اینجلز اینڈ ڈیمنز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

تعارف[ترمیم]

اینجلز اینڈ ڈیمنز یعنی “فرشتے اور شیطان” مشہور مصنف ڈین براؤن کا لکھا ہوا ناول ہے جو سن 2000 میں منظر عام پہ آیا اور بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اس ناول پہ بعد میں ہالی وڈ میں فلم بھی بنائی گئی۔ اینجلز اینڈ ڈیمنز، ڈین براؤن کے تخلیق کردہ کردار رابرٹ لینگڈن سیریز کا پہلا ناول ہے۔ رابرٹ لینگڈن ایک مشہور ماہر علامیات symbologist ہے اور اپنے کام میں انتہائی ماہر ہے۔ اس سلسلے کے تین اور ناول ڈاونچی کوڈ، دی لوسٹ سمبل اور انفرنو بھی منظر عام پہ آ چکے ہیں۔ اس سیریز کے علاوہ ان کے دو ناول ڈیسپشن پوائنٹ اور ڈیجیٹل فوٹریس بھی شائع ہوئے ہیں۔

ناول کی کہانی یوں ہے کہ سرن کے ایک انتہائی اہم سائنسدان کا قتل ہو جاتا ہے۔ قاتل مقتول کے سینے پہ ایک سمبل یا نشان بنا جاتے ہیں جس کی وضاحت کرنے کے لئے سرن کا ڈائریکٹر کوہلر رابرٹ لینگڈن کو امریکہ سے سوئٹزر لینڈ بلواتا ہے۔ رابرٹ نشان دیکھ کے حیران ہوتا ہے کیونکہ یہ صدیوں پرانی ایک خفیہ تنظیم الومیناٹی Illuminati کا نشان تھا اور یہ تنظیم عرصہ ہوا ختم ہو چکی تھی۔ اسی سائنسدان کی بیٹی وٹوریا سے انہیں معلوم ہوتا ہے کہ قاتل یا الومیناٹی دراصل ان کی لیباریٹری سے اینٹی میٹر antimatter کا کنستر چرا کے لے گئے ہیں۔ یہ کنستر 24 گھنٹوں تک اینٹی میٹر کو محفوظ رکھ سکتا ہے اور اس کے بعد یہ تباہ ہو جائے گا۔ اس کی تباہی سے ہونے والا دھماکہ نیوکلئر بم کے دھماکے سے زیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے۔اینٹی میٹر کا یہ کنستر ویٹیکن شہر میں کسی خفیہ جگہ پہ رکھا گیا ہے لیکن اس کے سامنے ایک سیکیوریٹی کیمرہ موجود ہے جو اس کی لائیو وڈیو سیکیوریٹی آفس میں دکھا رہا ہے۔ویٹیکن شہر میں اس دن پاپائے روم کے انتقال کے بعد نئے پاپائے روم کے انتخاب کے لئے کارڈینلز کا اجلاس ہو رہا تھا اور ساری عیسائی دنیا کی نظریں روم کی طرف لگی ہوئی تھیں۔ اس موقع پہ دنیا بھر سے عیسائی ویٹیکن شہر آئے ہوئے تھے۔ ایسے موقع پہ اینٹی میٹر کی طرف سے ہونے والا دھماکہ بے انتہا تباہی لا سکتا تھا۔ رابرٹ لینگڈن اور وٹوریا اس کنستر کو ڈھونڈنے اور بحفاظت سرن واپس لانے کے لئے ویٹیکن شہر کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ اور یہیں سے کہانی کا اصل تھرل شروع ہوتا ہے۔ کہانی بہت تیز رفتار ہے، پورے ناول میں صرف ایک دن کا وقت دکھایا گیا ہے اس لئے انتہائی تفصیلی بھی ہے۔

فلم[ترمیم]

اس ناول پر 2009ء میں ایک فلم بھی بنائی گئی۔ ۔[1] ہالی وُڈ کی فلم ’’اینجلز اینڈ ڈیمنز‘‘ میں بھی باون سالہ امریکی اداکار ٹوم ہینکس نے ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ لینگ ڈن کا کردار ا دا کیا ہے، جو علامات کے زبردست ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اِس بار کیتھولک کلیسا کو اُن کی مدد کی ضرورت ہے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹے دورانیے کی اِس فلم میں منطق اور عقیدے، سائنس اور کلیسا اور جدت اور روایت کے تضادات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ فلم مشہور امریکی ادیب ڈَین براؤن کے اِسی عنوان کے ناول پر مبنی ہے اور جرمنی میں ’’اِلومیناٹی‘‘ کے نام سے نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔ کہانی کے مطابق ’’اِلومیناٹی‘‘ ایک ایسے خفیہ گروہ کا نام ہے، جو غالباً دو ہزار سال سے کیتھولک کلیسا کا حریف چلا آ رہا ہے۔ یہ فلم اِسی خفیہ گروہ کی پُر اَسرار سرگرمیوں کے بارے میں ہے۔ اِس فلم میں یہ گروہ ایک ایسے وقت اپنی کارروائی شروع کرتا ہے، جب پاپائے روم کا انتقال ہو چکا ہے اور کیتھولک کلیسا کے نمائندے ایک نئے پوپ کے انتخاب کے لئے بند کمرے میں سر جوڑے بیٹھے ہیں۔ یہ گروہ نہ صرف چار اہم ترین کارڈینلز کو اغوا کر لیتا ہے اور ہر گھنٹے بعد اُن میں سے ایک کو جان سے مار ڈالنے کا پروگرام بناتا ہے بلکہ وہ پورے وَیٹی کن سٹی کو تباہ وبرباد کر ڈالنے کی بھی دھمکی دیتا ہے۔ اِس مقصد کے لئے اس گروہ کے ارکان یورپی لیباریٹری سَیرن سے سیاہ جوہری مادہ یا گاڈ پارٹیکل چوری کرتے ہیں اور اُسے وَیٹی کن کے اندر ہی کسی خفیہ مقام پرمنتقل کر دیتے ہیں۔

ناول پر تنازعہ[ترمیم]

اینجلز اینڈ ڈیمنز ایک متنازعہ ناول ہے۔ کلیسا اور سائنس کی صدیوں سے جاری جنگ کو اس ناول میں بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ناول میں رومن کیتھولک چرچ کے متعلق پیش کی گئی باتوں سے بہت سے عیسائیوں کی دل شکنی ہونے کا الزام ہے۔ اسی طرح خفیہ تنظیم الومیناٹی کے بارے میں بھی بہت تفصیل سے مصنف نے بیان کیا ہے۔ جہاں خفیہ تنظیم الومیناٹی کے بارے میں بنا کسی ثبوت کے اتنی ساری باتیں بیان کرنا بھی کہانی کو متنازعہ بنا دیتا ہے۔ وہیں بہت سارے لوگوں کے خیال میں الومیناٹی کے بارے میں اتنا بےباکانہ ناول لکھنے کے لئے بھی بہت ہمت کی ضرورت ہے جو ہر کسی میں نہیں ہوتی۔

کہانی کا خلاصہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]