سرخ ہندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امریکین کی وطنی اقوام
Indigenous peoples of the Americas
Amerikanska folk, Nordisk familjebok.jpg
کل آبادی
اندازا 60.5 ملین
خاطر خواہ آبادی والے علاقے
 Mexico 14.7 ملین[1][2]
 Peru 13.8 ملین[3]
 Bolivia 6.0 ملین[4]
 Guatemala 5.8 ملین[5]
 Ecuador 3.4 ملین
 United States 2.9 – 5 ملین[6]
 Chile 1.8 ملین[7]
 Canada 1.4 ملین[8]
 Colombia 1.4 ملین[9]
 Argentina 955,032[10]
 Brazil 817,963[11]
 Venezuela 524,000[12]
 Honduras 520,000[13]
 Nicaragua 443,847[14]
 Panama 204,000[15]
 Paraguay 95,235[16]
 El Salvador ~70,000[17]
 Costa Rica ~114,000[18]
 Guyana ~60,000[19]
 Greenland ~51,000[20]
 Belize ~24,501 (مایا)[21]
 French Guiana ~19,000[22]
 Suriname ~12,000–24,000
زبانیں
امریکین کی مقامی زبانیں، انگریزی، ہسپانوی، پرتگیزی، فرانسیسی، ولندیزی
مذہب
انیوت مذہب
مقامی امریکی مذہب
مسیحیت

سرخ ہندی امریکہ کے اصل باشندے ہیں ، جو تقریباً پندرہ تا بیس ہزار سال قبل ، آبنائے بیرنگ عبور کرکے ، شمال مشرقی ایشیا سے براعظم شمالی امریکا پہنچے تھے۔ زیادہ تر لوگ منگول نسل کے ہیں۔ اگرچہ دیگر اقوام کے ساتھ اختلاط سے ان کی کئی قسمیں ہو گئی ہیں تاہم اب بھی بھوری جلد ، سیدھے ، کھردرے ، سیاہ بالوں اور بھوری آنکھوں کی وجہ سے ان میں گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ لوگ زراعت پیشہ تھے۔ مٹر ، تربوز ، آلو اور تمباکو کاشت کرتے ، پتھر کے اوزار بناتے اور آگ سے واقف تھے۔ کچھ عرصے بعد ان میں سے بعض قبائل وسطی اور جنوبی امریکا کے علاقوں میں جا کر آباد ہوگئے۔

جب کولمبس امریکا پہنچا تو اس مغربی نصف کرہ ارض پر بعض روایات کے مطابق 80 لاکھ اور بعض روایات کے بموجب سات کروڑ انڈین آباد تھے۔ بہرحال مؤرخین کی اکثریت دو کروڑ پر متفق ہے۔ چونکہ کولمبس کے خیال کے مطابق وہ انڈیا پہنچ گیا تھا اس نے ان لوگوں کو انڈین کا نام دیا۔ بعد میں ہندوستان سے تمیز کرنے کے لیے انھیں ریڈ انڈین یعنی سرخ ہندی کہا جانے لگا۔ بعد میں وسطی امریکہ اور جنوبی امریکا کے انڈین بعد میں آنے والے لوگوں میں گھل مل گئے جس سے ایک نئی نسل وجود میں آئی۔

ریاستہائے متحدہ امریکا میں ریڈ انڈین کی تعداد میں کمی کے اسباب میں آب و ہوا کی تبدیلی اور وبائی امراض بتائے جاتے ہیں لیکن مورخین کے بقول اس کا اصل سبب سفید فام آباد کاروں کے ہاتھوں ان کی نسل کشی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.inegi.gob.mx/prod_serv/contenidos/espanol/bvinegi/productos/censos/poblacion/2010/princi_result/cpv2010_principales_resultadosVI.pdf[مکمل حوالہ درکار]
  2. http://www.somosprimos.com/schmal/schmal.htm[مکمل حوالہ درکار]
  3. "CIA, The World Factbook Peru" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 12 جولائی 2011. 
  4. "CIA – The World Factbook". Cia.gov. اخذ کردہ بتاریخ 23 فروری 2011. 
  5. http://www.ine.gob.gt/sistema/uploads/2014/02/26/L5pNHMXzxy5FFWmk9NHCrK9x7E5Qqvvy.pdf
  6. United States Census Bureau. The American Indian and Alaska Native Population: 2010
  7. http://estudios.anda.cl/recursos/censo_2012.pdf[مکمل حوالہ درکار]
  8. Canada 2011 Census [1]
  9. DANE 2005 National Census
  10. "Población indígena o descendiente de pueblos indígenas u originarios en viviendas particulares por sexo, según edad en años simples y grupos quinquenales de edad." (xls). INDEC (Spanish زبان میں). 2010. اخذ کردہ بتاریخ 2 مئی 2015. 
  11. "2010 Census graphics of Brazil government". IBGE(Brazilian Institute of Geograph and Statistic. 2015-02-09. http://indigenas.ibge.gov.br/graficos-e-tabelas-2. 
  12. "About this Collection". The Library of Congress. اخذ کردہ بتاریخ 29 جولائی 2015. 
  13. "CIA – The World Factbook – Honduras". Cia.gov. اخذ کردہ بتاریخ 2013-12-03. 
  14. 2005 Census
  15. "CIA – The World Factbook". Cia.gov. اخذ کردہ بتاریخ 23 فروری 2011. 
  16. "8 LIZCANO" (PDF). اخذ کردہ بتاریخ 2014-05-22. 
  17. "Una comunidad indígena salvadoreña pide su reconocimiento constitucional en el país". soitu.es. اخذ کردہ بتاریخ 23 فروری 2011. 
  18. "Costa Rica: Ethnic groups". Cia.gov. اخذ کردہ بتاریخ 21 دسمبر 2010. 
  19. Lector de Google Drive. Docs.google.com. Retrieved 12 جولائی 2013.
  20. The World Factbook. Cia.gov. Retrieved 12 جولائی 2013.
  21. Redatam::CELADE, ECLAC – United Nations. Celade.cepal.org. Retrieved 12 جولائی 2013.
  22. [2] Archived 20 اگست 2011 at the وے بیک مشین