رفاقت علی حقانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

(ابوطیب) رفاقت علی حقانی

Rafaqat Haqani

رفاقت علی حقانی (Rafaqat Ali Haqani)پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز مذہبی سکالر، جید عالم دین، مصنف، ادیب، ممتاز روحانی معالج، جمعیت علمائے پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری اور جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم اٹک کینٹ کے بانی و پرنسپل ہیں۔[1]

پیدائش[ترمیم]

آپ بولیانوال تحصیل وضلع اٹک (پنجاب) ایک معزز، بااثر،زمیندار گھرانے میں حاجی اعظم خان چشتی گولڑوی کے ہاں 7 مارچ 1968ء بمطابق 7ذی الحج 1387ھ بروز جمعرات کو پیدا ہوئے۔ [2]

تعلیم و اساتذہ کرام[ترمیم]

ابتدائی تعلیم قاعدہ، ناظرہ اور پرائمری تک اپنے آبائی علاقے میں قاضی محمد اسحاق ، قاضی شیر محمد قریشی ، ہیڈماسٹر منصب دار ، ماسٹر ہاشم خان کے پاس حاصل کرنے کے بعد اپریل 1979ء میں اٹک کی معروف علمی، روحانی وقدیمی درسگاہ جامعہ قادریہ حقانیہ میں پیر بادشاہ صاحب ؒ آستانہ عالیہ بام خیل شریف کی زیرنگرانی تحفیظ القرآن کا آغاز کیا۔ تحفیظ القرآن، تجوید و قرات کے بعد بالترتیب ادیب عربی، علم فارسی،عالم عربی، فاضل عربی، درس نظامی' ایم۔اے (عربی)اور ایم۔اے (اسلامیات )کے امتحانات پاس کیے۔ (اعوان خاندان بولیانوال میں آپ پہلے فرد ہیں جنہوں نے علوم اسلامیہ کا راستہ اختیار کیا، اسکے بعد خاندان میں مفتی اللہ دتہ صدیقی، مولانا غلام مجتبی جلالی، انجینئر حافظ محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ اور ڈاکٹر محمد شعبان حقانی اعوان بھی اسی راہ کے مسافر بن گئے) آپ کے اساتذہ کرام میں مفتی ابوداؤد محمد صادق رضویؒ گوجرانوالہ،شیخ الحدیث محمد سلیمان شاہؒ ،مفتی عبدالباریؒ ،مفتی غوث شاہؒ جلالیہ،مولانا غلام ربانی، صاحبزادہ عبدالظاہر رضوی بادشاہ،علامہ عبدالتواب اچھروی،اورمولانا ارفاق رضوی مولانا عبدالباری، قاضی انوار الحق اور پروفیسر راجا قمر الزمان کے اسماء نمایاں ہیں۔[3]آپ نے شہادۃ العالمیہ ایم اے اسلامیات وعربی، ادیب عربی، عالم عربی، فاضل عربی کی تکمیل 1988ء میں کی ۔ 1989ء میں پروفیسر شاہ فرید الحق، صاحبزادہ حامد سعید کاظمی جیسے جید علمائے کرام کی موجودگی میں حضرت پیر بادشاہ صاحبؒ کے دست مبارک سے دستاربندی کی سعادت پائی ۔

عملی زندگی[ترمیم]

تکمیل تعلیم کے بعد آپ نے خالص علمی تحریک کے لیے اٹک صدر میں ایک دینی ادارے "جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم " کی بنیاد رکھی جہاں آپ قرآن و حدیث کی تعلیم اور دین مصطفٰی کی ترویج و اشاعت میں روز و شب مصروف ہیں۔ درس و تدریس کے ساتھ ساتھ تحریر و تقریر بھی آپ کی دلچسپی کا باعث مرکز بنی رہی ۔[4] [5]۔

مختصر سوانح[ترمیم]

