داؤد رہبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
داؤد رہبر
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1926  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات 5 اکتوبر 2013 (86–87 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد شیخ محمد اقبال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج لاہور
جامعہ کیمبرج  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ایم اے،  پی ایچ ڈی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
ڈاکٹری مشیر ریوبن لیوی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاکٹورل مشیر (P184) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ماہرِ لسانیات،  شاعر،  ماہر موسیقیات،  الٰہیات دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل مکتوب نگاری،  موسیقی،  تقابل ادیان،  مطالعہ پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت بوسٹن یونیورسٹی،  جامعہ پنجاب،  یونیورسٹی آف وسکونسن–میڈیسن،  اورینٹل کالج لاہور،  میک گل یونیورسٹی،  جامعہ انقرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

داؤد رہبر (پیدائش: 1926ء - 5 اکتوبر، 2013ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور شاعر، ماہرِ موسیقی، مضمون نویس اور مکتوب نگار تھے۔ جامعہ کیمبرج سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اورینٹل کالج لاہور، میکگل یو نیورسٹی کینیڈا، انقرہ یو نیورسٹی ترکی، بوسٹن یو نیورسٹی اور یونیورسٹی آ ف وسکانسن ماڈیسن ریاستہائے متحدہ امریکا کی جامعات میں تقابلِ ادیان، عربی زبان و ادبیات، مطالعہ پاکستان کے مضامین میں تدریسی خدمات انجام دیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

پیدائش / والدین / تعلیم[ترمیم]

داؤد رہبر 1926ء کو لاہور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3] ان کے والد پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال (19 اکتوبر 1894ء -21 مئی 1948ء) نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا اور پھر جامعہ کیمبرج سے مشہور برطانوی مستشرق پروفیسر ایڈرڈ گرینول براؤن کی نگرانی میں فارسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔ وہ 1922ء میں اورینٹل کالج لاہور سے وابستہ ہوئے اور پھر فارسی کے صدر شعبہ اور پرنسپل کے عہدوں پر فائز رہے۔ تین برس کی عمر میں داؤد رہبر کی والد ہ 13 جنوری، 1929ء انتقال کرگئیں۔ ان کے والد ڈاکٹر شیخ محمد اقبا ل نے ان کی تعلیم و تربیت پر بھر پور توجہ دی۔[3]

1947ء میں عربی زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ان کے اعلیٰ تعلیمی معیار او ر ا متیازی کا م یابی کی بنا پر داؤد رہبر کو میکلوڈ ریسرچ اسکالر شپ سے نوازا گیا۔ ایم اے (عربی) کے بعد ان کو پنجاب یو نیورسٹی اورینٹل کالج لاہور میں عربی زبان و ادب کی تدریس پر مامور کیا گیا۔ اس زمانے میں ان کے والد اورینٹل کالج لاہور کے پرنسپل کے منصب پر فائز تھے۔1949ء میں داؤد رہبر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں جامعہ کیمبرج سے پروفیسر ریوبن لیوی (Prof. Reuben Levy) کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ جامعہ کیمبرج میں داؤد رہبر کو دورانِ تعلیم تاریخ، فلسفہ، عالمی ادبیات،لسانیا ت اور تقابل ادیان کے موضوع پر اپنے ذوقِ سلیم کے مطابق مطالعہ اور تحقیق کے مواقع میسر آئے۔ دورانِ تحقیق ان کے نگراں نے اپنے اس فطین شاگرد کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیااور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ لاہور واپس لوٹے۔[3]

درس و تدریس[ترمیم]

