صہبا لکھنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صہبا لکھنوی
صہبا لکھنوی

معلومات شخصیت
پیدائش 25 دسمبر 1919  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بھوپال،  ریاست بھوپال،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 30 مارچ 2002 (83 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی،  سندھ،  پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  مدیر،  ادبی تنقید نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ادارت،  غزل،  ادبی تنقید،  نظم،  سفرنامہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں افکار (جریدہ)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

صہبا لکھنوی (پیدائش: 25 دسمبر، 1919ء- وفات: 30 مارچ، 2002ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، نقاد اور ماہنامہ افکار کے مدیر تھے۔

حالات زندگی و خدمات[ترمیم]

صہبا لکھنوی 25 دسمبر، 1919ء کوریاست بھوپال، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید شرافت علی تھا[1][2][3]۔ ان کا آبائی وطن لکھنؤ تھا اسی وجہ سے لکھنوی کہلائے۔ انہوں نے بھوپال، لکھنؤ اور بمبئی سے تعلیمی مدارج طے کیے اور 1945ء میں بھوپال سے ماہنامہ افکار کا اجرا کیا۔ تقسیم ہند کے بعد وہ کراچی میں سکونت پزیر ہوئے اور یہاں 1951ء میں افکار کا دوبارہ اجرا کیا۔ جریدے افکار کے ساتھ ان کی یہ وابستگی ان کی وفات تک جاری رہی اور یہ رسالہ مسلسل 57 برس تک بغیر کسی تعطل کے شائع ہوتا رہا۔ صہبا لکھنوی کے شعری مجموعے ماہ پارے اور زیر آسماں کے نام اشاعت پزیر ہوئے جبکہ ان کی نثری کتب میں میرے خوابوں کی سرزمین (سفرنامہ مشرقی پاکستاناقبال اور بھوپال، مجاز ایک آہنگ، ارمغان مجنوں، رئیس امروہوی فن و شخصیت اور منٹو ایک کتاب شامل ہیں۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • ارمغانِ مجنوں (بہ اشتراک شبنم رومانی)
  • منٹو ایک کتاب
  • غالب ایک صدی
  • برطانیہ میں اُردو
  • زیرِ آسماں
  • خاکے
  • اقبال اور بھوپال
  • رئیس امروہوی - فن و شخصیت
  • مجاز ایک آہنگ
  • میرے خوابوں کی سر زمیں (مشرقی پاکستان کا سفرنامہ)
  • ماہ پارے

نمونۂ کلام[ترمیم]

شعر

موج موج طوفان ہے موج موج ساحل ہےکتنے ڈوب جاتے ہیں کتنے بچ نکلتے ہیں

وفات[ترمیم]

صہبا لکھنوی 30 مارچ، 2002ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب صہبا لکھنوی، سوانح و تصانیف ڈاٹ کام، پاکستان
  2. ^ ا ب پ پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 891
  3. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 429