اپریل1981ء میں 13سال کی عمر میں پہلی مرتبہ تراویح میں قرآن پاک پنڈسلمان مکھن کامرہ میں سنایا۔ 1982ء میں ہمک اٹک میں پہلا بیان پیر فتح دین چشتی گولڑوی ملتانی کے خطاب سے قبل کرتے ہوئے ان سے داد وتحسین وصول کی۔ 1983ء میں 15سال کی عمر میں جامع مسجد الکریم المعروف گجراں والی مسجد بہادر خان حضرو علاقہ چھچھ میں خطیب مقرر ہوئے جہاں 1986تک خدمات سر انجام دیں۔ 1984ء میں پہلاتحریری مناظرہ حیلہ اسقاط کے موضوع پر مولوی یوسف سے کیا اور فتح یاب ہوئے۔اسی سال ضلع اٹک میں پہلی بار دعوت اسلامی کا درس بہادر خان حضرو میں حاجی ریاض احمد قادری سے شروع کرایا جبکہ 1986میں مرکزی جامع مسجد صدر بازار اٹک کینٹ میں خطیب مقرر ہوتے ہی مکاشفۃ القلوب سے دعوت اسلامی کے پہلے درس کی بنیاد رکھی۔ 1990ء رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد جامعہ قادریہ حقانیہ اٹک شہر میں شعبہ حفظ و کتب (درس نظامی)کی تدریس کا آغاز کیا اور 1994ء تک فرائض سر انجام دئے،۔ 1992ء میں مرکزی سیرت کمیٹی اٹک کینٹ کے صدر منتخب ہوئے اور 2003ء تک فرائض منصبی ادا کیے جس کے بعد تاحال علما کونسل کے چیئرمین ہیں۔ 19مارچ1999ء بمطابق30ذی القعدہ1419ھ بروز جمعۃ المبارک ابوطیب رفاقت علی حقانی کی زیرنگرانی ]جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم اٹک کینٹ کا سنگ بنیاد علامہ پیر مجتبی الحق ؒ دریا شریف جبکہ مرکزی جامع مسجد کی ازسرنو تعمیر کا سنگ بنیاد پیر عبدالظاہر رضوی بادشاہ آستانہ عالیہ بام خیل شریف نے رکھا، 2000ء میں پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری والد محترم اور برادرِ اکبر حاجی نوازش خان کے ہمراہ رمضان المباک میں نصیب ہوئی ، 2001ء میں جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم میں شعبہ کتب (درس نظامی)، تجوید و قرأت کا افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد صادق ؒ تھے۔آج جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ ایک عظیم درس گاہ بن چکاہے جہاں آپ کی زیر نگرانی پانچ تدریسی شعبہ جات سرگرم عمل ہیں علامہ حقانی 2002ء میں متحدہ مجلس عمل تحصیل اٹک کے صدر منتخب ہوئے اورممبر صوبائی اسمبلی کے لیے امام نورانی ؒ کے دستخط کردہ ٹکٹ پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور اعلیٰ قیادت کے حکم پر ٹکٹ منتقل ہوااورانتخابی عمل میں یہ نشست ایم ایم اے نے جیت لی۔ 2003ء سے ضلعی امن کمیٹی کے ارکان چلے آ رہے ہیں، 2005ء میں پیر دھنکہ سرکار ؒ مانسہرہ سے اکتساب فیض کیا، 2003تا 2011ء اہل سنت وجماعت کے دوام و بقا کے لیے 50 سے زائد مقدمات کا سامنا کیا اور فتح یاب ہوئے، 2009ء میں رفیقہ ء حیات کے ہمراہ حرمین شریفین کی حاضری سے مشرف ہوئے ،آپ نے اپنے سُسرماہر عملیات ڈاکٹرمحمد صادق ؒ سے روحانی علوم میں اکتساب فیض اوراِزن حاصل کیا ، 2010ء میں ان کے وصال پر حیات مبارکہ کے حوالے سے ’’گنجینہء صادق‘‘ تصنیف کی[6] جبکہ2009ء میں پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی ؒ گولڑہ شریف کے وصال پر ان کی حیات مقدسہ پر ’’بدر منیر‘‘ تصنیف کی۔ 2012ء میں جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم کے نیو کیمپس کے لیے اعوان آباد اٹک کینٹ میں پلاٹ خرید کربنام محسن کائنات سرکار ابدقرار حضرت محمد مصطفٰی ﷺ وقف کر دیا جس پر آج مرکزی جامع مسجد خوشبوئے مدینہ موجود ہے اور جہاں سے خواجہ صوفی محمد نقیب اللہ شاہؒ ،امام الشاہ احمدنورانی ؒ ، سائیں بابا فیض اللہ سرکارؒ ، پیر دھنکہ سرکارؒ ، پیر نصیرالدین گیلانیؒ ، خواجہ پیر حافظ عبدالحق مدظلہ العالی دریا شریف، ڈاکٹر محمد صادق اعوانؒ کے زیر سایہ آستانہ عالیہ خوشبوئے مدینہ نقیبیہ سے فیضان تقسیم کیا جارہا ہے ، 2013ء میں بھی جے یو پی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی کے کاغذات جمع کرائے تاہم پارٹی کی ہدایت پر دستبردارہوگئے، 2014ء میں قرآن مجید کی تفسیر بڑے منفرد انداز میں ایک جلد میں لکھنے کا کام مکمل ہوا،اسی سال تیسری مرتبہ حرمین شریفین کی سعادت برادر اکبر حاجی نوازش خان اور سیاح الحرمین الحاج قاری محمد ضیاء الدین مدنی کے ہمراہ نصیب ہوئی، 2012ء تا2015ء اسلام آباد و راولپنڈی میں جامع مسجد باب الاسلام اور جامع مسجد فاطمۃ الزہراء میں خطابت کے فرائض سر انجام دئے،

