سیلف ہیلپ گروپ (مالیہ)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سیلف ہیلپ گروپ
Self help group selling goods.JPG
مقصد قرضوں کی فراہمی
بنیاد 1990-1991
ارکان غیر متعین، عام طور پر 20
کلیدی شخصیت عورتیں اور صنعت کار
ملک اکثر بھارت میں، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی

ایک سیلف ہیلپ گروپ (ایس ایچ جی) ایک گاؤں میں بنا مالی میانچی (انگریزی: Financial intermediary) ہے جس میں 10–20 مقامی افراد شامل ہوتے ہیں۔ یہ لوگ خواتین یا مرد ہو سکتے ہیں حالانکہ سیلف ہیلپ گروپوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہوتی ہے۔ سیلف ہیلپ گروپوں کی زیادہ تر تعداد بھارت میں ہے، حالانکہ ایس ایچ جی دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں، خصوصًا جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں۔

ارکان مختصر بچت ہر مہینہ کئی مہینوں تک لگاتار کرتے ہیں تاکہ قرضوں کی فراہمی کے لیے وافر سرمایہ دستیاب رہے۔ اس کے بعد رقم ارکان میں واپس قرض کی صورت میں دی جاتی ہے یا گاؤں کے اور لوگوں کو کسی بھی مقصد کے لیے قرض کے طور پر دی جاتی ہے۔ بھارت میں کئی ایس ایچ جی خرد مالیہ کی فراہمی کے لیے بنکوں سے مربوط ہیں۔

سیلف ہیلپ گروپوں کا آغاز[ترمیم]

سیلف ہیلپ گروپوں کا تصور بنگلہ دیش کے گرامین بینک کی دین ہے جس کی بنیاد معروف نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس نے رکھی تھی۔ بھارت میں سیلف ہیلپ گروپوں کو تقویت 1991ء-1992ء سے ملی جب ایس ایچ جی کو بنکوں سے مربوط کیا گیا۔[1]

سیلف ہیلپ گروپ کا ڈھانچا[ترمیم]

سیلف ہیلپ گروپ رجسٹرشدہ اور غیر رجسٹرشدہ ہو سکتے ہیں۔ ان میں عمومًا خرد صنعت کاروں کا ایک گروپ شامل ہوتا ہے جو ہم صفت سماجی و معاشی پس منظر کا حامل ہوتا ہے۔ سبھی ارکان رضاکارانہ طور پر جمع ہوتے ہیں اور باضابطگی سے مختصر رقموں کو جمع کرتے ہیں، باہمی رضامندی سے مشترکہ فنڈ تیار کرتے ہیں تاکہ ان ہنگامی ضروریات کی تکمیل باہمی مدد سے ممکن ہو سکے۔ یہ لوگ اپنے وسائل کو معاشی استحکام کے لیے یکجا کرتے ہیں، گروپ کی جمع رقم سے قرض لیتے ہیں اور گروپ میں شامل ہر شخص کو خود کی روزگار فراہم کرتے ہیں۔ گروپ کے ارکان اجتماعی سوچ اور ہم منصبوں کے دباؤ سے استفادہ کرتے ہیں تاکہ آخرکار رقم صحیح مصرف میں استعمال ہو اور بروقت ادائیگی ممکن ہو سکے۔ یہ نظام کسی چیز کو گروی رکھنے کی ضرورت ختم کرتا ہے اور یہ ہمدردانہ قرض فراہمی سے جڑا ہے، جو خرد مالیے کے اداروں کی جانب سے بہ کثرت استعمال ہوتا ہے۔[2] آسان کھاتہ نویسی کے لیے ایک سطحی سود کی شرح کو زیادہ تر قرضوں کے حساب کے لیے بہ روئے کار لایا جاتا ہے۔

سیلف ہیلپ گروپ کی خصوصیات[ترمیم]

  • گروپ کے ارکان اسی معاشی طبقے سے وابستہ ہوتے ہیں۔
  • عام طور سے گروپ کے ارکان کی تعداد پانچ سے پیس کے درمیان میں ہوتی ہے۔
  • گروپ کے ارکان باضابطگی سے چندے جمع کر کے ایک رقم جمع کرتے ہیں جس سے آپس میں قرض دیے جا سکتے ہیں۔ یہ قرض عام طور سے چھ مہینے میں ادا ہونا چاہیے۔
  • ہر گروپ کے ارکان اس گروپ کے اصول و ضوابط طے کرتے ہیں۔
  • گروپ کے سبھی ریکارڈ اور کھاتہ جات کی بروقت تحدیث ہونا چاہیے۔
  • گروپ ہر رکن کو ایک پاس بک اجرا کرتا ہے جس میں قرض کی ادائیگی اور رقم کی واپسی کے اندراجات شامل ہوتے ہیں۔
  • گروپ کے ارکان کواپریٹیو طرز کی تنظیموں کے طور طریقوں کو اپناتے ہیں۔[1]

