حمد اللہ جان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حمد اللہ جان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1914  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
داگئی، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 12 جنوری 2019 (104–105 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جمیعت علمائے اسلام  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند
مظاہر علوم سہارنپور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ محمد زکریا کاندھلوی،  حسین احمد مدنی،  محمود حسن دیوبندی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص عزيزالله المظهري  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ عالم،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولانا حمد اللہ جان یا ڈاگئی باباجی (1914ء - 12 جنوری 2019ء) ایک سیاستدان، پاکستانی عالم دین اور شیخ الہند محمود حسن دیوبندی، محمد زکریا کاندھلوی اور حسین احمد مدنی کا شاگرد تھا۔ وہ 1914ء میں ضلع صوابی ایک گاؤں ڈاگئی میں پیدا ہوئے۔[1] انہوں نے دارالعلوم دیوبند اور مظاہر العلوم سہارنپور میں تعلیم حاصل کی۔

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد علامہ عبدالحکیم اور چچا مولانا صدیق سے حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کی لیکن اپنی طالب علمی کے آخری تین سال مظاہر العلوم سہارنپور میں گزارے اور وہاں سے 1947ء میں حدیث کا دورہ مکمل کیا۔[2]

سیاست[ترمیم]

انہوں نے 1970ء جمعیت علماء اسلام اور 1988ء کے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری اتحاد کے پلیٹ فارم سے حصہ لیا لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔[2]

وفات[ترمیم]

مولانا حمد اللہ جان کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا، نمازجنازہ میں ان کے لاکھوں شاگردوں، عقیدت مندوں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، کارکنوں اور شہریوں نے شرکت کی۔[3]

جانشین[ترمیم]

مولانا حمد اللہ کے بیٹے اشفاق اللہ خان کو سیاسی جانشین اور مدرسے کا مہتمم، دوسرے بیٹے ڈاکٹر انعام اللہ کو نائب جانشین ، بڑے بیٹے مولانا لطف اللہ جان کی بحیثیت ناظم اعلیٰ دارالعلوم مظہرالعلوم، پوتے مولانا اسد اللہ کلیم کی بطور دینی جانشین دستار بندی کی گئی، مولانا حمداللہ جان کے جانشیوں کی دستاربندی سربراہ جے یوآئی مولانا فضل الرحمان نے کی، جو ان کی رہائش گاہ پر تعزیت کے لیے پہنچے تھے۔ جے یو آئی کے صوبائی امیر مولانا گل نصیب خان، مفتی کفایت اللہ، مولانا عطا الحق درویش، اے این پی کے سردار حسین بابک، جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سینیٹر مشتاق احمد خان، مولانا عزیز الرحمن ہزاروی، سینیٹر مولانا عطاء الرحمن اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "شاگرد شیخ الہند حضرت مولانا حمد اللہ جان کی نماز جنازہ آج ادا کی جائیگی". Daily Pakistan. 13 جنوری، 2019. 
  2. ^ ا ب "ممتاز عالم دین، شیخ القرآن و حدیث مولانا حمد اللہ جان انتقال کرگئے". 12 جنوری، 2019. 
  3. "100 سال سے زائد عمر پانے کے بعد مولانا حمداللہ المعروف ڈاگئی بابا انتقال کر گئے". 12 جنوری، 2019. 
  4. "مولانا حمد اللہ جان سپردخاک، جنازے میں لاکھوں عقیدت مندوں کی شرکت". 14 جنوری، 2019.