شاہ محمد غوث لاہوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیخ المحدثین سید شاہ محمد غوث لاہوری ثم پشاوری نقشبندیہ سلسلہ کے معروف بزرگ ہیں

نام اور ولادت[ترمیم]

آپکا اسم گرامی سید محمد غوث لقب شیخ المحدثین غوث وقت اور شاہ محمدغوث کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کے والد محترم ابو البرکات سید حسن قادری نے دوسری شادی خاندان سادات کنڑ سید علی ترمذی المشہور پیربابا کی نواسی سے کی۔ یہ بی بی صاحبہ اتنی نیکوکار اور صالحہ تھیں کہ آپ کا لقب ’’ رابعہ عصر ‘‘ پڑ چکا تھا۔ آپ اسی عفیفہ کے بطن سے 1084ھ پیدا ہوئے۔

تعلیم وتربیت[ترمیم]

آپ کی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم کے زیر سایہ ہوئی۔ آپ خود رقمطراز ہیں۔ "جب اس احقر کی عمر سات سال کی ہوئی تو بہت ہی قرآن مجیدپڑھا مگر ضبط نہ ہوا۔ بڑا ہی قاصر الفہم تھا۔ جناب قبلہ گاہ والد صاحب نے باطنی طور پر پیر دستگیر (غوث اعظم) کے حضور میں عرض کی کہ اس بیٹے پر مہربانی فرمادیں۔ آپ نے عنایت فرمائی۔ اورظاہر اور باطن کے علوم سے نوازا گیا۔ اس مہربانی کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے علوم کے دروازے کھل گئے اور بہت تھوڑی مدت میں علم ظاہری حاصل ہو گیا۔ چنانچہ اٹھار ہ برس کی عمر میں تمام علوم کی مروجہ کتابیں پڑھ لیں، مطول کو چھ ماہ میں پڑھا لیا۔ نیز دیگر کتابوں کو بھی جلدی جلدی پڑھ لیا۔ تلویح توضیح جناب عالم علوم ظاہری و باطنی آخوند مولینا محمد نعیم صاحب سے پڑھی۔ جناب مولانا صاحب کابل کے پرگنہ ’’ محمود کار ‘‘ میں رہتے تھے۔ جب آپ نے علوم متداولہ سے فارغ ہو گئے تو احادیث پڑھنے کے لیے لاہور تشریف لے گئے۔

معرفت و سلوک[ترمیم]

آپ دوران تعلیم ہی میں والد گرامی مرتبت کی خدمت میں عرض کیا کرتے تھے کہ سلوک و معرفت کے علو م سے بھی آپ کو حصہ عطا فرمایا جاوے مگر والد محترم ہمیشہ آپ کو ارشاد فرماتے کہ پہلے علوم ظاہر کی تکمیل کر لو، اس کے بعد دیکھا جائے گا۔ فرماتے ہیں۔ جب آپ تحصیل علم کر چکے تو اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھارہ برس کی تھی۔ جناب قبلہ والد گرامی کی خدمت میں عرض کیا کہ اب حصول علم سے فارغ ہوچکا ہوں۔ راہ حقیقت کی طرف رہنمائی کیجئے۔ جناب ابو البرکات سید حسن صاحب قادری نے آپ کی اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے طریقہ عالیہ قادریہ میں بیعت فرماکہ ’’ ذکر الٰہی ‘‘ کی تلقین کی۔ خلوت میں بٹھا دیا اور چار چلے وا‚لد محترم کے حضور میں ہی ذکر الٰہی پورے کیے۔ اس کے بعد آپ چھ سال تک ایک علیحدا تنہائی کے مقام پر عبادت و زہد میں مصروف رہے اور سلوک و معرفت کے دشوار گزار منازل کو پورا کیا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس عرصہ میں اپنے وردات اور اپنی کیفیات اپنے والد کی خدمت میں عرض کرتا رہتا۔ غرض کہ چھ برس تک آپ ذکر لسائی، جہر، خفیہ، ذکر قلب اور مراقبات میں مصروف رہے۔ چھ برس کے بعد جناب والد گرامی قدر نے اپنے فرزند ارجمند کو سلسلہ عالیہ قادریہ کا منشور خلافت تحریر فرما دیا۔ مختلف فقرا کو مل کرآپ ’’ اٹک‘‘ تشریف لے گئے۔ اٹک میں حضرت جی صاحب یعنی یحییٰ سے ملاقات کی۔ حضرت جی آپ سے انتہائی شفقت اور محبت سے پیش آئے۔ حضرت جی صاحب بہت مہربانی فرمائی، ان کی صحبت میں ذکر قلبی غالب ہوا، ذکر قلبی، حبس کا طریقہ اور بعض دیگر مقامات جو حبس کے لیے ضروری ہیں، ان کی صحبت سے حاصل ہوئے، نیز آپ نے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی اجازت بھی مرحمت فرمائی۔ اٹک کے گرد ونواح کے فقرا کو مل کر راولپنڈی کے قریب نور پور شاہاں میں شاہ لطیف مجذوب سے ملاقات کی ،