انگلستان سے واپسی پر لاہور میں مختصر مدت کے قیام کے بعد 1954ء میں کینیڈا کی میکگل یونیورسٹی (Mc Gill University ) نے داؤد رہبر کو سینئیر ٹیچنگ فیلو مقرر کیا۔ اس کی دعوت کا اہتمام پروفیسر ولفرڈ کینٹ ول سمتھ (Prof. Wilfred Cantwell Smith ) نے کیا۔ ٹورانٹو (کینیڈا ) میں مقیم تقابل ادیان کے ماہر پروفیسر ولفرڈ کینٹ ول سمتھ (متوفی: 7فروری 2000ء، تقابل ادیان کے موضوع پر ان کی علمی فضیلت کاایک عالم معترف تھا) مذاہب عالم کے آغاز و ارتقا اور تقابلِ ادیان کے موضوع پر داؤد رہبر نے ان کے خیالات و تحقیق سے بھرپور استفادہ کیا۔ اس موضوع پر ڈاکٹر داؤد رہبر کی مستقبل کی تحقیق کا آغاز یہیں سے ہو تا ہے۔ اس کے بعد حکومت پاکستان نے ڈاکٹر داؤد رہبر کو اردو اور مطالعۂ پاکستان کی بیرون ملک چئیر کے لیے منتخب کیا اور ان کا تقرر انقرہ یو نیورسٹی ترکی میں کر دیا۔ترکی میں اپنے قیام (1956-1959) کے دوران انہوں نے مختلف جامعات میں تقابل ادیان ،اردو زبان کے ارتقا اور تہذیبی و ثقافتی موضوعات پرمتعدد توسیعی لیکچرز دیے جنہیں بے حد سراہا گیا۔ اپنی تدریسی ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہونے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر داؤ د رہبر نے اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافے پر بھی توجہ مر کوز رکھی۔ وہ علم و ادب کے فروغ کے لیے ہر وقت مصروف رہتے تھے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ریاستہائے متحدہ امریکا میں کنیکٹٰی کٹ (Connecticut) کے مشہور تعلیمی ادارے ہارٹ فورڈ سیمینری فاؤنڈیشن (Hartford Seminary Foundation) میں اپنے لیکچرز کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ ابتد میں ا س ادارے میں ان کا تقرر وزٹنگ پروفیسر کی حیثیت سے ہوا۔ اس کے بعد ان کی صلاحیتوں کے اعتراف میں ان کی خدمات پانچ سال (1962-1966) کے لیے حاصل کر لی گئیں۔ یہاں اپنے عرصہ ملازمت کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر داؤد رہبر یونیوررسٹی آ ف وسکانسن ماڈیسن (University of Wisconsin, Madison) میں دوسال کی مدت کے لیے ہندوستانی علوم کی تدریس کے لیے منتخب ہوئے۔ یہاں قیام کے دوران ڈاکٹر داؤد رہبر کو اپنی دلچسپی کے متعدد امور کے بارے میں وافر معلومات حاصل ہوئیں، خاص طور پر ہندوستانی موسیقی کے بارے میں یہاں جو شعبہ قائم ہے، ا س کے ساتھ مستقل ربط اور با قاعدہ تعلیم اور مطالعہ کے اعجاز سے وہ کلاسیکی ہندوستانی مو سیقی کے بارے میں کئی اسرار و رموز سے آگاہ ہوئے۔ مستقبل میں ہندوستانی مو سیقی پر انہوں نے جو معرکہ آرا کام کیا، اس کا آغاز یہیں سے ہوا۔ ریاستہائے متحدہ امریکا میں اپنے قیام کے دوران داؤد رہبر کو وہاں کے علمی و ادبی حلقوں کی جانب سے زبردست پزیرائی ملی۔ وہاں کی جامعات میں ان کے توسیعی لیکچرز کا سلسلہ جاری رہا ۔1968ء میں داؤد رہبر نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کی بوسٹن یو نیورسٹی (Boston University) میں تدریسی خد،مات کا آغاز کیا، یہاں وہ عربی زبان اور تقابلِ ادیان کی تدریس پر مامور تھے۔ بوسٹن یونیورسٹی میں ان کی یہ ملازمت 1991ء میں ان کی ریٹائر منٹ تک جاری رہی۔ ملازمت سے ریٹائر منٹ کے بعد داؤد رہبر نے اپنا زیادہ تر وقت فلوریڈا میں مطالعہ اورتصنیف و تالیف میں گزارا۔[3]

ادبی خدمات[ترمیم]

ڈاکٹر ڈاؤد رہبر کی کتاب پرا گندہ طبع لوگ میں عام لوگوں پر لکھی گئی کہانیاں شامل ہیں۔ اس کتاب کو سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے سال 2000ء میں شائع کیا۔ ان کی کتاب تسلیمات جنوبی ایشیا میں اسلامی تہذیب و ثقافت کے ارتقا کے موضوع پر مضامین شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی کتاب کلیات 2001ء میں شائع ہوئی، سات سو صفحات پر مشتمل یہ کلیات اس حساس تخلیق کار کے شعری تجربوں کی مظہر ہے۔[3]

