تنقید)
  • حالی اور نیا تنقیدی شعور (1962ء، تنقید)
  • ٹیڑھی زمین (1963ء، قطعات)
  • سرورِ جاں (1963ء، غزلیں)
  • مطالعہ اور تنقید (1965ء، تنقید)
  • شعلہ بہ جام (1968ء، قطعات)
  • غزل کی سرگزشت (1975ء، تنقید)
  • دلی کا روڑا (1977ء، سوانح)

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتاتڑپتا ہوں مگر اوروں کو تڑپانا نہیں آتا
یہ جمنا کی حسیں امواج کیوں ارگن بجاتی ہیںمجھے گانا نہیں آتا مجھے گانا نہیں آتا
یہ میری زیست خود اک مستقل طوفان ہے اخترؔ مجھے ان غم کے طوفانوں سے گھبرانا نہیں آتا[4]

غزل

اپنی اجڑی ہوئی دنیا کی کہانی ہوں میں ایک بگڑی ہوئی تصویر جوانی ہوں میں
آگ بن کر جو کبھی دل میں نہاں رہتا تھاآج دنیا میں اسی غم کی نشانی ہوں میں
ہائے کیا قہر ہے مرحوم جوانی کی یاددل سے کہتی ہے کہ خنجر کی روانی ہوں میں
عالم افروز تپش تیرے لیے لایا ہوںاے غم عشق ترا عہد جوانی ہوں میں
چرخ ہے نغمہ گر ایام ہیں نغمے اخترؔ داستاں گو ہے غم دہر کہانی ہوں میں[5]

وفات[ترمیم]

اختر انصاری 5 اکتوبر، 1988ء کو علی گڑھ، بھارت میں وفات پا گئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]