مقاصد[ترمیم]

سیلف ہیلپ گروپوں کا آغاز غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کی جانب سے شروع کیے جاتے ہیں۔ ان گروپوں کا ایجنڈا وسیع پیمانے پر غربت ہٹانا ہوتا ہے۔ سیلف ہیلپ گروپوں کو خواتین کو بااختیار بنانا، غریبوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنا، اسکولوں کی بھرتیوں میں اضافہ کرنا، غذائی افزودگی اور ضبط ولادت کو کرنا جیسے مقاصد کی تکمیل کے آلات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مالی توسط کو عمومًا ان دیگر مقاصد کے نقطہ آغاز کے طور پر دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ایک ابتدائی مقصد کے طور پر۔[3] اس کی وجہ سے ان کے دیہی سرمایہ کے ذرائع کے طور پر ابھرنا متزلزل ہو سکتا ہے، ساتھ ہی ان کی وہ تمام کوششیں جن کا مقصد مقامی طور پر قابو پانے والے سرمایہ کے وسائل جو یکجا ہونے سے ممکن ہو سکتے ہیں، جیساکہ تاریخی طور پر کریڈٹ یونینوں سے انجام پاتا ہے۔

نابارڈ کا 'ایس ایچ جی بنک لنکیج پروگرام'[ترمیم]

بھارت کے کئی سیلف ہیلپ گروپ نابارڈ کے 'ایس ایچ جی بنک لنکیج پروگرام' کے تحت بنکوں سے ادھار اس وقت لیتے ہیں جب وہ خود کا سرمایہ بنا چکے ہوتے ہیں اور باضابطہ ادائیگی کا ریکارڈ قائم کر چکے ہوتے ہیں۔

اس نمونے کو خرد مالیہ کے غریب عوام کی خدمات کی وجہ سے توجہ ملی ہے، جن کی بنکوں اور کسی دوسرے اداروں تک راست رسائی مشکل تھی۔ "انفرادی جمع پونجی کو ایک رقم میں شامل کر کے سیلف ہیلپ گروپ بنکوں کی معاملتوں کے اخراجات کو کم تر کرتے ہیں اور بھاری جمع رقم اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ سیلف ہیلپ گروپوں کے ذریعے بنک چھوٹے دیہی جمع کنندوں کی اس وقت خدمت کر سکتا ہے جب وہ بازار کی شرح سود ادا کر رہے ہوتے ہیں"۔[4]

نابارڈ کے تخمینے کے حساب سے بھارت میں 2.2 ملین سیلف ہیلپ گروپ موجود ہیں۔ ان میں 33 ملین ارکان شامل ہیں جو بنکوں سے مربوط پروگرام کے تحت قرض لے چکے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں وہ سیلف ہیلپ گروپ موجود نہیں ہیں جو قرض نہیں لیے ہیں۔[5] "ایس ایچ جی بنک لنکیج پروگرام اپنے آغاز سے کچھ ریاستوں میں غالب رہا ہے، جغرافیائی اعتبار سے جنوبی علاقے پر ترجیح دیتا رہا ہے– آندھرا پردیش، تمل ناڈو، کیرلا اور کرناٹک۔ یہ ریاستیں مالی سال 2005ء2006ء کے دوران میں ایس ایچ جی سے جڑی رقم کا 57 % حصہ رہی ہیں"۔[6]

سیلف ہیلپ گروپوں کے ذریعے مالیہ فراہمی کے فوائد[ترمیم]

