اوٹزی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اوٹزی
Otzi-Quinson.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش ت 3345 ق م
ولتورنو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات ت 3300 ق م (عمر 45 سال)
اوٹزل آلپس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات استنزاف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام Ötzi the Iceman
Similaun Man
"Frozen Fritz"
Man from Hauslabjoch
Hauslabjoch mummy
Frozen Man
بالوں کا رنگ خاکی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بالوں کا رنگ (P1884) ویکی ڈیٹا پر
قد 1.65 میٹر (5 فٹ 5 انچ)
وزن ت 61 کلوگرام (134 پونڈ؛ 9.6 سنگ) (جب زندہ تھا)
عملی زندگی
پیشہ گڈریا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ ساؤتھ ٹائرول میوزیم آف آرکیالوجی
اوٹزی is located in Alps
اوٹزی
جائے دریافت الپس کے نقشہ پر مارک ہے
اوٹزی

موجودہ آسٹریا اور اٹلی کی سرحدوں پر جہاں ساڑے تین ہزار سال قبل مسیح کے ایک انسان کی قدرتی طور پر حنوط شدہ اوٹزی نامی لاش 1991ء میں اتفاقاً دو سیاحوں سے دریافت ہو گئی جب وہ سفر کے دوران میں ایک برفانی علاقے سے گزر رہے تھے، انہوں نے ایک گڑھے میں، ایک انسانی لاش دیکھی۔ یہ ستمبر 1991ء میں کا واقعہ ہے۔ اس کے دوسرے دن علاقے کے لوگوں نے اس لاش کو وہاں سے نکالا اور بعد از تحقیق یہ راز کُھلا کہ یہ انسانی حنوط شدہ لاش شاید یورپ کی قدیم ترین ممی ہے جس کو بعد ازاں اٹلی کے ساؤتھ ٹائرول میوزیم آف آرکیالوجی جو بولزانو شہر میں واقع ہے، میں نمائش کے لیے رکھ دیا گیا۔[3][4]

دریافت[ترمیم]

اوٹزی دی آئس مین کی گلیشیر میں پھنسی لاش کی دریافت کے وقت کی تصویر، یہ تصویر ہیلموٹ سائمن نے لی تھی۔
Line drawing of a right shoe
اوٹزی کے جوتے کی ڈرائننگ

19 ستمبر 1991ء کو دو جرمن سیاح ہیلموٹ اور ایریکا سائمن آسٹریا اور اٹلی کی سرحدوں پر تین ہزار دو سو دس فٹ کی بلندی پر محو سفر تھے جب انہوں نے اس لاش کو دیکھتے ہوئے خیال کیا کہ شاید حال ہی میں کسی بیماری سے مرنے والے انسان کی لاش ہے جو برف سے ڈھکی ہوئی تھی بعد ازاں 22 ستمبر کو اُس لاش کو محفوظ کرتے ہوئے انزبرگ یونیورسٹی کے میڈیکل اِگزیمنر کے پاس بھیجا گیا تو مختلف ٹیسٹوں سے گزارنے کے بعد یہ حیرت انگیز بات سامنے آئی کہ یہ کم از کم 3 سے 4 ہزار قبل مسیح پرانے شخص کی لاش ہے جس کا قد تقریباً ساڑھے پانچ فٹ تھا جو ہزاروں سال تک برف میں ڈھکے رہنے کی وجہ سے محفوظ رہی۔ جس کو ”اوٹزی دی آئس مین“ کا نام دیا گیا۔[5][6][7]

تنازع[ترمیم]

اٹلی اور آسٹریا کی سرحد سے اس کے برآمد ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک نے اس پر حق ملکیت جتایا لیکن جب پیمائش کی گئی تو یہ 92.56 میٹر یعنی 101 قدم اٹلی کی حدود میں پائی گئی۔[8]

سائنسی تجزیے[ترمیم]

Archeoparc (اسکینلز ویلی / ساؤتھ ٹائرول)۔ میوزیم:اوٹزی کے پہنے نوحجری دور کے کپڑوں کی تشکیل نو

