سوفرونیئس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بشپ سوفرونیئس
St. Sophronius
Sophronius of Jerusalem.jpg
سوفرونیئس یروشلم کا بشپ
یروشلم کا بشپ
پیدائش 560 عیسوی
دمشق
وفات 11 مارچ 638
یروشلم
احترام در راسخُ الا عتقاد کلیسا، رومن کیتھولک
تہوار 11 مارچ [قدیم طرز 24 مارچ (جہاں جولین کیلنڈر کا استعمال کیا جاتا ہے )]
منسوب خصوصیات بطور بشپ، برکت کے لیے دائیں ہاتھ میں کتاب مقدس یا طومار

سوفرونیئس (560 ء تا 11 مارچ 638ء) جو سوفرونیئس یروشلم کا بشپ (انگریزی: Sophronius of Jerusalem) کے نام سے معروف ہے۔[1] سوفرونیئس عربی النسل تھا،.[2] اور خطابت کا استاد (معلم) تھا۔ مصر میں 580ء میں رہبانیت اختیار کر لی پھر بیت لحم میں تھیوڈوسس کی خانقاہ میں چلا گيا۔ایشیائے کوچک مصر اور روم کے خانقاہی مراکز کا سفر کیا۔ اس کے ساتھ بازنطینی وقائع نگار بشپ جان تھا۔'[3]

سوفرونیئس اور عمر ابن الخطاب[ترمیم]

637ء میں مسلم افواج کی یروشلم کی فتح کے وقت سوفرونیئس نے شرط رکھی کہ کہ شہر کو صرف مسلمانوں کے خلیفہ عمر بن خطاب کے حوالے کیا جائے گا۔ چنانچہ خلیفہ وقت نے یروشلم کا سفر کیا۔ حضرت عمر نے سوفرونیئس کے ساتھ شہر کا دورہ کیا۔ کلیسائے مقبرہ مقدس کے دورہ کے دوران نماز کا وقت آ گیا، اور سوفرونیئس نے حضرت عمر کو کلیسا میں نماز پڑھنے کی دعوت دی لیکن حضرت عمر نے کلیسا میں نماز پڑھنے کی بجائے باہر آ کر نماز پڑھی۔ جس کی وجہ یہ بیان کی کہ مستقبل میں مسلمان اسے عذر کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کلیسا کو مسجد کے لیے استعمال نہ کریں۔ خلیفہ کی دانشمندی اور دوراندیشی کو دیکھتے ہوئے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر کو پیش کی گئیں۔ اس پیشکش کا انکار کرنے کے باعث چابیاں مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کو دے دی گئیں، اور انہیں کلیسا کو کھولنے اور بند کرنے کا حکم دیا، آج تک بھی کلیسا کی چابیاں اسی مسلمان خاندان کے پاس ہیں۔

1193ء میں اس واقعہ کی یاد میں صلاح الدین ایوبی کے بیٹے الافضل بن صلاح الدین نے قبلہ اول کے قریب ایک بڑی مسجد تعمیر کروائی جس کا نام مسجد عمر ہے۔ بعد ازاںعثمانی سلطان عبد المجید اول نے اپنے دور میں اس کی تزئین و آرائش بھی کی۔

تصانیف[ترمیم]

اس کی کتب اسلام کی ابتدائی تاریخ اور مسلمانوں کی فتوحات کے بارے اہم غیر مسلم مآخذ ہیں؛
اس کی مندرجہ ذیل کتب معلوم شدہ ہیں۔[4]

  • Leimon of John Moschus
  • Synodical Letter / مجلس کلیسا کا خط

کتاب یونانی زبان میں ہے۔یہ تحریر 634ء میں لکھی گئی، اس میں جہاں مسیحیت کے آپس کے اختلافات کا ذکر ہے وہاں دوسری طرف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اسلام اور مسلمانوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ وہ الزام عائد کرتا ہے کہ مسلمانوں نے قتل و غارت کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔[4]

  • Christmas Oration / کرسمس کا خطبہ

یہ بھی یونانی زبان میں 634ء میں لکھا گيا خطبہ ہے۔ اس کا یونانی نام کافی طویل ہے (28 الفاظ پر مشتمل)۔ [5]

  • Holy Baptism Or Epiphany / مقدس بپتسمہ یا ظہور مسیح

یہ خطبہ 637ء میں یونانی زبان میں دیا گيا تھا۔ جس میں وہ مسلمانوں کوخدا سے نفرت کرنے والے اور بدلہ لینے والے کہتا ہے۔ وہ سامعین (مسیحیوں) کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ اس سب کا ہونا خود ہمارا اپنا رویہ ہے۔

درحقیقت ہم خود ان سب چیزوں کے ذمہ دار ہیں اور (آخرت میں) ہمارے دفاع میں کوئی لفظ بھی نہیں کہا جائے گا[6]۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

پیشرو 
موڈیسٹس
راسخ الاعتقاد بطریق برائے یروشلم
634–638
جانشین 
اناستیس دوم (خالی مدت کے بعد)

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر حافظ عبدالقیوم، مطالعہ سیرت اور غیر اسلامی مآخڈ و مصادر، سہ ماہی فکر و نظر اسلام آباد، جلد 49، شمارہ 2-3، صفحہ 91
  2. Donald E. Wagner. Dying in the Land of Promise: Palestine and Palestinian Christianity from Pentecost to 2000
  3. [1] "Orthodox Holiness Around the Church Year with St John — John Moschos - March 11", Retrieved 2011-09-13
  4. ^ 4.0 4.1 Christian-Muslim Relation, a Bibliogrphical History (مسیحی - مسلم تعلقات، ایک کتابیاتی تاریخ)، جلد 1، صفحہ 121
  5. Christian-Muslim Relation, a Bibliogrphical History (مسیحی - مسلم تعلقات، ایک کتابیاتی تاریخ)، جلد 1، صفحہ 123
  6. Christian-Muslim Relation, a Bibliogrphical History (مسیحی - مسلم تعلقات، ایک کتابیاتی تاریخ)، جلد 1، صفحہ 126

بیرونی روابط[ترمیم]