  • ایک معاشی طور پر بدحال شخص ایک گروپ میں شامل ہونے کی طاقت پاتا ہے۔
  • مالیہ کی فراہمی کے علاوہ ایس ایچ جی قرض دہندے اور قرض گیرندے دونوں کے معاملتوں کے اخراجات گھٹا دیتے ہیں۔
  • جہاں قرض دہندے صرف واحد ایس ایچ جی کھاتہ کو کئی مختصررقمی انفرادی کھاتے کی بجائے دیکھتے ہیں، ایس ایچ جی کے قرض گیرندے سفری اخراجات کاغذی کاروائیوں میں کم کرتے ہیں (شاخ سے کسی اور جگہ تک) اور انہیں قرض کے لیے سفارشات کی ضرورت نہیں رہتی ہے۔
  • اپنی ہر کامیابی کے ساتھ ایس ایچ جی نے قابل لحاظ حد تک غریب لوگوں کو، خصوصًا دیہی خواتین کو طاقت فراہم کر چکے ہیں۔

بھارت کی ریاستوں میں سیلف ہیلپ گروپوں کا قیام اور ان کا کام[ترمیم]

تمل ناڈو[ترمیم]

بھارت کی ریاست تمل ناڈو میں سیلف ہیلپ گروپوں کے وسیع پیمانے پر فروغ کے لیے تمل ناڈو کارپوریشن فار ڈیولپمنٹ آف ویمن کا نمایاں کام رہا ہے۔ اس تنظیم نے پوری ریاست میں سیلف ہیلپ گروپوں کو مقامی این جی اوز کی مدد سے قائم کیا۔ ریاست میں سیلف ہیلپ گروپ بے حد مقبول ہوئے ہیں۔ ان کا نمایاں کام خاص طور پر کانچی پورم، نمکل، مدورائی، تروچراپلی اور اریالور ضلعوں میں رہا ہے۔

30 جون 2006ء تک تمل ناڈو میں کل ملا کر تین لاکھ سے زائد سیلف ہیلپ گروپ موجود تھے۔ ان کی تفصیلات اس طرح ہیں:[1]

تفصیلات اعدادوشمار
سیلف ہیلپ گروپوں کی کل تعداد 3٫19٫713
گروپ میں شامل ارکان کی تعداد (لاکھوں میں) 51.68
دیہی گروپوں کی تعداد 2٫62٫270
دیہی گروپوں کے ارکان کی تعداد 42٫68٫195
شہری گروپوں کی تعداد 57٫443
شہری گروپوں کے ارکان کی تعداد 9٫00٫067
کل بچت (کروڑ روپیوں میں) 1127.89
ادائیگی سے جڑے گروپ 2٫29٫562
تقسیم کردہ قرض (کروڑ روپیوں میں) 1837.67
اریالور ضلع میں سیلف ہیلپ گروپوں کا کام

اریالور ضلع میں اریالور تحصیل کافی اہم ہیں۔ یہ 68 دیہات پر مشتمل ہے۔ یہاں 185 سیلف ہیلپ گروپ کافی فعال انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ان میں 2775 خواتین مشغول ہیں۔ اس تحصیل کا سب سے پسماندہ گاؤں آنندواڑی ہے جہاں صرف دو گروپ سرگرم ہیں۔[1]

آبادیات

آنندواڑی کے سیلف ہیلپ گروپوں میں شامل سبھی خواتین مذہبًا ہندو ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ارکان درج فہرست طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔ یہ سب خواتین خواندہ ہیں۔ ان میں سے 76.77 فی صد ابتدائی سطح کے اسکول مکمل کر چکی ہیں، 20 فی صد ہائی اسکول کی پڑھائی پڑھ چکی ہیں، جبکہ 3.33 فی صد اسکولی تعلیم مکمل کر چکی ہیں۔

ان کی اکثریت (46.67 فی صد) سوکھی گھاس سے بنے چھت کے گھروں میں رہتی ہیں، جبکہ 30 فی صد کویلی کے گھر میں رہتی ہیں۔ باقی ارکان پکے گھروں میں رہتی ہیں۔

ارکان کی اکثریت زراعی شعبے سے تعلق رکھتی ہے۔ ان میں بھی لوگوں کی اکثریت (53.33 فی صد) زرعی مزدور ہے۔ 43.33 فی صد دیگر زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں اور 3.33 فی صد گھریلو بیویاں ہیں۔

53.33 فی صد خواتین علٰحدہ خاندان سے وابستہ ہیں جبکہ باقی مشترکہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔[1]

