خان لطیف خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خان لطیف خان ایک غیر مقیم بھارتی، صنعت کار اور صحافی ہیں۔ وہ حیدرآباد، دکن میں بطور خاص منصف کے ادارت کے لیے جانے جاتے ہیں جسے انہوں نے 1995ء سے اپنی ملکیت میں لیا اور شہر کی اردو صحافت میں ایک نئے انقلاب لانے کی کوشش کی۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

خان لطیف خان کی دولت موروثی نہیں ہے۔ وہ حیدرآباد، دکن میں بی ایس سی اور ایم اے کر چکے تھے۔ انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکا کی ارینا یونیورسٹی سے انجینئری کی سند حاصل کی اور بعد میں ایم بی اے بھی کیا۔ تاہم وہ امریکا روانہ ہوتے وقت آرام دہ جہاز کی بجائے ایک کارگو جہاز میں لندن کا سفر کیے تھے، تاکہ سفری اخراجات کم ہوں۔ وہاں وہ ایک مل میں صبح 6 بچے شام 8 بجے تک کام کیے تاکہ ان کی امریکا میں اعلٰی تعلیم کے لیے وہ پیشہ جوڑ سکیں۔[1]

خاندان[ترمیم]

خان لطیف خان کے چھوٹے لڑکے خان اسلم خان ماہر قلبیات ہیں۔ جب کہ بڑے لڑکے خان وسیم خان ایک سینئر ایڈوکیٹ ہیں۔ ان کی چار میں تین لڑکیاں طبی پیشے میں ہیں اور اسی طرح کے ان کے تین داماد بھی ڈاکٹر ہیں۔ [1]

آبا و اجداد[ترمیم]

خان لطیف خان کے آبا و اجداد ڈیرا اسماعیل خان سے تعلق رکھتے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ یہ لوگ حیدرآباد کے چھٹے نظام میر محبوب علی خان کی دفاعی افواج میں تقریبًا سو سال پہلے مامور ہوئے تھے۔ تاہم اب یہ خاندان پوری طرح سے حیدرآباد منتقل ہو چکا ہے۔ یہ لوگ کام کی وجہ سے حیدرآباد اور شکاگو کا رخ کرتے رہتے ہیں۔[1]

منصف کے ذریعے اردو صحافت کا نیا باب[ترمیم]

مزید دیکھیے: منصف (روزنامہ)

خان لطیف خان بنیادی طور پر ایک صنعت کار ہیں۔ وہ ایک متمول غیر مقیم بھارتی بھی ہیں۔ وہ صحافت کے میدان میں اپنی ایک چھاپ چھوڑنے کے خوہش مند تھے، حالاں کہ دنیائے قلم سے ان کا خاص تعلق نہیں تھا۔ اس وجہ سے انہوں نے منصف اخبار میں اپنا کافی سرمایہ لگایا۔ 1990ء کے دہے سے پہلے اردو اخبارات میں صرف کاتبوں کے حسن خطاطی پر زور تھا۔ لطیف خان نے ارادہ ظاہر کیا کہ ان کی ادارت میں اخبار کمپیوٹر کے ذریعے چھاپا جائے۔ اس کے علاوہ اردو اخبارات میں رنگین صفحات بھی کم ہی ہوتے تھے۔ انہوں ںے کہا کہ اخبار رنگین صفحات پر مشتمل ہوگا۔ حیدرآباد کے اردو اخبارات میں صرف اتوار، عید اور کچھ خاص مواقع جیسے کہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر ضمیمے نکالے جاتے تھے۔ خان لطیف خان اسے ایک یومیہ کارروائی بنا دی۔ مہمان کالموں اور سنڈی کیٹ کالموں کو خاص جگہ دی۔ کئی اہم موضوعات، مثلًا کیریئر کی رہنمائی پر بھی خاص توجہ دی۔ اپنے صحافیوں کی تنخواہوں میں زبر دست اضافہ کیا۔ یہ سارے اصلاحات 1995ء سے رو بہ عمل لائے گئے۔ ان میں سے کئی اقدامات سیاست اخبار منصف اخبار کے نشاۃ ثانیہ کی خبر سننے کے ساتھ ساتھ رو بہ عمل لائے گئے۔

حوالہ جات[ترمیم]