عین الملک ملتانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

عین الملک ملتانی ایک فوجی کمانڈر اور سرکاری اہلکار تھے جہنوں نے دہلی میں خلجی اور تغلق سلاطین کے خاندانوں کی خدمت کی تھی۔ انہوں نے دیوگیری اور مالوہ میں علاؤ الدین خلجی کے گورنر کی حیثیت سے بھی خدمات سر انجام دیں۔ علاؤ الدین کی وفات کے بعد گجرات میں بغاوت کے شعلے بھڑکے تو عین الملک نے انہیں فرو کیا۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

عین الملک ملتانی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ملتیں۔ ان کا اصل نام بھی معلوم نہیں ہے۔ عین الملک ان کا لقب ہے جبکہ ان کے نام کے ساتھ ملتانی ایک نسبت کے طور پر استعمال ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا تعلق ملتان سے تھا۔ پندرہویں صدی کے ایک بزرگ یحیی بن احمد سرہندی نے ان کا عین الملک شہاب کے نام سے ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق شہاب ان کے والد کا نام تھا۔

پیشہ ورانہ زندگی[ترمیم]

عین الملک نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی علاؤ الدین خلجی کے دور میں ان کے بھائی الغ خان کے سیکرٹری (دبیر) کی حیثیت سے شروع کی۔ علاؤ الدین کے درباری امیر خسرو کے مطابق وہ ایک قابل سیاست دان اور فوجی جرنیل تھے جبکہ بعد میں ضیاء الدین برنی نے انہیں ایک خاصا تجربہ کار انسان قرار دیا جو ایک مشیر کی حیثیت سے مشورہ اور پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے قابل تھا۔ خسرو کی طرح برنی کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ تلوار اور قلم دونوں میں یکتا و ہنرمند انسان تھے۔

1305ء میں علاؤ الدین نے مالوہ پر حملہ کے لیے فوج بھیجی اور وزیر اعظم کوکا کی سربراہی میں پارامرا فوج کو شکست ہوئی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ فوج کی کمانداری کس نے کی مگر ایک اندازے کے مطابق وہ ملتانی ہی تھے۔ کیونکہ علاؤ الدین نے انہیں مالوہ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ مالوہ میں علاؤ الدین کی حکومت کو مضبوط بنانے میں ملتانی نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے پرمار کے سابقہ دار الحکومت دھار پر حملہ کیا جہاں انہوں نے لوہے کے ستون کو توڑا۔ انہوں نے پرمار کے حمایتی اجین، دھار اور چندیری کو علاؤ الدین کی بالادستی قبول کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد عین الملک نے مانڈوی پر بھی حملہ کر دیا جہاں پرمار کے بادشاہ مہلک دیو نے پناہ لے رکھی تھی۔ اس کی فوج نے پرمار کو شکست سے دوچار کیا اور مہلک دیو اور اس کے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

ببلوگرافی[ترمیم]

  • Banarsi Prasad Saksena۔ "The Khaljis: Alauddin Khalji"۔ بہ Mohammad Habib and Khaliq Ahmad Nizami۔ A Comprehensive History of India: The Delhi Sultanat (A.D. 1206–1526) (اشاعت Second۔)۔ The Indian History Congress / People's Publishing House۔ او سی ایل سی 31870180۔
  • I. H. Siddiqui۔ C. E. Bosworth؛ E. van Donzel؛ Charles Pellat, ویکی نویس.۔ The Encyclopaedia of Islam (اشاعت New۔)۔ Leiden: E. J. Brill۔ آئی ایس بی این 90-04-06167-3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  • Kishori Saran Lal۔ History of the Khaljis (1290–1320)۔ Allahabad: The Indian Press۔ او سی ایل سی 685167335۔
  • Peter Jackson۔ The Delhi Sultanate: A Political and Military History۔ Cambridge University Press۔ آئی ایس بی این 978-0-521-54329-3۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