جنوبی ایشیا میں سزائے موت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھانسی کا پھندا

دنیا کے کئی ممالک میں سزائے موت کو قانونًا مسترد کیا گیا ہے۔ تاہم جنوبی ایشیا میں سزائے موت رائج ہے اور بیش تر ممالک میں اسے قانونی فیصلوں میں کئی بار سزا کے طور سنایا جاتا ہے۔

سزائے موت کے مخالف ممالک[ترمیم]

نیپال اور بھوٹان[ترمیم]

نیپال اور بھوٹان میں سزائے موت قانونی طور پر منسوخ ہے۔ نیپال کے دستور کی دفعہ 16 اور بھوٹان کے دستور کی دفعات کے تحت سزائے موت پر روک لگا دی گئی ہے۔[1]

سری لنکا[ترمیم]

سری لنکا میں سزائے موت کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ تاہم ملک میں موت کے خلاف عام تاثر کے پیش نظر 1976ء کے بعد کوئی سزائے موت نہیں دی گئی۔ قانونی معاملوں پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ملک ایک قدم آگے بڑھ کر مستقبل میں سزائے موت پر قطعی روک لگا سکتا ہے، جیساکہ عالممی رجحان بھی ہے۔[1]

سزائے موت کا پرزور نفاذ کرنے والے ممالک[ترمیم]

جنوب ایشیائی ممالک میں افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت، مالدیپ اور پاکستان سزائے موت کے نفاذ پر یقین رکھتے ہیں تاکہ بدنیت اشخاص کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔[1]

بھارت[ترمیم]

بھارت میں تعزیرات ہند 1860ء (مرممہ 2013ء) کی رو سے 11 جرائم کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔ اس میں حکومت کے خلاف جنگ، مسلح افواج کے ایک رکن کی بغاوت کی حوصلہ افزائی کرنا، تیزابی حملہ، قتل، آبروریزی اور مجرمانہ سازش شامل ہیں۔[1]

1980ء میں بچن سنگھ بہ مقابلہ پنجاب کی ریاست کے مقدمے میں ایک معیار قائم کیا کہ سزائے موت شاذونادر معاملوں (“rarest of rare”) میں دی جاسکتی ہے “سماج کے اجتماعی ضمیر کو ایسا صدمہ پہنچے جو عدلیہ کے اقتدار کے حاملین کو سزائے موت دینے کی توقع کرے بلا اس بات پر توجہ لیے ہوئے کہ ان کی شخصی رائے کیا ہے تاکہ سزائے موت کو باقی رکھنے یا نہ رکھنے خواہشمندی کیا ہے۔“

حالانکہ شاذونادر معاملوں کی کوئی تعریف نہیں کی گئی، یہ عام طور سے سمجھا گیا ہے کہ قبل از وقت منصوبہ بند، بریریت سے بھرے، سفاک اور بالکلیہ بے رحم جرم کے بارے میں ہے، جس میں مقتول یا متاثرہ شخص کو کوئی موقع نہیں دیا گیا ہو۔ سپریم نے یہ پیمانے کی مزید وضاحت 2012ء دہلی اجتماعی زیادتی واقعہ کی سنوائی کے دوران پیش کی۔[1]

بنگلہ دیش[ترمیم]

بنگلہ دیش کا قانون بھارت کے مشابہ ہے۔ تاہم تیزابی حملے کا اس میں تذکرہ نہیں ہے۔[1]

پاکستان[ترمیم]

پاکستان میں سزائے موت 27 جرائم کے لیے دی جا سکتی ہے۔ ان میں توہین رسالت، شادی کے دائرے کے باہر مباشرت، کسی عورت کی عزت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور منشیات کی اسمگلنگ شامل ہیں۔[1]

افغانستان[ترمیم]

افغانستان میں قتل، ارتداد، ہم جنس پسندی، آبروریزی، دہشت گردی، منشیات کی فروخت، زنا، غداری یا میدان جنگ سے فراری کو اسلامی عدلیہ کے مطابق سزائے موت دی جاسکتی ہے۔[1]

مالدیب[ترمیم]

سزائے موت کے معاملے میں مالدیپ کا قانون بڑی حد تک افغانستان سے مشابہ ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]