رشدو ہدایت[ترمیم]

آپ کے علم وفقر کی شہرت اتنی عام ہوئی کہ ہرایک کی زبان پر آپ کی دینی تبلیغ خدمت فقرا، درس اور لنگر کا تذکرہ تھا۔ لوگ جوق در جوق آتے اور حسب حال امداد حاصل کرکے جاتے۔ جو تحائف اور ہدایا آتے تو آپ فقرا ء مساکین، بیواؤں اور یتیموں پر صرف کردیتے، مسافر کو زادراہ مہیا کرتے، اتنے اخراجات کرنے کے باوجود آپ کے چہرۂ اقدس پر میل تک نہیں آئی اور نہ ہی آپ نے کبھی کسی حکمران وقت اور امیر سے کوئی امداد قبول کی، دربار دہلی کی طرف سے ایک بار آپ کی خدمت میں ایک ہزار اشرفیاں پیش کی گئیں۔ آپ ؒ نے یہ فرماتے ہوئے واپس کر دیں کہ ’’ مستحق افراد میں ان کو بانٹ دو مجھے ان کی ضرورت نہیں، یہ غریبوں اور مفلوک الحال لوگوں کا حق ہے‘‘

توکل علی اللہ[ترمیم]

جب وقت آپ کے والد محترم ابوالبرکات سید حسن کا انتقال 1115ء میں ہوا تو اس کے فورا بعد بادشاہ ہندوستاں اورنگ زیب عالمگیر نے آپ کے نام ابوالبرکات کے مزار شریف کے گر د چالیس جریب زمین کی سند لکھ کر بھیج دی، مگر آپ نے قطعی جواب دے دیا کہ ’’ میں فقیر آدمی ہوں، اللہ کا دروازہ مجھ کافی ہے وہی میرا کارساز ہے، وہی میرا مولیٰ ہے اور وہ بہت اچھا آقا ہے ‘‘

پشاور آمد[ترمیم]

1120ھ میں پشاور شہر میں خانقا ہ قادریہ سید حسن صاحب پر باقاعدہ سلسلہ تدریس شروع کر دیا۔ درس قرآن، درس حدیث اور طریقہ مبارکہ کے ارشادات خود فرماتے، آپ کے درس مبارک میں اکابر علما کے لڑے اور مشائخ کرام کے صاحبزادگان آکر علوم سے بہرہ ور ہوتے۔ حدیث شریف کا درس اتنا وسیع تھا کہ علاوہ پنجاب و سرحد کے کابل، ہر ات اور غزنی کے طلبہ جوق در جوق آآکر شامل ہوتے نیز تمام طلبہ کی رہائش لباس اور طعام کا بندوبست بھی آپ خود فرماتے، دوسری طرف اپنے سلسلہ مبارک کی نشر و اشاعت میں انتھک کوشش کرتے۔ سینکڑوں مریدین اور متعقدمین آتے اور رشد و ہدایت سے بہر ہ یاب ہو کر واپس لوٹتے، غرض کہ آپ کی خا نقا ہ میں تزکیہ نفس اور تہذیت اخلاق کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی۔ کوئی قرآن حکیم، احادیث شریف، فقہ شریف اور تصوف کی کتابیں پڑھ رہا ہے، تو کوئی نفی اثبات کے ذکر میں مشغول ہے، کوئی مراقبہ کر رہا ہے تو کوئی رابطہ قلب کے ساتھ درد و شوق بڑھا رہا ہے۔ اس پر طرفہ یہ کہ سب پر آپ کی نظر کرم موجود ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

