سید کرار حسین واعظ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید کرار حسین واعظ
سید کرار حسین واعظ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1937 (عمر 81–82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہر اسلامیات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین رضوی ہندوستان کے ایک مشہور شیعہ عالم دین تھے ـ متعدد کتابوں کے مصنف تھے ـ مایہ ناز اور بے نظیر خطیب تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ 12 اگست 1937ء مطابق 4 جمادی الثانی 1356ھ بروز پنجشنبہ، میرپور ضلع اعظم گڑھ (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے ۔

آپ کے والد کا نام محمد رفیع تھا ـ جو رفیع میاں کے نام سے مشہور تھے۔ رفیع میاں آیت اللہ ظفر الملۃ کے پھوپھا تھے ـ

تعلیم[ترمیم]

وطن میں ابتدائی تعلیم کے بعد آپ 1947ء میں مدرسہ جوادیہ (بنارس) میں داخل ہوئے ـ اور کچھ عرصہ تک ابتدائی عربی بھی سرکار ظفرالملۃ ہی سے پڑھی۔ فخرالافاضل کرنے کے بعد آپ مدرسۃ الواعظین (لکھنؤ) میں داخل ہوئے۔ وہاں کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد آپ نے کئی سال تک مدرسہ الواعظین کی طرف سے تبلیغی خدمات انجام دیں۔ پھر اپنے طور پر خطابت کے لیے ہندوستان کے مختلف شہروں کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں بھی جاتے رہے ـ

خطابت اور تصنیف و تالیف[ترمیم]

رئیس الواعظین مجلس کو خطاب کرتے ہوئے

آپ کی ذاکری 1955ء میں شروع ہوئی تھی ـ نیز تحریری خدمات کا سلسلہ 1962ء میں شروع ہوا جب آپ نے غلام محمد جیلانی کی کتاب ''بھائی بھائی'' کے جواب میں ''ہابیل قابیل'' لکھی۔ یہ آپ کی طالب علمی کا آخری زمانہ تھا ۔

آپ کی تحریر و تقریر کی چاشنی کا راز آپ کے اس اسلوب میں پنہاں تھا جس کے آپ خود ہی موجد تھے اور شاید خاتم بھی ـ

فهرست تصانیف :

زمانہ طالب علمی ہی سے آپ کے مضامین رسالہ الجواد (بنارس)، الواعظ (لکھنؤ) اور دیگر قومی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے تھے ۔

لیکن مستقل تصانیف آپ کی حسب ذیل ہیں :

1: ملیکۃ العرب : (حضرت خدیجہ بنت خویلد کی مفصل سوانح حیات) : فارسی زبان میں بھی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے حالات زندگی پر اس قدر تحلیلی کتاب موجود نہیں ہے ـ اور خود اردو زبان میں بھی اب تک اس کتاب جیسی کتاب نہیں لکھی گئی ہے ـ

اس کتاب میں حضرت خدیجہ کی زندگی سے متعلق ایک مسلمان کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا اطمینان بخش جواب موجود ہے ـ

2: ام المومنین حضرت عائشہ

3: ہابیل قابیل

4: نور و نار

5: سازش (واقعہ قرطاس پر بحث)

6: مجرم (بجواب انکشاف حقیقت)

7: تاریخ الشیعہ

8: دلیل عزا

9: باغی (باغ فدک پر مفصل بحث)

10: ولی اللہ

11: نماز قرآن و عترت کے آئینہ میں

12: تحفہ غدیر

13: فلسفہ دعا (لکھنؤ میں خطاب کیا ہوا خمسہ مجالس)

مناظره[ترمیم]

جب 1955ء میں آپ نے ذاکری شروع کی تو اس وقت کے مقبول رجحان کو سامنے رکھتے ہوئے مناظرانہ انداز بیان اختیار کیا۔ ایک عرصہ تک اس سلاح کے ذریعہ دینی عقائد و اصول کو ذہنوں میں راسخ کیا۔ اس کے بعد خطیب اعظم سید غلام عسکری کی دوستی کے فیض سے تبلیغی اور اصلاحی انداز بیان اپنایا۔ اور اس حوالہ سے مرکزی مقامات پر تبلیغی مجالس کا انعقاد کرایا۔ مساجد میں نماز جماعت کی بنیاد رکھی ـ دینی مکاتب کا قیام عمل میں آیا۔ سماجی اور معاشرتی پروگراموں میں اصلاح رسوم کی بنیاد ڈالی ـ

