برتولت بریخت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
برتولت بریخت
Bertolt Brecht
Bertolt-Brecht.jpg
پیدائش 10 فروری 1898(1898-02-10)
آگسبرگ، مملکت بویریا، جرمن سلطنت
وفات 14 اگست 1956(1956-08-14)مشرقی برلن، مشرقی جرمنی
پیشہ مصنف، تھیٹر ڈائریکٹر
زبان جرمن
قومیت جرمنی کا پرچم
تعلیم طب
مادر علمی میونخ یونیورسٹی، جرمنی
صنف شاعری، ڈراما، افسانہ، ناول
نمایاں کام ماں کی ہمت اور اس کے بچے
قفقاز کےچاک کا دائرہ
گالیلیو کی داستان
اہم اعزازات 1954ء اسٹالن امن انعام

دستخط

برتولت بریخت ‏ (/brɛkt/؛[1][2][3] جرمن: [ˈbɛɐ̯tɔlt ˈbʁɛçt] ( سنیے)؛ پیدائشی نام Eugen Berthold Friedrich Brecht (اس آڈیو کے متعلق سنیے )؛ (پیدائش: 10 فروری 1898ء - وفات: 14 اگست 1956ء) بیسویں صدی کے جرمن شاعر، ڈراما نویس اور تھیٹر ڈائریکٹر تھے جو اپنی ڈراما نگاری کی وجہ سے عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ فن تمثیل (Dramaturgy) اور ڈراما صنعت میں انہوں نے بہترین خدمات انجام دیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

برتولت بریخت 10 فروری 1898ء کو آگسبرگ، مملکت بویریا، جرمن سلطنت میں برتھولد فریڈرک بریخت کے گھر پیدا ہوئے۔ 1924ء تک مملکت بویریا میں رہے۔ بعد ازاں میونخ یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور فوجی ہسپتال میں خدمات انجام دیں[4]۔

ادبی و فنی خدمات[ترمیم]

بیسویں صدی کے یورپی ڈراما نویسوں میں بریخت کو اہم مقام حاصل ہے۔ ان کا مزاج تھیٹر کی دنیا میں اُن کے انقلابی تجربات موافق اور مخالف تنقیدوں کے زبردست ہدف رہے ہیں۔ بریخت کے ابتدائی ڈرامے حقیقت پسندانہ ہیں۔ ان میں دکھایا گیا ہے کہ غریب پچھڑے ہوئے لوگ جب اس غیر منظم دنیا میں اپنی بقا کے لئے جدوجہد کرتے ہیں تو ان حالات میں تشدد اور تباہی کا آنا لازمی ہے۔[5]

1920ء کے بعد کے دور میں بریخت نے اظہاریت (Expressionism) کو اپنایا اور اپنا مشہور ڈراما "آدمی، آدمی ہے" لکھا اور پھر اس کو ترقی دے کر اس نے رزمیہ تھیٹر (Epic Theatre) کو ترقی دینا شروع کیا جس میں بیان، مونتاج (Montage) اپنے اندر مکمل سین (Self Contained Scenes) اور عقلی استدلال سب کو استعمال کرکے دیکھنے والے کو چونکا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ بات کو اچھی اور صاف طرح سمجھ سکے۔ سیٹ اس طرح بنائے جاتے ہیں اور روشنی کا ایسا بندوبست ہوتا ہے کہ تھیٹر دیکھنے والے کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ تھیٹر دیکھ رہا ہے بلکہ فضا ایسی پیدا کی جاتی ہے کہ وہ محسوس کرے کہ وہ اسی دنیا کا ایک حصہ ہے جو اسٹیج پر پیش کی جارہی ہے۔ اس میں موسیقی کا بھی خاص حصہ ہوتا ہے۔ اس کے لئے گیت خود بریخت لکھتا تھا۔ اس کا یک ڈراما تین پینی کا آپرا (Three Penny Opera) یورپ و امریکہ میں بے حد مقبول ہوا اور ایک تھیٹر میں مہینوں اسٹیج کیا گیا۔ یہ ڈراما سب سے پہلے 1928ء میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کی موسیقی کرٹ ویل نے ترتیب دی تھی۔ اس میں بھی سرمایہ دارانہ نظام سے بریخت کی نفرت اور انسانیت کے ساتھ اس کی بے پناہ محبت پوری طرح جھلکتی ہے۔[5]

بریخت فاشزم کا سخت مخالف تھا چنانچہ 1932ء میں ہٹلر برسرِ اقتدار آیا تو اس نے ترک وطن کرکے پہلے ڈنمارک اور پھر امریکہ میں سکونت اختیار کی۔ یہاں اس نے دو نہایت اہم ڈرامے "ماں کی ہمت اور اس کے بچے" اور "شت زوان کی عورت" لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ 1948ء مین بریخت مشرقی جرمنی لوٹ آیا اوور اسی نگرانی میں اس کے ڈراموں کا ایک الگ تھیٹر قائم کیا گیا ۔ یہاں 1955ء میں اس نے قفقاز کےچاک کا دائرہ (Caucasian Chalk Circle) نامی رزمیہ ڈراما پیش کیا جو اس صنف کا نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔ برلن کے اس تھیٹر میں بریخت کے انتقال کے بعد آج بھی اس کے کھیل پیش کیے جاے ہیں۔ بریخت کے ڈرامے ساری دنیا مین بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے ہیں اور اب بھی اسٹیج پر پیش کئے جاتے ہیں۔[5]

تصانیف[ترمیم]

ڈرامے[ترمیم]

  • آدمی، آدمی ہے
  • ماں کی ہمت اور اس کے بچے
  • قفقاز کے چاک کا دائرہ
  • گلیلیو کی داستان

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

برتولت بریخت کی وفات حرکتِ قلب بند ہونے سے 14اگست 1956ء کو مشرقی برلن، مشرقی جرمنی میں ہوئی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Brecht, Random House Unabridged Dictionary
  2. "Brecht, Bertolt", OxfordDictionaries.com
  3. "Brecht", yourdictionary.com
  4. ^ 4.0 4.1 برتولت بریخت، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  5. ^ 5.0 5.1 5.2 جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، 2003ء، ص 108