بلوچستان میں حملے، فروری 2019ء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بلوچستان میں حملے، فروری 2019ء
بسلسلہ بلوچستان میں کشمکش
مقام بلوچستان، پاکستان
تاریخ 16 تا 17 فروری 2019ء
پاکستان کا معیاری وقت (متناسق عالمی وقت+05:00)
نشانہ فرنٹیئر کور اہلکار
حملے کی قسم فائرنگ
ہلاکتیں 10
زخمی 5
مرتکبین مختلف

16 اور 17 فروری کو بلوچستان کے مختلف مقامات میں سیکیورٹی افواج پر حملوں میں 10 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے۔

حملے[ترمیم]

ضلع لورالائی[ترمیم]

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں 16 فروری کو نامعلوم مسلح افراد نے فرنٹیئر کور بلوچستان کے 2 اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کر دیا جبکہ فائرنگ سے ایک راہی بھی زخمی ہو گیا۔ پولیس کے ایک افسر اخلاص کے بقول ایف سی اہلکار موٹر سائیکل پر ژوب روڈ سے گزر رہے تھے کہ راستے میں وہاں پہلے سے گھات لگائے ہوئے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا اور فرار ہو گئے۔[1]

ضلع پنجگور اور ضلع تربت[ترمیم]

بلوچستان کے پنجگور اور تربت اضلاع میں 17 فروری بروز اتوار کو فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کی گاڑیوں پر نامعلوم افراد نے خودکار اسلحوں سے 2 حملے کیے۔

  • بلوچستان لیویز کے ایک عہدے دار ہدایت اللہ دشتی کے بقول پہلا حملہ پنجگور شہر سے دور گوران یا گرداب[2] کے علاقے میں کیا گیا جہاں مسلح افراد نے گاڑی میں سوار ایف سی اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے گاڑی میں سوار 6 اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔ علاقہ شہر سے دور ہونے کے باعث زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے میں کافی تاخیر ہوئی، اس دوران میں زخمیوں میں سے 4 نے دم توڑ دیا دیگر 2 زخمیوں کو مقامی ہسپتال میں داخل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی۔[3]
  • تربت کے علاقے سنگ آباد کے مقام پر فرنٹیئر کور بلوچستان کے اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہو گئے۔ اسسٹنٹ کمشنر تربت سعید جان بلوچ کے بقول ایف سی کے اہلکار ایک گاڑی میں لنک روڈ سے سی پیک شاہراہ میں داخل ہو رہے تھے کہ اس دوران میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جب کہ 3 زخمیوں کو تربت ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔[1]

ذمہ داری[ترمیم]

ضلع لورالائی[ترمیم]

تحریک طالبان پاکستان نے سماجی ذرائع ابلاغ پر جاری اپنے ایک بیان میں اس سانحہ کی ذمہ داری قبول کی ہے۔[1]

ضلع پنجگور اور ضلع تربت[ترمیم]

ان دونوں واقعات کی ذمہ داری اب تک کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے لیکن اس سے پہلے ہونے والے بیشتر حملوں کی ذمہ داری بلوچ عسکری تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔[1]

رد عمل[ترمیم]

  • وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے حملوں کی مذمت کی اور متعلقہ اداروں کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور سیکیورٹی افواج کو نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھرپور کارروائی کریں۔[1]
  • وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھی شدید الفاظ میں حملوں کی مذمت کی۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ "بلوچستان: سکیورٹی فورسز پر شدت پسندوں کے حملے، دس اہلکار ہلاک"۔ وی او اے۔ 18 فروری، 2019۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  2. "بلوچستان: دہشتگرد حملے میں 4سکیورٹی اہلکار شہید"۔ Nawaiwaqt۔ 18 فروری، 2019۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  3. ڈان اخبار (18 فروری، 2019)۔ "پنجگور میں فائرنگ سے 4 ایف سی اہلکار شہید"۔ Dawn News Television۔ Check date values in: |date= (معاونت)
  4. "Balochistan: Four security personnel martyred in terrorist attack"۔ www.radio.gov.pk۔