سائیں ظہور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سائیں ظہور
ذاتی معلومات
پیدائش اوکاڑہ، پاکستانپیدائش 1937
تعلق اوکاڑہ، پاکستان
اصناف فوک موسیقی
پیشے موسیقار، گلوکار
آلات اکتارا، تمبی
ریکارڈ لیبل پاکستان - کوک سٹوڈیو، پاکستان

سائیں ظہور (پنجابی: ਸੈਨ ਜ਼ਹੂਰ) (پیدائش: 1937) اوکاڑہ، پاکستان کے تعلق رکھنے والے ایک صوفی گلوکار ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت درباروں اور درگاہوں پر گزارا ہے۔ 2006ء سے پہلے ان کا کوئی کلام ریکارڈ نہیں ہوا تھا جبکہ وہ عوامی گلوکار ہونے کے وجہ سے بی بی سی ورلڈ میوزک ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوئے تھے۔[1][2] سائیں ان کا نام نہیں ہے بلکہ یہ سندھی قوم کا ایک لقب ہے۔

زندگی[ترمیم]

سائیں ظہور ساہیوال ڈویژن کے ایک ضلع اوکاڑہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے گھر میں سب سے چھوٹے تھے اور انہوں نے پانچ سال کی عمر سے ہی گانا شروع کر دیا تھا۔ دس سال کی عمر میں انہوں نے گھر کو خیر آباد کہہ کر درباروں اور خانقاہوں کو اپنا مسکن بنا لیا۔

2006ء میں ان کا پہلا مجموعہ کلام آوازیں کے نام سے متھیلا ریکارڈز کے ذریعے منظر عام پر آیا۔ 2007ء میں انہوں نے ایک پاکستانی فلم خدا کے لیے کے لیے ایک گانا بھی گایا۔ 2011ء میں انہوں نے ایک برطانوی فلم ویسٹ از ویسٹ کے لیے گانا گایا اس کے علاوہ انہوں نے اس فلم میں اداکاری بھی کی۔[3]

مشہور گانے[ترمیم]

  • تمبا (کوک سٹوڈیو سیزن 2)
  • اللہ ہو
  • نچنا پیندا اے
  • تیرے عشق نچایا
  • اک الف تیرے درکار (کوک سٹوڈیو سیزن 2)
  • اللہ ہو (کوک سٹوڈیو سیزن 6)
  • ربا ہو (کوک سٹوڈیو سیزن 6)

فلمیں[ترمیم]

ان کی موسیقی اس فلم کے لیے استعمال کی گئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. روبن ڈینیلوو۔ "صوفی چوائس"۔ دی گارڈین۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-05-08۔
  2. آیون کرسلر۔ "فاتح بی بی سی میوزک ایوارڈز 2006ء سائیں ظہور، پاکستان"۔ بی بی سی۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-05-08۔
  3. "sain zahoor brings the soul of sufi to west"۔

بیرونی روابط[ترمیم]

سائیں ظہور دہائیوں سے درباروں پر گا رہے ہیں۔