حامد اللہ افسر میرٹھی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حامد اللہ افسر میرٹھی
معلومات شخصیت
پیدائش 29 نومبر 1895  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
میرٹھ، اتر پردیش، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 19 اپریل 1974 (79 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ، اتر پردیش، بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حامد اللہ افسر میرٹھی (پیدائش: 29 نومبر 1895ء — وفات: 19 اپریل 1974ء) اردو زبان کے شاعر، نثرنگار ، افسانہ نگار اور مصنف تھے۔ وہ میرٹھ سے نسبت کی وجہ سے میرٹھی کہلاتے تھے۔حامد اللہ کا تخلص افسر تھا۔

سوانح[ترمیم]

پیدائش اور خاندانی حالات[ترمیم]

حامد اللہ 29 نومبر 1895ء کو میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ میرٹھ میں ہی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ عربی زبان اور فارسی زبان کی مروّجہ تعلیم کے علاوہ اُنہیں گھریلو ماحول میں تربیت ملی جس نے اُنہیں بہت جلد اپنے پیروں چلنے کی صلاحیت اور قوت بخش دی۔ حامد اللہ کے والد مولوی عصمت اللہ صاحب بذاتِ خود علم و فضل کا ایک گراں بہا گنجینہ تھے۔ اُس وقت کے تقریباً تمام سربرآوردہ علما سے اُن کے گہرے تعلقات تھے اور ایک دوسرے کے یہاں آمدورفت تھی۔ اِن علما میں شمس العلماء مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی بھی شامل تھے۔[1]

ابتدائی تعلیم و تربیت[ترمیم]

حامد اللہ کا سب سے پہلا مکتب مدرسہ اسلامیہ عربیہ، میرٹھ ہے جہاں اُنہوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ 12 سال کی عمر میں وہ مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کے کے سپرد کردیے گئے اور تقریباً 2 سال وہ دہلی میں اُن کے پاس عربی زبان اور فارسی زبان کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ دو سال کی مختصر مدت میں حامد اللہ نے علم مروّجہ کے علاوہ اعلیٰ تربیت کا فیض بھی حاصل کیا۔ وہ مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کی شفقت اور سرپرستی سے مکملاً مستفید ہوئے اور کامل انسان بننے کا درس لے کر واپس لوٹے اور اِس طرح اُن کی ابتدائی تعلیم و تربیت میں مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی کا سب سے زیادہ عمل دخل ہے۔ اُن کے علاوہ گھر پر والد مولوی عصمت اللہ کے ضابطہ درس و تدریس میں پوری طرح عمل کروایا گیا۔ اپنے والد کی نگرانی میں اُنہیں اعلیٰ تہذیب و تربیت ملی۔ مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سے تحصیل علم کے بعد وہ دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے لیکن ایک سال کے کم ہی عرصہ میں دارالعلوم دیوبند کو خیرباد کہہ واپس گھر چلے آئے۔ ابتدائی دور میں جب اُنہیں سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت پیدا ہوئی تو اُن کے والد نے اُن سے وعدہ لیا تھا کہ:’’کبھی جھوٹ مت بولنا‘‘۔ اِس کے علاوہ اُن پر کوئی خاص پابندی نہ تھی۔ حامد اللہ اپنے دورِ طفلی کے اس وعدے پر تادمِ آخر پابند رہے۔[2]

ثانوی تعلیم[ترمیم]

حامد اللہ نے اپنے والد اور مولوی ڈپٹی نذیر احمد دہلوی سے تحصیل علم کے بعد سہارن پور میں دارالعلوم دیوبند میں تعلیم سے فراغت کے بعد جو نامکمل رہ گئی تھی، انگریزی تعلیم کے لیے اب 1913ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول، میرٹھ میں نویں درجہ میں داخلہ لے لیا۔ انگریزی تعلیم کا حصول اُن کی خاندانی روایات کے بالکل خلاف تھا مگر گھر میں پہلی درخواست پر اجازت نہ ملی۔ آہستہ آہستہ ماحول سازگار ہوا تو والدین نے اجازت دے دی۔ سخت محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی۔بہت کم عرصہ میں اچھی خاصی انگریزی سیکھ گئے اور 1915ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کر لیا۔ بعد میں اِسی کالج میں اِنٹر کا امتحان پاس کیا۔[3] 1925ء میں ایم اے انگریزی اور ایل ایل بی کے لیے دونوں میں امتحانات دینے کی خاطر بیک وقت داخلے لے لیا۔ حسبِ توقع دونوں امتحانات میں کامیاب ہوئے مگر حالی حالات بہتر نہ ہوسکنے کے باعث مزید اعلیٰ تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور علی گڑھ چلے گئے۔ [4]

ملازمت[ترمیم]

1916ء میں حامد اللہ کا تقرر پہلی بار نائب تحصیلدار کی حیثیت سے ہوا اور وہ میرٹھ ضلع کی تحصیل جانسٹھ میں متعین کردیے گئے۔ لیکن جلد ہی اِس ملازمت سے بیزار ہو گئے اور استعفا دے دیا۔1924ء میں ڈیڑھ سو روپئے کی ماہوار ملازمت الہ آباد کے یو پی گزٹ کے شعبے میں اختیار کرلی۔ اعلیٰ تعلیم کے شوق نے یہ دوسری ملازمت بھی چھڑوا دِی اور علی گڑھ چلے گئے۔ 1926ء میں حامد اللہ کے والد مولوی عصمت اللہ کا انتقال ہو گیا تو گھر کی ذمہ داری حامد اللہ کے کندھوں پر آ گئی۔ نومبر 1927ء میں وہ لکھنؤ کے جوبلی کالج میں اردو کے استاد مقرر ہو گئے۔ بعد میں وہ ترقی کرتے ہوئے 1950ء میں اِس ملازمت سے سبکدوش ہو گئے۔[5]

وفات[ترمیم]

حامد اللہ افسر کا انتقال لکھنؤ میں 19 اپریل 1974ء کو ہوا۔[6]

تصانیف[ترمیم]

حامد اللہ افسر کا پہلا شعری مجموعہ ’’پیامِ روح‘‘ تھا اور دوسرا شعری مجموعہ ’’جوئے رواں‘‘ تھا۔ دو افسانوں کے مجموعے ’’ڈالی کا جوگ‘‘ اور ’’پرچھائیاں‘‘ بھی شائع ہوئے۔ تنقیدی کتابوں میں ’’نورس‘‘ اور ’’نقد الادب‘‘ شامل ہیں۔

تصانیف[ترمیم]

  1. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 20/21، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء
  2. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 20، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء
  3. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 24/25، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء
  4. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 29/30، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء
  5. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 30/31، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء
  6. اختر یزداں محسن: حامد اللہ افسر، حیات اور کارنامے، صفحہ 36، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 1975ء