سیاسی زندگی[ترمیم]

آپ زمانہ طالب علمی میں ہی نفاذ نظام مصطفے ﷺ کا مشن لئے ہوئے قائد ملت اسلامیہ امام الشاہ احمد نورانی صدیقی کے قافلے میں شامل ہو گئے تھے۔ (امام نورانی کے وصال تک ان کے دیرینہ ساتھی اور رفیق رہے) 1994ء میں پیر محمد اکرم شاہ گڑھی شریف کے تحریری حکم بدست شہزاد چشتی جمعیت علمائے پاکستان کے ضلعی کنوینئر جبکہ 1995ء میں پیر خواجہ سلطان محمود دریائے رحمت شریف کی زیر صدارت اجلاس میں جمعیت علمائے پاکستان اٹک کے ضلعی صدر منتخب ہو گئے۔1996ء میں اٹک شہر میں منعقدہ عظیم الشان سنی کانفرنس میں قائد ملت اسلامیہ امام الشاہ احمد نورانی صدیقی ؒ کی موجودگی میں تقریر کرنے پر ان سے داد تحسین وصول کی۔1997ء میں جے یو پی کے ٹکٹ پرممبر صوبائی اسمبلی کے کاغذات جمع کرائے تاہم پارٹی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا. 2002ء میں متحدہ مجلس عمل تحصیل اٹک کے صدر منتخب ہوئے اورممبر صوبائی اسمبلی کے لیے امام نورانی ؒ کے دستخط کردہ ٹکٹ پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے اور اعلیٰ قیادت کے حکم پر ٹکٹ منتقل ہوااورانتخابی عمل میں یہ نشست ایم ایم اے نے جیت لی۔ 2013ء میں بھی جے یو پی کے ٹکٹ پر ممبر قومی اسمبلی کے کاغذات جمع کرائے تاہم پارٹی کی ہدایت پر دستبردارہوگئے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