مو سیقی کے موضوع پر ان کی اہم کتاب باتیں کچھ سریلی سی 2001ء میں شائع ہوئی، اس کے علاوہ نسخہ ہائے وفا بھی موسیقی کے بارے میں ہے۔ موسیقی کے ساتھ داؤد رہبر کا معتبر ربط چار عشروں پر محیط تھا، سُر اور تال کے ساتھ اس سنگت پر وہ ہمیشہ مطمئن و مسرور رہتے۔ موسیقی کے بارے میں داؤد رہبر کی رائے کو ہمیشہ درجۂ استناد حاصل رہا۔ ان کے اندر ایک مو سیقار چھپا ہوا تھا جو موزوں ترین موقع پر باہر آ کر اپنے فن کے جو ہر دکھاتا۔ داؤد رہبر کو طنبورہ (تان پورہ )بجانے میں مہارت حاصل تھی، وہ طنبورہ ترچھا رکھنے کی بجائے اسے عمودی صورت میں تھام کر انگلی کی بجائے انگو ٹھے سے طنبورے کے تار چھیڑتے تو یہ ساز زندگی کے ساز سے ہم آ ہنگ ہو جاتا۔ ان کی فنی مہارت اور موسیقی کے فن پر ان کے عبور کی وجہ سے سامعین پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی۔ وہ غزل بھی خود ہی چھیڑتے اور ساز بھی خود ہی بجاتے اور اس طرح عمرِ رفتہ کو آواز دیتے۔ یہ مو سیقی ہی تھی جس نے داؤد رہبر میں یہ استعداد پید اکر دی کہ وہ زندگی کی حقیقت سے آ شنا ہو کراپنی دنیا آپ پیدا کرنے،مسائل زیست کو سمجھنے اور موجِ حوادث سے ہنستے کھیلتے ہوئے گزر جانے کا عزم کر لیتے تھے، خاص طور پر غم و آلام کے مسموم ماحول میں موسیقی دل کے تار ایسے چھیڑتی ہے جس سے پھوٹنے والے نغمے قلب اور روح کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتے چلے جاتے ہیں اور سماعتوں پر اس کے ہمہ گیر اثرات مسلمہ ہیں۔گیت اور نغمے ،سر اور تال ،آہنگ اور لے کے معجز نما اثر سے خود اعتمادی کا عنصر نمو پاتا ہے اور ہجوم غم میں دل کو سنبھالنے کا حو صلہ پیدا ہوتا ہے۔ داؤد رہبر نے عالمی ادبیات کے مطالعہ سے اپنے مزاج میں ایک شانِ استغنا پیدا کر لی تھی۔ وہ اپنی مٹی سے محبت کرنے پر اصرار کرتے تھے۔ اردو زبان و ادب اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سے ان کی والہانہ محبت اور قلبی وابستگی ان کی پہچان بن گئی۔ جنوبی ایشیا کی موسیقی کے ارتقا پر ان کی تحقیق بہت اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔[3]

داؤد رہبر نے مرزا اسداللہ خان غالب کے اردو زبان میں لکھے ہوئے مکاتیب کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا۔ یہ کتاب جو 628 صفحات پر مشتمل ہے اسے اسٹیٹ یونیورسٹی آ ف نیو یارک پریس نے 1987ء میں شائع کیا۔ ان کی معرکہ آرا تصنیف کلچر کے روحانی عناصر ان کے تبحر علمی کی شاندار مثا ل ہے۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع تھا اور تاریخ کے مسلسل عمل پر ان کی گہری نظر تھی۔ کلچر کے روحانی عناصر میں انہوں نے نہ صرف کلچر کے ارتقا پر عمومی نگاہ ڈالی ہے بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما عوامل پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ہے۔ برِ عظیم کے کلچر پر اسلا م، ہندو مت، بدھ مت اور چینی اثرات کے بارے میں وہ کھل کر لکھتے ہیں، ان سب کو الگ الگ ابواب میں زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کتاب کا پانچواں باب مہاتما بدھ کے بارے میں ہے جس میں بدھ مت کے چین ا ور برِ عظیم پر تہذیبی اور ثقافتی اثرات کو تاریخی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے بعد جو باب ہے اسے حاصلِ بحث کی حیثیت حاصل ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں داؤد رہبر نے مدلل انداز میں گفتگو کی ہے اور غیر جانب دارانہ انداز میں کلچر کے روحانی اندازہ ور ان کے پس پردہ کار فرما عوامل کے بارے میں اپنی غیر جانبدارانہ رائے دی ہے۔[3]

تصانیف[ترمیم]

  • تسلیمات 1 (مضامین)
  • تسلیمات 2
  • تسلیمات 3
  • باتیں کچھ سریلی سی (موسیقی پر مضامین)
  • نسخہ ہائے وفا (موسیقی پر مضامین)
  • پراگندہ طبع لوگ(عام لوگوں پر لکھی گئی کہانیاں)
  • سلام و پیام (جلد اول)، مکاتیب
  • سلام و پیام (جلد دوم )
  • سلام و پیام (جلد سوم)
  • تاریخ ادبیاتِ ایران بعہد مصولان
  • مشاعرے کا فاتح - نواب میرزا داغ دہلوی
  • کلچر کے روحانی عناصر
  • کلیات (شاعری)
  • باقیات (شاعری)

وفات[ترمیم]

داؤد رہبر 5 اکتوبر، 2013ء کو 86 سال کی عمر میں ڈئیر فیلڈ بیچ، فلوریڈا، ریاستہائے متحدہ امریکا میں انتقال کر گئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]