برتولت بریخت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
برتولت بریخت
(جرمن میں: Bertolt Brecht ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Bundesarchiv Bild 183-W0409-300, Bertolt Brecht.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (جرمن میں: Eugen Berthold Friedrich Brecht ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 10 فروری 1898[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اوجسبورج[8][9]  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 اگست 1956 (58 سال)[1][10][2][3][4][5][6]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مشرقی برلن[11]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the German Empire.svg جرمن سلطنت
Flag of East Germany.svg مشرقی جرمنی (1949–)
Flag of Germany (3-2 aspect ratio).svg جمہوریہ وایمار
Flag of Austria.svg آسٹریا  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی میونخ یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ڈراما نگار، غنائی شاعر، منظر نویس، تھیٹر ہدایت کار، شاعر، غنائیہ نگار، ادبی تنقید نگار، مصنف، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان جرمن[12]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Brecht Unterschrift.jpg 
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  ویکی ڈیٹا پر آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

برتولت بریخت ‏ (/brɛkt/؛[13][14][15] جرمن: [ˈbɛɐ̯tɔlt ˈbʁɛçt] ( سنیے)؛ پیدائشی نام Eugen Berthold Friedrich Brecht (اس آڈیو کے متعلق سنیے )؛ (پیدائش: 10 فروری 1898ء - وفات: 14 اگست 1956ء) بیسویں صدی کے جرمن شاعر، ڈراما نویس اور تھیٹر ڈائریکٹر تھے جو اپنی ڈراما نگاری کی وجہ سے عالمی شہرت کے حامل ہیں۔ فن تمثیل (Dramaturgy) اور ڈراما صنعت میں انہوں نے بہترین خدمات انجام دیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

برتولت بریخت 10 فروری 1898ء کو آگسبرگ، مملکت بویریا، جرمن سلطنت میں برتھولد فریڈرک بریخت کے گھر پیدا ہوئے۔ 1924ء تک مملکت بویریا میں رہے۔ بعد ازاں میونخ یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور فوجی ہسپتال میں خدمات انجام دیں [16]۔

ادبی و فنی خدمات[ترمیم]

بیسویں صدی کے یورپی ڈراما نویسوں میں بریخت کو اہم مقام حاصل ہے۔ ان کا مزاج تھیٹر کی دنیا میں اُن کے انقلابی تجربات موافق اور مخالف تنقیدوں کے زبردست ہدف رہے ہیں۔ بریخت کے ابتدائی ڈرامے حقیقت پسندانہ ہیں۔ ان میں دکھایا گیا ہے کہ غریب پچھڑے ہوئے لوگ جب اس غیر منظم دنیا میں اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرتے ہیں تو ان حالات میں تشدد اور تباہی کا آنا لازمی ہے۔[17]

1920ء کے بعد کے دور میں بریخت نے اظہاریت (Expressionism) کو اپنایا اور اپنا مشہور ڈراما "آدمی، آدمی ہے " لکھا اور پھر اس کو ترقی دے کر اس نے رزمیہ تھیٹر (Epic Theatre) کو ترقی دینا شروع کیا جس میں بیان، مونتاج (Montage) اپنے اندر مکمل سین (Self Contained Scenes) اور عقلی استدلال سب کو استعمال کرکے دیکھنے والے کو چونکا دیا جاتا ہے، تاکہ وہ بات کو اچھی اور صاف طرح سمجھ سکے۔ سیٹ اس طرح بنائے جاتے ہیں اور روشنی کا ایسا بندوبست ہوتا ہے کہ تھیٹر دیکھنے والے کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ تھیٹر دیکھ رہا ہے بلکہ فضا ایسی پیدا کی جاتی ہے کہ وہ محسوس کرے کہ وہ اسی دنیا کا ایک حصہ ہے جو اسٹیج پر پیش کی جا رہی ہے۔ اس میں موسیقی کا بھی خاص حصہ ہوتا ہے۔ اس کے لیے گیت خود بریخت لکھتا تھا۔ اس کا یک ڈراما تین پینی کا آپرا (Three Penny Opera) یورپ و امریکا میں بے حد مقبول ہوا اور ایک تھیٹر میں مہینوں اسٹیج کیا گیا۔ یہ ڈراما سب سے پہلے 1928ء میں پیش کیا گیا تھا۔ اس کی موسیقی کرٹ ویل نے ترتیب دی تھی۔ اس میں بھی سرمایہ دارانہ نظام سے بریخت کی نفرت اور انسانیت کے ساتھ اس کی بے پناہ محبت پوری طرح جھلکتی ہے۔[17]

بریخت فاشزم کا سخت مخالف تھا چنانچہ 1932ء میں ہٹلر برسرِ اقتدار آیا تو اس نے ترک وطن کرکے پہلے ڈنمارک اور پھر امریکا میں سکونت اختیار کی۔ یہاں اس نے دو نہایت اہم ڈرامے "ماں کی ہمت اور اس کے بچے " اور "شت زوان کی عورت" لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ 1948ء مین بریخت مشرقی جرمنی لوٹ آیا اوور اسی نگرانی میں اس کے ڈراموں کا ایک الگ تھیٹر قائم کیا گیا۔ یہاں 1955ء میں اس نے قفقاز کے چاک کا دائرہ (Caucasian Chalk Circle) نامی رزمیہ ڈراما پیش کیا جو اس صنف کا نہایت اعلیٰ نمونہ ہے۔ برلن کے اس تھیٹر میں بریخت کے انتقال کے بعد آج بھی اس کے کھیل پیش کیے جاے ہیں۔ بریخت کے ڈرامے ساری دنیا مین بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ کئی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے ہیں اور اب بھی اسٹیج پر پیش کیے جاتے ہیں۔[17]

تصانیف[ترمیم]

ڈرامے[ترمیم]

  • آدمی، آدمی ہے
  • ماں کی ہمت اور اس کے بچے
  • قفقاز کے چاک کا دائرہ
  • گلیلیو کی داستان

اعزازات[ترمیم]

وفات[ترمیم]

برتولت بریخت کی وفات حرکتِ قلب بند ہونے سے 14اگست 1956ء کو مشرقی برلن، مشرقی جرمنی میں ہوئی۔[16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11893857f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Bertolt-Brecht — بنام: Bertolt Brecht — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w67082kg — بنام: Bertolt Brecht — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب انٹرنیٹ بروڈوے ڈیٹا بیس پرسن آئی ڈی: https://www.ibdb.com/broadway-cast-staff/4511 — بنام: Bertolt Brecht — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب دائرۃ المعارف اطالوی ثقافت آئی ڈی: https://enciclopedia.itaucultural.org.br/pessoa16926/bertolt-brecht — بنام: Bertolt Brecht — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: Itaú Cultural — ناشر: Itaú Cultural — ISBN 978-85-7979-060-7
  7. فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=2972 — بنام: Bertolt Brecht — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. اجازت نامہ: CC0
  9. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Брехт Бертольт — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  10. مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Брехт Бертольт — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  11. مدیر: Jan Knopf — عنوان : Brecht-Handbuch — جلد: 5 — صفحہ: 130 — ناشر: J.B. Metzler
  12. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11893857f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  13. Brecht, Random House Unabridged Dictionary
  14. "Brecht, Bertolt", OxfordDictionaries.com
  15. "Brecht", yourdictionary.com
  16. ^ ا ب برتولت بریخت، دائرۃالمعارف برطانیکا آن لائن
  17. ^ ا ب پ جامع اردو انسائیکلوپیڈیا (جلد-1 ادبیات)، قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی، 2003ء، ص 108