1989ء میں خواجہ صوفی فقیر محمد نقیب اللہ شاہؒ نقیب آباد شریف قصورسے بیعت کی سعادت حاصل کی اور ان سے 1992ء میں خلافت بھی ملی۔ 2005ء میں پیر دھنکہ سرکار ؒ مانسہرہ سے اکتساب فیض کیا، 2009ء میں آپ نے اپنے سُسرماہر عملیات ڈاکٹرمحمد صادق ؒ سے روحانی علوم میں اکتساب فیض اوراِزن حاصل کیا۔خواجہ صوفی محمد نقیب اللہ شاہؒ ،امام الشاہ احمدنورانی ؒ ، سائیں بابا فیض اللہ سرکارؒ ، پیر دھنکہ سرکارؒ ،پیر سید عبالحق گیلانی گولڑہ شریف، پیر نصیرالدین گیلانی ؒ گولڑہ شریف ، خواجہ پیر حافظ عبدالحق مدظلہ العالی دریا شریف، ڈاکٹر محمد صادق اعوانؒ کے زیر سایہ آستانہ عالیہ خوشبوئے مدینہ نقیبیہ اٹک کینٹ سے فیضان تقسیم کیا جارہا ہے ۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

1990ء میں تحریروتصنیف اورتالیف کے میدان میں قدم رکھا۔ ’’جواہرالتسمیہ‘‘ زیورطبع سے آراستہ ہوئی۔1994ء میں آپ کی دوسری تصنیف’’ اربعین الاحادیث فی المسائل الاساسیس ‘‘المعروف ’’پیغام مصطفیﷺ ‘‘منظر عام پر آئی،

  • تفسیر الحقانی (قرآن مجید کا خلاصہء تفسیر)
  • جواہر التسمیہ [7]
  • پیغام مصطفٰی ﷺ ( اربعین الاحآدیث فی المسائل الاساسیس)
  • گیارہویں کی نسبت
  • حقانی فقہی پہیلیاں
  • نعت مصطفٰی کا ارتقائی سفر
  • مقالات حقانی
  • اعلیٰ حضرت کا علمی مقام
  • دعوت اسلامی کا ارتقائی سفر
  • مرجع خلائق
  • جواہرالتعوذ
  • گنجینہء فیض
  • بدر منیر پیر نصیر
  • گنجینہء صادق
  • چراغ راہ حبیب
  • انوار کی برسات میلادہی میلاد

ان کے علاوہ کثیر کتب زیر طبع ہیں

اٹک میں دعوت اسلامی کا قیام[ترمیم]

اٹک میں دعوت اسلامی کے قیام کا شرف بھی علامہ رفاقت علی حقانی کو حاصل ہے۔ دعوت اسلامی کے بننے کے بعد 1984ء میں ضلع اٹک میں پہلی بار دعوت اسلامی کا درس بہادر خان حضرو میں حاجی ریاض احمد قادری سے شروع کرایاجبکہ 1986میں مرکزی جامع مسجد صدر بازار اٹک کینٹ میں خطیب مقرر ہوتے ہی مکاشفۃ القلوب سے دعوت اسلامی کے پہلے درس کی بنیاد رکھی۔

جامعہ حقانیہ کا قیام[ترمیم]