مختلف میڈیکل کے ٹیسٹوں کے بعد لگائے گئے اندازوں کے مطابق اوٹزی دی آئس مین جو ساڑھے پانچ فٹ قد کا حامل تھا[9] کا زندہ حالت میں 61 کلو گرام وزن تھا[10] اور 45 سالہ[9] اس سخص کی لاش جب برآمد ہوئی تو اس وقت اس کا وزن 13.750 کلو گرام تھا۔[11] اس کے جسم کے کچھ حصے ہزاروں سال برف میں رہنے کی وجہ سے غائب ہو چکے تھے[12] جبکہ ڈی این اے سے اندازہ لگایا کہ اس کا بچپن بولزانو شہر کے شمال میں واقع ایک گاؤں فیلڈ تھرنز میں گزرا اور بعد ازاں وہ یہاں سے پچاس کلو میٹر دور شمال میں موجود ایک وادی چلا گیا جہاں اس نے باقی زندگی گزاری۔[13]

موت کی وجہ[ترمیم]

اس کے معدے سے برآمد ہونے والی خوراک سے اندازہ لگایا کہ اس کی موت موسم بہار کے اواخر اور موسم سرما کے اوائل میں ہوئی۔ اس کے جسم کی چار ہڈیاں برف کے تودے کے نیچے دب جانے سے ٹوٹ چکی تھیں لیکن یہ اس کی موت کی سبب نہیں بلکہ ماہرین کے مطابق اس کے بائیں کندھے میں پیوست وہ تیر تھا جس کی وجہ سے زیادہ مقدار میں خون ضائع ہو گیا اور اس کی موت واقع ہوئی۔ عدالت میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اس حادثے کے وقت اُس کے پاس ایک کلہاڑا اور دو تیر بھی موجود تھے۔ 1.82 میٹر طویل کلہاڑے میں 70 فیصد کاپر دھات کا استعمال کیا گیا تھا۔ آٹوسومل ڈی این اے ٹیسٹ کے مطابق اوٹزی دی آئس مین یقیناً جنوبی یورپ کا باشندہ تھا جو اس عہد میں باقی دنیا سے الگ تھلگ ایک انسانی آبادی تھی۔ اکتوبر 2013ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کہ آج بھی اس کے 19 رشتہ دار اٹلی میں رہتے ہیں جس کا اندازہ 37 سو لوگوں کے خون کے ٹیسٹ لینے کے بعد لگایا گیا۔[14] مئی 2012ء میں سائنس دانوں نے یہ انکشاف کیا کہ اوٹزی کے خون میں پائے جانے والے سرخ خ لیے آج بھی اپنی اصلی حالت میں موجود ہیں۔ اس کے کوٹ کی پچھلی جانب خون کے نشان سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ شاید اس وقت اس کے ساتھ کوئی دوسرا ساتھی موجود تھا جسے یہ زخمی ہونے کے باوجود اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جبکہ اس کے بائیں ہاتھ کی پوزیشن سے یہ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اسے پشت پر لے جا کر اپنے زخم پررکھنے کی کوشش کرتے ہوئے موت کا شکار ہو گیا۔[15][16][17][18][19]

آخری کھانا[ترمیم]

12 جولائی 2018ء کو کرنٹ بائیولوجی نامی جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اوٹزی کا آخری کھانا پہاڑی بکری کا گوشت، سرخ ہرن کا گوشت، چربی، گندم اور کچھ جڑی بوٹیوں یا پودوں پر مشتمل تھا۔اوٹزی نے جو بھی کھانا کھایا تھا، وہ کھانے کے پہلے خشک حالت میں تھا۔ یعنی جو گوشت اس نے کھایا تھا، اسے پہلے سکھا کر محفوظ کیا گیا تھا۔[20]

اوٹزی کے کلہاڑے کی نقل
اوٹزی کی یادگار نزد Tisenjoch۔
اوٹزی کی تشکیل نو – ساؤتھ ٹائرول میوزیم آف آرکیالوجی (2011ء)