شمولیت کے اسباب

آنندواڑی میں کیے گئے سروے کے حساب سے خواتین کی شمولیت کا ایک بڑا سبب قرض کا آسان حصول ہے۔ قومیائے گئے بنک اور کواپریٹیو سوسائٹیاں تکلیف دہ مراحل پر مشتمل ہیں۔ گاؤں کے ساہوکار کا شرح سود کافی زیادہ ہوتا ہے۔ انفرادی اشخصاص کی جگہ پر سیلف ہیلپ گروپ بنکوں سے آسانی قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی قرض ارکان میں تقسیم ہوتا ہے۔ سیلف ہیلپ گروپ سود کی معمولی شرح لیتے ہیں۔ آنندواڑی کے سیلف ہیلپ گروپ جن کا جائزہ لیا گیا، ایک سے چار فی صد سود لیتے ہیں۔ سبھی ارکان بنک کے قرض کی بروقت ادائیگی کے لیے ذمے دار ہیں۔ اس وجہ سے قرض وقت پر ادا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بنک یہ ہدایت دیتے ہیں کہ ہر مہینہ کم از کم دو سو روپیے کی بچت کریں۔ قرض انفرادی اور تجارتی دونوں ضروتوں کے لیے ہو سکتا ہے۔ جدید دور میں کئی سیلف ہیلپ گروپ چھوٹی تجارت، خانگی صنعت، غذائی اجناس کی تیاری کی اکائی وغیرہ بھی شروع کر چکے ہیں۔ کسی بھی رکن کو دی گئی قرض کی اعظم ترین حد 12٫500 روپیے تھی۔[1]

اوڈیشا[ترمیم]

اوڈیشا میں سیلف ہیلپ گروپوں کو زبردست تقویت 2001ء میں ریاستی حکومت کی جانب سے مشن شکتی نامی ادارے کے قائم کرنے کے بعد ملی ہے۔ اس ادارے کی تسمیہ کی وجہ ریاست میں خواتین کو ہر شعبے میں بااختیار بنانا اور ان کی ترقی کا دائرہ وسیع کرنا ہے۔ ریاست میں ان گروپوں کے 90% ارکان خواتین ہیں۔ اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے انٹیگریٹیڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ اسکیم (آئی سی ڈی سی) کو سیلف ہیلپ گروپوں کے دائرے میں لاکر ان کی کارکردگی کو مزید وسیع بنانے کی کوشش کی ہے۔

آئی سی ڈی سی کی نچلی سطح پر آنگن واڑی (ابتدائی سے قبل) اسکول سے انچارج شامل ہیں جن کے ساتھ ایک نائب ہوتا ہے جسے مقامی زبان میں معاون کہا جاتا ہے۔ آنگن واڑی کے ملازمین یا میڈمز، جیسا کہ انہیں کہا جاتا ہے، وہ عورتیں ہیں جن کی ذمے داری پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی تعلیم کو سروا شیکشا ابھیان کے تحت فروغ دینا ہے۔ معاون خاتون کی ذمے داری دوپہر کا کھانا تیار کرنا، اسکول کے احاطے کو صاف کرنا، طلبہ کے سرپرست کا کام کرنا، طلبہ اور ان کے خاندان میں ربط رکھنا اور سیلف ہیلپ گروپ کے ارکان/صدر/معتمد تک معلومات فراہم کرنا۔ آئی سی ڈی سی ملازمین کو کام میں شامل کرنے سے اخراجات کی کمی دیکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آسانی سے رسائی، گرفت اور معلومات کے فوائد شامل ہیں۔ آئی سی ڈی سی کے ملازمین اور معاونین ہر گاؤں میں موجود ہیں،یہ لوگ مقامی ہیں اور محلوں کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ آنگن واڑی کے ملازمین ہر مہینہ مشن شکتی کے فراہم کر دہ فارمیٹ میں رپورٹ بھی پیش کرتے ہیں۔

مشن شکتی کے اہم مقاصد میں ایک یہ بھی ہے کہ سیلف ہیلپ گروپوں کے کاموں اور کارکردگی کا ہر بلاک کی سطح پر جائزہ لینا اور پچھلے سال سے موازنہ کرنا۔ اس سے متصلاً ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ مالی موقف کا جائزہ لیا جائے اور سرکردہ بینکوں سے قرضوں کی موجودگی یقینی بنایا جائے۔

کئی سرکاری اور غیر سرکاری تنظیمیں موجود ہیں جو خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو قرض اور رعاتیں فراہم کرتی ہیں۔ ان میں محکمہ آبی تحفظ (Watershed Department)، ضلعی دیہی ترقی ایجنسیاں (District Rural Development Agencies)، محکمہ زراعت و ماہی گیری، غیر سرکاری تنظیمیں، انڈین ٹوباکو کمپنی (آئی ٹی سی) اور لبرل ایسوسی ایشن فار موومنٹ آف پیپل شامل ہیں۔[7]

