"معرکہ بلاط الشہداء" کے نسخوں کے درمیان فرق

Jump to navigation Jump to search
حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  3 سال پہلے
م
درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی
م (خودکار: خودکار درستی املا ← کیے، \1 رہی، \1 رہا، سے، سے)
م (درستی املا بمطابق فہرست املا پڑتالگر + ویکائی)
107ھ میں [[عنبسہ]] امیر اندلس نے [[غال]] پر باقاعدہ لشکر کشی کی اور [[قرقشونہ]] فتح کیا۔ قرقشونہ کی فتح کی بنا پر [[سپٹی مینیا]] کا تمام علاقہ کی اطاعت قبول کر لی۔ سپٹی مینیا کے بعد عنبسہ غال کے اندرونی حصے کی طرف بڑھا اور [[دریائے رہون]] کی وادی کو روندتے ہوئے لیابس فتح کیا۔ اس کے بعد [[برگنڈی]] کا رخ کیا اور شہر [[اوٹن]] تک کے علاقہ کو زیر و زبر کر دیا۔ اس دوران امیر عنبسہ چند دیہاتیوں کے ہاتھوں زخمی ہو گئے لٰہذا [[عروہ بن عبداللہ]] کو اپنا جانشین نامزد کر دیا۔ زخم کاری تھے جن سے وہ جانبر نہ ہو سکے۔ یکے بعد دیگرے چند والیوں کا تقرر کیا گیا لیکن بالاخر امیر [[عبدالرحمن بن عبداللہ الغافقی]] اندلس کے والی مقرر کیے گئے ۔
 
== عبدالرحمنعبد الرحمن الغافقی کی تقرری ==
والی [[اندلس]] کی حیثیت سے امیر عبدالرحمٰنعبد الرحمٰن کا تقرر تاریخ اسلام کا نہایت ہی اہم واقعہ ہے۔ امیر عبدالرحمنعبد الرحمن ایک نہایت ہی اولوالعزم، حوصلہ مند، مدبر اور منتظم حکمران تھا۔ وہ عوام الناس کے مختلف طبقوں میں یکساں ہر دلعزیز تھا۔ اس نے حکومت اندلس کی تمام خرابیاں دور کرکے نظم و نسق کی اصلاح کی اور پھر فرانس کی باقاعدہ تسخیر کا منصوبہ بنایا۔ رضاکاروں ،رضاکاروں، مجاہدوں اور باقاعدہ فوج پر مشتمل یہ لشکر جس کی تعداد تقریباً 70 ہزار تھی۔ 114ھ / 724ء میں فرانس کی حدود میں داخل ہونے کے لیے روانہ ہوا مسلمانوں کا اس سے زیادہ شاندار لشکر اور اس سے زیادہ قابل جرنیل ابھی تک فرانس کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔ دوران سفر اطلاع ملی کہ صوبہ دار سرحد عثمان نے ایک فرانسیسی امیر ڈیوک آف ایکی ٹین کی لڑکی سے شادی کر لی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہے امیر عبدالرحمنعبد الرحمن نے فوراً اس کی سرکوبی کے لیے فوج روانہ کی عثمان مارا گیا۔
 
== غال پر حملہ ==
عبدالرحمنعبد الرحمن اب غال کے حدود میں داخل ہو گیا۔ وادی رہون مسلمانوں کے قدموں میں تھی۔ مخالف قوتیں خس و خاشاک کی طرح بہتی جا رہی تھیں۔ معمولی سی مزاحمت کے بعد مسلمان افواج نے ارلس کے شہر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد [[کوہ پائرینیس]] کو پار کرنے کے بعد [[بورڈیکس]] کے شہر کو سر کرتے ہوئے اسامی لشکر [[برگنڈی]] کی طرف بڑھا ۔بڑھا۔ راستہ میں [[دریائے ڈارون]] کے کنارے ڈیوک آف ایکی ٹین نے راہ روکنے کی کوشش کی مگر منہ کی کھائی اور کثیر مالی و جانی نقصان کے بعد راہ فرار اختیار کی۔ اس زمانہ میں فرنگیوں کا بادشاہ [[تھیوڈور سوم]] تھا لیکن اصل طاقت پیرس کے میر [[چارلس مارٹل]] کے ہاتھوں میں تھی۔ غال کے قومی دفاع کا ذمہ دار درحقیقت یہی شخص تھا۔ چنانچہ [[ایکی ٹین]] کے ڈیوک نے چارلس مارشل سے امداد طلب کی ۔کی۔ غال موت و زیست کے مسئلہ سے دوچار تھا ۔تھا۔ چنانچہ یورپ کے دیگر ممالک سے بھی غال کے لیے امدادی فوجیں روانہ کی گئیں۔ [[مسیحی دنیا]] مسلمانوں کے خلاف آخری معرکہ آرائی کے لیے اب پوری طرح مستعد تھی۔ چنانچہ چارلس مارٹل اپنی افواج کے ساتھ توغ کے قریب اسلامی افواج کے مدمقابل خیمہ زن ہوا۔
 