  1. شرح غوثیہ:- آپ نے بخاری شریف کی شرح شرح غوثیہ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ شرح علم حدیث میں ایک بحر نا پیدا کنار ہے۔ حدیث شریف کے متعلق جتنے علوم ہیں وہ سب اس شرح میں آپ نے حل فرمائے ہیں۔ اس شرح میں علاوہ دیگر متعلقہ علوم کے بخاری شریف کے اسما ء الرجال کو مکمل بیان کیا ہے۔ فقہ حنفی کی تطبیق نہایت ہی احسن طریقہ پر کی ہے۔
  2. رسالہ اصول حدیث:- یہ حدیث کے اقسام پر عربی میں آپ نے لکھا ہے۔
  3. رسالہ دربیان کسب سلوک و بیان طریقت و حقیقت (فارسی قلمی)یہ تصوف پر لکھا ہے۔ یہ رسالہ مکمل و اکمل مرشد ہے۔ سالک و قدم قدم پر ہدایت کرتا اور سمجھاتا ہے۔ اس رسالہ میں ایک دیباچہ اور چھ فصلیں ہیں۔ دیباچہ میں ’’ذکر مدام ‘‘ اور ’’فکر تمام‘‘ ،’’ اکل حلال‘‘ ،’’ صدق مقال‘‘ وغیرہ پر بحث ہے۔
  4. رسالہ ذکر جہر:- اس رسالہ میں قرآن مجید، احادیث شریف، کتب فقہ اور کتب علما ء کرام سے مدلل طریقہ سے ذکر جہر کا ثبوت دیا ہے اور نہایت ہی احسن وجوہ بیان فرمائے ہیں۔ یہ رسالہ عربی میں قلمی ہے۔
  5. ترجمہ قصیدہ غوثیہ شریف (فارسی):- قصیدہ شریف کی عام فہم اور صوفیانہ شرح ہے۔ صرف اور نحو کے مشکل مقامات کو نہایت آسان طریقہ پر حل فرمایا ہے۔ پیر عبد الغفار لاہوری نے 1910ءمیں شائع کی تھی۔ اس شرح کا نام آپ نے ’’ شرح خمریہ ‘‘ رکھا ہے۔
  6. اسرار التوحید(عربی) : — قلمی یہ کتاب توحید کے موضوع پر ہے۔
  • منطق، فلسفہ اور الہٰیات کی کتابوں پر آپ نے شروح تحریر فرمائیں۔

اولاد وخلفاء[ترمیم]

آپ کے چار فرزند تھے۔ ( سید میر محمد عابد شاہ، سید میر شاکر شاہ، میر سید شاہ میر، میر باقر شاہ یہ چہاروں آپ کے مرید اور خلفاء تھے ۔
اور آپ کے بہت سے اور خلفاءبھی تھے۔ ان میں حافظ محمد سعید، حافظ محمد صدیق، محمد غوث اور شیخ وجیہہ الدین المعروف پیر زہدی لاہوری، نیز آپ کے پوتے شاہ غلام بھی آپ کے مرید و خلیفہ تھے۔

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات 17 ربیع الاول 1152ھ میں ہوئی۔ بیرون دہلی دروازہ لاہور آپ کا مزار واقع ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ علما و مشائخ سرحد جلد اوّل، صفحہ 74 تا 91،محمد امیر شاہ قادری ،مکتبہ الحسن کوچہ آقہ پیر جان یکہ توت پشاور