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://www.arte.tv/de/videos/063625-000-A/oetzi-und-seine-doppelgaenger/ — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2018
  2. Rory Carroll۔ "How Oetzi the Iceman was stabbed in the back and lost his fight for life"۔ دی گارڈین۔ مورخہ 9 دسمبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Bonani، Georges; Ivy، Susan D. (1994). "AMS 14C Age Determination of Tissue, Bone and Grass Samples from the Ötzal Ice Man". Radiocarbon (The Department of Geosciences, The University of Arizona) 36 (2): 247–250. doi:10.1017/s0033822200040534. http://digitalcommons.library.arizona.edu/objectviewer?o=http://radiocarbon.library.arizona.edu/Volume36/Number2/azu_radiocarbon_v36_n2_247_250_v.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 4 فروری 2016. 
  4. James Neill، Otzi, the 5,300 Year Old Iceman from the Alps: Pictures & Information، مورخہ 12 مارچ 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 8 مارچ 2007
  5. Description of the Discovery نسخہ محفوظہ 13 دسمبر 2011 در وے بیک مشین at the South Tyrol Museum of Archaeology web site
  6. Brenda Fowler۔ Iceman: Uncovering the Life and Times of a Prehistoric Man Found in an Alpine Glacier۔ University of Chicago Press۔ صفحہ 37 ff۔ آئی ایس بی این 978-0-226-25823-2۔
  7. "The Incredible Age of the Find"۔ South Tyrol Museum of Archaeology۔ مورخہ 24 جون 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 اگست 2015۔
  8. The Border Question نسخہ محفوظہ 8 اکتوبر 2011 در وے بیک مشین، at the museum site
  9. ^ ا ب Rory Carroll، "Iceman is defrosted for gene tests: New techniques may link Copper Age shepherd to present-day relatives"، دی گارڈین
  10. James M. Deem، Ötzi: Iceman of the Alps: His health، Mummy Tombs، مورخہ 13 نومبر 2006 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 6 جنوری 2008
  11. Eduard Egarter-Vigl، "The Preservation of the Iceman Mummy"، بہ Marco Samadelli، The Chalcolithic Mummy, Volume 3, In Search of Immortality، Folio Verlag، صفحہ 54، آئی ایس بی این 978-3-85256-337-4
  12. Jeffrey Hays۔ "OTZI, THE ICEMAN – Facts and Details"۔ factsanddetails.com۔ مورخہ 1 مئی 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 نومبر 2017۔
  13. Wolfgang Müller، اور دیگر۔، "Origin and Migration of the Alpine Iceman"، Science، AAAS (5646): 862–866، پی ایم آئی ڈی 14593178، ڈی او آئی:10.1126/science.1089837، مورخہ 20 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 18 اکتوبر 2007، lay summaryMummy Tombs (16 دسمبر 2007)
  14. Alok Jha، "Iceman bled to death, scientists say"، دی گارڈین، مورخہ 13 مارچ 2016 کو اصل سے آرکائیو شدہ
  15. "Who Killed the Iceman? Clues Emerge in a Very Cold Case"۔ The New York Times۔ مورخہ 26 ستمبر 2017 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مارچ 2017۔
  16. Sarah Ives، Was ancient alpine "Iceman" killed in battle?، نیشنل جیوگرافک سوسائٹی، مورخہ 15 اکتوبر 2007 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 25 اکتوبر 2007
  17. Franco Rollo []، اور دیگر۔، "Ötzi's last meals: DNA analysis of the intestinal content of the Neolithic glacier mummy from the Alps"، Proceedings of the National Academy of Sciences (20): 12594–12599، پی ایم آئی ڈی 12244211، پی ایم سی 130505، ڈی او آئی:10.1073/pnas.192184599
  18. Stephanie Pain، Arrow points to foul play in ancient iceman's death، NewScientistTech، مورخہ 23 اگست 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ
  19. James M. Deem، Ötzi: Iceman of the Alps: Scientific studies، مورخہ 2 ستمبر 2015 کو اصل سے آرکائیو شدہ، اخذ شدہ بتاریخ 6 جنوری 2008
  20. 5300 سال پہلے وفات پانے انسان نے آخری بار کیا کھایا تھا؟ سائنسدانوں نے بتا دیا

بیرونی روابط[ترمیم]