19مارچ1999ء بمطابق30ذی القعدہ1419ھ بروز جمعۃ المبارک ابوطیب رفاقت علی حقانی کی زیرنگرانی جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم اٹک کینٹ کا سنگ بنیاد علامہ پیر مجتبی الحق ؒ دریا شریف جبکہ مرکزی جامع مسجد کی ازسرنو تعمیر کا سنگ بنیاد پیر عبدالظاہر رضوی بادشاہ آستانہ عالیہ بام خیل شریف نے رکھا،2001ء میں جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم میں شعبہ کتب (درس نظامی)، تجوید و قرأت کا افتتاح کیا گیا۔اس موقع پر منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد صادق ؒ تھے۔آج جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ ایک عظیم درس گاہ بن چکاہے جہاں آپ کی زیر نگرانی جامعہ میں شعبہ ناظرہ، شعبہ تحفیظ القرآن، شعبہ تجوید و قرات ، شعبہ کتب (درس نظامی)،شعبہ تربیت و ادب کے پانچ تدریسی شعبہ جات سرگرم عمل ہیں، شعبہ کتب(درس نظامی)شیخ الادب صاحبزادہ عبدالظاہررضوی بادشاہ کی سرپرستی میں اس شعبے کی تدریس کے فرائض خودانجام دیتے ہیں،ان کے علاوہ شعبہ تصنیف و تالیف، تحریر وتحقیق،فنی تعلیم، کمپیوٹر کی تعلیم ،عصری تعلیم اور لائبریری کی سہولت بھی جامعہ میں موجود ہے۔ اب تک سینکڑوں طلبہ اس ادارے سے اکتساب فیض کرنے کے بعد نہ صرف پاکستان کے کونے کونے میں بلکہ بیرون ملک بھی اشاعت دین مصطفٰی ﷺمیں مصروف عمل ہیں،[8] جامعہ میں آپ کے زیر نگرانی ہفتہ وار، ماہانہ، سالانہ بنیادوں پر گیارہویں شریف، جلسہ دستار فضیلت و دستار بندی، مقابلہ حسن قرأت و نعت خوانی، فکر حسین کانفرنس، میلاد مصطفٰی کانفرنس ،عرس غوث الاعظم دستگیر، صدیق اکبر کانفرنس، معراج مصطفٰی کانفرنس، شب برأت و شب بیداری،جشن نزول قرآن ، مولائے کائنات کانفرنس، ایام حضرات فاروق اعظم و عثمان غنی، یوم دفاع پاکستان ، ختم نبوت سیمینار،حلقہء خوشبوئے سکینہ، بزرگان دین کے ایام کے حوالے سے تقریبات اوراجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ 2012ء میں جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم کے نیو کیمپس کے لیے اعوان آباد اٹک کینٹ میں پلاٹ خرید کربنام محسن کائنات سرکار ابدقرار حضرت محمد مصطفٰی ﷺ وقف کر دیا جس پر آج مرکزی جامع مسجد خوشبوئے مدینہ موجود ہے اور جہاں سے خواجہ صوفی محمد نقیب اللہ شاہ، امام شاہ احمد نورانی ، سائیں بابا فیض اللہ سرکارؒ ، پیر دھنکہ سرکارؒ ، پیر نصیرالدین گیلانیؒ ، خواجہ پیر حافظ عبدالحق مدظلہ العالی دریا شریف، ڈاکٹر محمد صادق اعوانؒ کے زیر سایہ آستانہ عالیہ خوشبوئے مدینہ نقیبیہ سے فیضان تقسیم کیا جارہا ہے ، مرکز اہلسنت جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم اٹک کینٹ کی ذیلی شاخوں جامعہ حقانیہ مہرالعلوم ملاں منصور اٹک خورد، جامعہ حقانیہ اسرارالعلوم چھپر شریف، مدرسہ غوثیہ رضویہ فیض القرآن بولیانوال، مدرسہ غوثیہ نیوجسیاں سمیت درجنوں مدارس و جامعات میں آپ کی زیر نگرانی درس و تدریس جاری ہے۔[9]

کام[ترمیم]

ان کادرس و تدریس، تفسیر، اصول تفسیر، حدیث، علم فقہ، عربی ادب، خطابت، روحانی موضوعات اور دیگر اسلامی موضوعات پر 35 سے زائد سال کا تجربہ ہے جبکہ 41سال سے لگاتار رمضان مبارک نماز تراویح میں قرآن پاک مصلی سنا رہے ہیں۔[10] آپ نے جامع مسجد غوثیہ نیو جسیاں ، جامع مسجد گلاب سنجوال، جامع مسجد نمرہ، جامع مسجد آسیہ تین میلہ اٹک سمیت کئی مساجد و مدارس کا سنگ بنیاد رکھا اور صلوٰۃ جمعۃ المبارک کے افتتاح کیے،مرکز اہلسنت جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم اٹک کینٹ کی ذیلی شاخوں جامعہ حقانیہ مہرالعلوم ملاں منصور اٹک خورد، جامعہ حقانیہ اسرارالعلوم چھپر شریف، مدرسہ غوثیہ رضویہ فیض القرآن بولیانوال، مدرسہ غوثیہ نیوجسیاں سمیت درجنوں مدارس و جامعات میں آپ کی زیر نگرانی درس و تدریس جاری ہے۔ آپ کے دست مبارک پر کئی غیرمسلم کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے، 20 سے زائد کتب کے مصنف و مولف ہیں، غریب اورمستحق حلقوں کی مدد کے لئے انجمن نوجوان الفلاح کی بنیاد رکھی اور نوجوانوں کو متحرک کر کے مستحق حلقوں کی فلاح و بہبود کا کام کیا ۔انجمن نوجوانان لفلاح کے پہلے صدر نوید احمد عرف نوما تھے فی الوقت اسکے صدر رجب علی حقانی اعوان ہیں۔

