عبدالطیف پدرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالطیف پدرام
Dr Abdul Latif Pedram.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 29 جولا‎ئی 1963 (56 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
صوبہ بدخشاں  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کابل، افغانستان
شہریت Flag of Afghanistan (2002–2004).svg افغانستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نسل تاجک
عملی زندگی
مادر علمی پیرس یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان تاجک زبان، فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لطیف پدرام ت 2014

عبد اللطيف پدرام مختصر لطيف پدرام ایک مشہور افغانستانی پارلیمنٹیرین، سیاستدان، شاعر، ادیب اور صحافی ہیں اور افغانستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے مشہور ہیں۔[1] اس وقت وہ ایک سیاسی پارٹی افغانستان نیشنل کانگرس پارٹی اور صوبہ بدخشان افغانستان میں وولیسی جرگہ کے سربراہ ہیں۔

سوانح[ترمیم]

آپ 1963ء مین صوبہ بدخشتان میں فارسی بولنے والے خاندان میں پیدا ہوئے، آپ شاعر، ادیب، صحافی اور فارسی ادب کے پروفیسر ہیں، کچھ عرصہ انہوں نے حکیم ناصر خسرو بلخی ثقافتی مرکز میں بحیثیت ناظم خدمات بھی انجام دی ہیں، پہلے پہل انہوں نے کمیونیسٹ حکومت ڈیموکریٹک ریپبلک آف افغانستان کی پرزور حمایت کی لیکن بعد میں افغانستان میں روسی جنگ کے خلاف کھل کر احتجاج کیا اور افغانستان میں روسی قبضے کے خلاف سرگرم رہے اور بعد میں احمد شاہ مسعود ساتھ مل گئے

افغان جنگ کے دوران میں بھی وہ افغانستان میں ہی رہے پھر طالبان کے قبضے کی وجہ سے لطیف پدرام کو افغانستان میں روپوش ہونا پڑا اور طالبان کی طرف سے خطرے کے پیش نظر کچھ عرصہ فرانس میں گزارے جہاں انہوں نے پولیٹیکل سائنس میں مہارت حاصل کی اور افغانستان کی فارسی زبان و ادب کے فروع کے لیے کرداد ادا کیا۔

سیاست[ترمیم]

عبد الطیف پدرام افغانستان میں سیکولرزم کے حامیوں میں سے ہیں انہوں نے بدعنوانی اور اسلامی بنیاد پرستی کی کھل کر مخالفت کی ۔[2]

عبد الطیف پدرام کی پارٹی لسانی بنیادوں پر بنی ہوئی پارٹی تھی اور یہ افغانستان میں واحد حزب اختلاف کی پارٹی تھی جو کسی جہادی گروپ کے ساتھ نہیں جڑی تھی[3] انہوں نے افغانستان کا نام عظیم خراسان رکھنے کی تجویز پیش کی تھی لیکن افغانیوں نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا

صدارتی انتخابات 2004[ترمیم]

پدرام نے 2004ء ے صدارتی انتخابات میں سب سے زیادہ لینے والوں میں پانچویں نمبر پر رہے ،[4]

2008 تنازعات[ترمیم]

یہ فروری 2008 کی بات ہے کہ ایک آڈیو ریکارڈنگ افغانستان کے ٹی وی چینلز پر نشر ہوا جس میں عبد الطیف پدرام نے افغانستان کے سابق بادشاہ امان اللہ خان کے خلاف غلط زبان استعمال کی تھی، امان اللہ خان جو افغانستان کا قومی ہیرو ہے جس کے خلاف پروپیگینڈہ کو عوام نے مسترد کر کے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ۔[5]

اعزازات[ترمیم]

  • ھیلمان ھیلمیٹ انعام
  • رپورٹرز سان فرانسکو کی طرف سے انعام
  • انٹرنیشنل پارلیمنٹ رائٹرز ایوارڈ
  • پیوند ایوارڈ

اقتباس[ترمیم]

یہ ایک حقیقت ہے کہ حامد خان کرزئی نے افغانستان کے انتخابات میں پندرہ فیصد ووٹ حاصل نہیں کئے اور نہ ہی یہ انتخابات شفاف ہوئے ہیں […] اب اگر کرزئی کو اس جعلی انتخابات کے ذریعے افغانستان کا صدر بنایا جائے گا تو وہ جعلی صدر کہلائے گا۔[6] - صدارتی انتخابات 2004 پر تبصرہ

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. FRONTLINE/WORLD Fellows۔ AFGHANISTAN – Without Warlords. A Secular Politician | PBS
  2. IRAN PRESS SERVICE: "ELECTIONS CAMPAINING STARTED IN AFGANISTAN" - اکتوبر 8th, 2004
  3. Democracy in Danger: Latif Pedram placed under house arrest
  4. Afghanistan – Country Fact File
  5. Clements, F. (2003)۔ Conflict in Afghanistan: A Historical Encyclopedia۔ ABC-CLIO۔ صفحہ 28۔ آئی ایس بی این 978-1-85109-402-8۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-11-23۔
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ NWT نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