آپ کی ذاکری کے مشہور واقعات میں مبارک پور کا تاریخی مناظرہ، احمد آباد(گجرات) کی سالانہ مجالس اور نوادہ چاند پور (اعظم گڑھ) میں شیعیت کی شجرکاری شامل ہیں ـ

آپ کی تقاریر اہل سنت میں بھی مقبول تھیں، چنانچہ سیرت النبی اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسہ جات میں اکثر آپ کو دعوت دی جاتی تھی ـ

ادارہ تنظیم المکاتب[ترمیم]

خطیب اعظم مولانا سید غلام عسکری کے حالات میں ادارہ تنظیم المکاتب کی تاسیس کا حال لکھا گیا۔ یہاں اتنا لکھنا ضروری ہے کہ خطیب اعظم نے مولانا کرار حسین کے ساتھ دینے کے وعدہ کے بعد ہی تنظیم المکاتب کے قیام کے لیے استخارہ کیا۔ اور 15/ جمادی الاول 1388ھ مطابق 11/ اگست 1968ء کو جو پہلی کمیٹی بنی اس میں خطیب اعظم سکریٹری اور مولانا کرار حسین جوائنٹ سکریٹری منتخب ہوئے۔ خطیب اعظم کی وفات کے بعد آپ سکریٹری ہو گئے،۔ مولانا سعادت حسین نے جب صدارت چھوڑی تو علامہ ذیشان حیدر جوادی جو نائب صدر تھے، صدر ہو گئے اور مولانا کرار حسین نائب صدرہوگئے ـ

اخبار تنظیم المکاتب[ترمیم]

جب تنظیم المکاتب کا پندرہ روزہ اخبارجاری ہوا تو ایک عرصہ تک مولانا کرار حسین اس کے ایڈیٹر رہے۔

مجلہ البیان[ترمیم]

ایک سہ ماہی رسالہ حجۃ الاسلام سید محمد موسوی (نجفی ہاؤس بمبئی)کی سرپرستی میں آپ نے جاری کیا جس کے ایڈیٹر آپ خود تھے ـ

اس کا پہلا شمارہ، محرم تا ربیع الاول 1417ھ محمد آباد گوہنہ ضلع مئو سے شائع ہوا ـ اس کے مضامین اہل علم کے نزدیک قابل قدر ہوتے تھے ۔

مخالفین کی سازشوں کے نتیجہ میں دو سال کے بعد آقای موسوی نے اس کی کمک بند کر دی جس کے بعد اس رسالہ کی اشاعت کا سلسلہ منظم نہ رہ سکا ـ

محمد آباد گوہنہ میں سکونت[ترمیم]

آپ کا وطن میر پور تھا لیکن وہاں سے آمد و رفت میں بے حد دشواریاں ہوتی تھیں اس لیے آپ نے سید واڑہ محمد آباد گوہنہ میں سکونت اختیار کرلی۔ وہاں قیام کے دوران آپ نے شاہی مسجد میں نماز پنجگانہ اور نمازجمعہ کی امامت شروع کی ۔

سید واڑہ کی دینی فضا میں ترقی کے اثرات قرب و جوار کی بستیوں میں بھی محسوس کیے جانے لگے۔ اور اصلاح معاشرہ کا کام تیزی سے آگے بڑھنے لگا ـ

وفات[ترمیم]

اگست 1998ء میں آپ کے حلق میں کینسر (سرطان) کے آثار ظاہر ہوئے ۔

بمبئی کے علاج سے وقتی سکون ملا ـ لیکن پھر مرض بڑھتا گیا ۔

آخری دنوں میں مدرسہ جوادیہ (بنارس) میں آکر مقیم ہو گئے اور علاج کا سلسلہ جاری رہا ـ آخرکار وہیں 20 ذی الحجہ 1420ھ مطابق 27 مارچ 2000ء کو آپ نے رحلت فرمائی ۔

جنازہ محمد آباد گوہنہ لے جایا گیا ۔

محمد آباد گوہنہ میں 21 ذی الحجہ کو مولانا سید شمیم الحسن نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو گھر کے نزدیک صدر امام باڑہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ـ [1]

مصادر و مآخذ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خورشید خاور، ص: 109