مناصب و ذمہ داریاں[ترمیم]

آپ کے چند مناصب و ذمہ داریوں کو ذکر کیا جارہا ہے:

جامعہ حقانیہ ظاہرالعلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ میں بانی و پرنسپل اور شیخ التفسیر والحدیث ہیں۔[11]

حضرت فقیر صوفی محمد نقیب اللہ شاہ رحمۃ اللہ علیہ نقیب آباد شریف قصور کے خلیفہ مجاز ہیں۔ [12]

علما کونسل اٹک کینٹ کے چیئرمین ہیں۔

ماہنامہ’’ انوار حقہ ‘‘کے ایڈیٹر ہیں ۔

جمعیت علمائے پاکستان راولپنڈی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی مجلس شوری کے رکن ہیں ۔

متحدہ مجلس عمل (MMA) ضلع اٹک کے صدر ہیں۔[13]

کالم نگار ،مصنف و مولف ہیں۔

سنی سپریم کونسل ضلع اٹک کے چیف آرگنائزر ہیں۔

کینٹونمنٹ بورڈ اٹک کینٹ نکاح رجسٹرار ہیں۔

اولاد[ترمیم]

رفاقت علی حقانی کو اللہ تعالی نے چار بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔ بڑی اکلوتی صاحبزادی، بڑا صاحبزادہ انجینئر محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ اور صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی اعوان دینی و عصری دونوں علوم میں کوالیفائیڈ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہیں جبکہ باقی زیر تعلیم ہیں۔[14]

رفاقت علی حقانی کاپیغام[ترمیم]

یاد خدا اور عشق مصطفٰی کے جذبے سے سرشار ہوکر تعلیمات مصطفیﷺ کو اپنایا جائے، ہر کام میں رضائے الہی اور خوشنودی مصطفٰی کو مدنظر رکھتے ہوئے خلوص اور للہیت پیدا کی جائے، اخلاق نبوی ﷺ کو اپناتے ہوئے وسعت قلبی کا مظاہرہ کیا جائے،گلستان مصطفٰی کے ہر پھول کی اپنی خوشبوء ہے،علمائے کرام و مشائح عظام اپنے اپنے انداز میں دین مصطفٰی کی ترویج و اشاعت کے لیے کام کر رہے ہیں ، خاتم النبیین ﷺ کے سبز جھنڈے کے زیر سایہ ایمان ،اتحاد اور تنظیم کے جذبے سے سرشار ہوکر اسلام ، ملک، قوم اور مخلوق خدا کی خدمت کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور دین و دنیا کی بھلائیاں عطا فرمائے،آمین۔[15][16]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پیغام مصطفےٰﷺ،ص:15
  2. اٹک کے اہل قلم،ص:55
  3. اٹک کے اہل قلم،ص:55
  4. اٹک کے اہل قلم،ص:55
  5. https://www.punjnud.com/ViewPage.aspx?BookID=459&BookPageID=24249&BookPageTitle=din%20mkya%20ae,%20saya[مردہ ربط]
  6. گنجینہء صادق،ص:7
  7. "آرکائیو کاپی". 16 نومبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2019. 
  8. جامعہ ظاہرالعلوم،ص:15
  9. جامعہ ظاہرالعلوم،ص:15
  10. جامعہ ظاہرالعلوم،ص:15
  11. جامعہ ظاہرالعلوم،ص:12
  12. گیارہویں کی نسبت،ص:7
  13. "آرکائیو کاپی". 07 اگست 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 نومبر 2019. 
  14. گنجینہء صادق،ص:2
  15. پیغام مصطفےٰﷺ،ص:199
  16. گیارہویں کی نسبت،ص:5