== جنگ ==
مسلمانوں اور مسیحیوں کی تعداد کا کوئی مقابلہ نہ تھا۔ علاوہ ازیں مسلمان افواج میں [[بربر]] اور [[عرب]] گروہ کے درمیان کشیدگی موجود تھی۔ [[مال غنیمت]] کی فراوانی بھی ان کی جنگ سے جی چرانے پر مجبور کر رہی تھی۔ لیکن امیر عبدالرحمنعبد الرحمن نے اپنی پر تاثیر شخصیت سے کام لے کر فوج میں نئی روح پھونک دی اور مقابلہ آرائی کے لیے تیار کیا۔ ایک ہفتہ افواج آمنے سامنے پڑی رہیں لیکن امیر سے اب ضبط نہ ہو سکا۔ بڑھ کر حملہ کر دیا صبح سے شام تک خونریز جنگ ہوئی مگر رات پھیل جانے کے سبب دوسرے دن تک ملتوی کر دی گئی مسلمان بڑی بہادری اور خوش دلی سے میدان جنگ میں اترے تھے انہیں اپنی فتح کا کامل یقین تھا سات آٹھ روز تک چھوٹی چھوٹی جھڑپیں ہوتی رہیں۔ نویں دن دونوں فوجوں کے درمیاں صبح سے شام تک بڑی خوفناک جنگ ہوئی لیکن یہ معرکہ آرائی بھی فیصلہ کن نہ تھی ۔تھی۔ دسویں دن علی الصبح ہی جنگ کا آغاز کر دیا گیا دنوں اطراف سے بڑھ بڑھ کر ایک دوسرے پر حملے ہوتے رہے تلواروں کی جھنکار اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ سے میدان جنگ میں عجیب شور محشر برپا تھا۔ مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا اور آثار دکھائی دے رہے تھا کہ مسیحی فوج تھک ہار کر اب میدان سے پسپا ہونے کو ہے کہ اچانک ایک شخص نے افواہ اڑا دی مسلمانوں کا مال غنیمت خطرے میں ہے۔ مال غنیمت کے چھکڑے کے چھکڑے لدے ہوئے ساتھ تھے۔ سپاہی دوڑ کر اپنے خیموں پر ٹوٹ پڑے تاکہ مال غنیمت کی حفاظت کر سکیں اس افراتفری کو روکنے کے لیے امیر عبدالرحمنعبد الرحمن نے بڑی کوشش کی لیکن بے سود ۔سود۔ عین اس وقت جب کہ وہ اپنی افواج کو منظم کرنے میں لگے ہوئے تھے ایک تیر آکر انہیں لگا اور وہ گھوڑے سے نیچے گر گئے۔ امیر کی عدم موجودگی میں فوج میں ابتری پھیل گئی اور فتح کی امید جب ایک واہمہ بنتی نظر آئی تو بڑی تیزی سے یہ لشکر رات کی تاریکی میں جنوب کی طرف سے اپنے فوجی مرکز سپٹی مینیا تک پسپا ہو گیا۔ صبح طلوع ہوئی تو میدان صاف اور خاموش پا کر مسیحی افواج حیران و ششدر رہ گئیں انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ مسلمان فوج مال غنیمت کے انبار چھوڑ کر پسپائی اختیار کر چکی ہے۔ وہ اسے کوئی جنگی چال سمجھتے ہوئے برے حزم و احتیاط کے ساتھ میدان میں قدم رکھ رہے تھے۔ بہرحال چارلس مارشل نے تعاقب مناسب نہ سمجھا اور اپنی افواج کے ساتھ شمال کی طرف واپس چلا گیا۔
 
== اہمیت ==
معرکہ بلاط الشہداء اپنی اہمیت کے لحاظ سے دنیا کی 15 اہم جنگوں میں شمار کی جاتی ہے ۔ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ توغ کے قریب میدان میں مسلمانوں نے دنیا کی حکومت کھو دی۔ اگر مسلمان کامیاب ہو جاتے تو آج [[یورپ]] کی تاریخ کا رخ کسی اور طرف ہوتا۔ [[فرانس]] کے بعد [[انگلستان]] یقیناً اسلامی حملہ کی مزاحمت نہ کر سکتا اور یورپ آج نیلی آنکھوں والی سفید [[آریائی]] نسل کی بجائے سیاہ آنکھوں والی [[سامی]] نسل کا مسکن ہوتا۔
 
مشہور مورخ [[ایڈورڈ گبن]] نے اپنی معرکہ آرا تاریخ "تاریخ زوال روما" میں لکھتا ہے:

فہرست رہنمائی