میوربھنج ضلعی سیلف ہیلپ ہیلپ گروپوں کا مالی موقف اور امداد

میوربھنج ضلع کا سرکردہ بینک، بینک آف انڈیا ہے۔ میوربھنج ضلعی سیلف ہیلپ ہیلپ گروپوں کا مالی موقف اور امداد کے اعداد و شمار حسب ذیل ہیں[7]:

بلاک موجودگی کے سال ہر قرض سے پہلے کے دورے اوسط بینک کا قرض
(بھارتی روپیے)
آخری قرض کی تفصیلات شرح سود
(فی صد)
اوسط رقمی ادائیگی بازادائیگی کا تناسب
(فی صد)
بنگیری پوسی 6.2 5 1٫37٫000 7٫309 12.3 4٫650 63.6
بیٹ نوٹی 7.1 4 2.98٫000 14٫605 18.1 7٫914 54.1
بیسوئی 6.2 4 45٫000 3٫333 12.0 2٫383 71.5
جاشی پور 6.6 3 2٫24٫666 12٫622 11.3 9٫732 77.1
تیرینگ 4.7 5 1٫73٫750 15٫666 13.2 5٫314 33.9
کل 6.1 4 2٫02٫833 10٫707 13.4 5٫998 56.0

یہ دیکھا گیا ہے کہ 2011ء-12ء میں اوسط قرض قومی سطح پر فی گروپ 1٫53٫071 روپیے تھا، جبکہ ریاستی سطح پر یہ 2٫00٫683 روپیے تھا۔ تاہم قبائلی علاقوں میں یہ اور بھی کم تھا۔ بعد کے عرصوں میں قبائلی علاقوں کی صورت حال بدلی ہے، جیساکہ میوربھنج میں دیکھا جا سکتا ہے، جہاں کی زیادہ تر آبادی قبائلیوں پر مشتمل ہے۔[7]

سیلف ہیلپ گروپوں کی موجودگی کے باوجود لوگ روایتی پیشے سے ہی جڑے پائے گئے ہیں۔ مثلاً قبائلی لوگ سبائی گھاس کی رسی بنانے، پتوں کی رکابی بنانے، کٹورے بنانے، جانوروں کی افزائش نسل، اچارسازی اور سجاوٹی اشیا بنانے میں پیش پیش پائے گئے ہیں۔[7]

کیرالا[ترمیم]

1998ء میں کیرالا کی حکومت نے حکومت ہند کی مدد سے کُودَم باشْری پروگرام شروع کیا تھا، جس کا مقصد غربت کا ازالہ تھا۔ اس پروگرام کے تحت ریاست کی 36 لاکھ خواتین کو 1,82,969 سیلف ہیلپ گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اس کے نتیجے میں 29,436 خرد کاروبار (micro enterprise) وجود میں آئے اور 54,949 خواتین مالکانہ موقف کی حامل بنیں۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث K Vitrievel & S Janaki Radha Krishnan, "Women Empowerment Through SHGs in Tamil Nadu: Case Study"، International Journal of Marketing Management,New Delhi, India, Vol. 6, No.1, Jan-جون 2016, Pp 53-63
  2. (Reserve Bank of India)
  3. Stuart Rutherford. 'Self-help groups as micro finance providers : how good can they get?' mimeo, 1999, p. 9
  4. Robert Peck Christen, N.Srinivasan and Rodger Voorhies, "Managing to go down market: regulated financial institutions and the move into microsavings." In Madeline Hirschland (ed.) Savings Services for the Poor: An Operational Guide، Kumarian Press, Bloomfield, CT, 2005, p. 106.
  5. EDA and APMAS Self-Help Groups in India: A Study of the Lights and Shades، CARE, CRS, USAID and GTZ, 2006, p. 11
  6. Fou illet C. and Augsburg B. 2007. "Spread of the Self-Help Groups Banking Linkage Programme in India"، International Conference on Rural Finance Research: Moving Results, held by FAO and IFAD, Rome, مارچ 19-21.
  7. ^ ا ب پ ت ٹ Navin Kumar Rajpal & Sharmila Tamang, "Microfinance in Tribal Odisha: Micro Impact Against Macro Scope,Arthshastra Indian Journal of Economics & Research (Bi-monthly)، Volume 5,ستمبر-اکتوبر، 2016, pp 26-38