محاصرہ دوارسمدر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محاصرہ دوارسمدر is located in بھارت
دہلی
دہلی
دوارسمدر
دوارسمدر
موجودہ بھارت میں دہلی اور دوارسمدر

سنہ 1310ء کے اواخر میں سلطنت دہلی کے فرماں روا سلطان علاء الدین خلجی نے اپنے سالار ملک کافور کو ایک لشکر دے کر ہندوستان کے انتہائی جنوب میں واقع خطوں کو فتح کرنے کی مہم پر روانہ کیا تھا۔ فروری 1311ء میں ملک کافور نے سلطنت ہوئے سل کے پایہ تخت دوراسمدر کا محاصرہ کیا، قلعہ میں محصور ہوئے سل حکمران ویر بلالا سوم نے جلد ہی ہتھیار ڈال دیے اور سلطان دہلی کے حضور سالانہ خراج پیش کرنے کا وعدہ کیا۔ نیز بلالا نے ملک کافور کو بھی بہت سا مال و دولت، ہاتھی اور گھوڑے دے کر رخصت کیا۔

پس منظر[ترمیم]

سنہ 1310ء تک علاء الدین خلجی شمالی ہندوستان کے بیشتر حصوں کو سلطنت دہلی کا محکوم بنا چکے تھے اور ساتھ ہی منگولوں کا خطرہ بھی دور ہو چکا تھا۔ خطہ دکن کے طاقت ور حکمران یادو اور کاکتی ان کے باج گزار بن چکے تھے۔ کاکتیوں کے خلاف سنہ 1310ء کے محاصرہ ورنگل کے دوران میں ان کے سالار ملک کافور کو علم ہوا کہ یادو اور کاکتی مملکتوں کا شمالی خطہ بہت متمول تھا۔ چنانچہ دلی واپس پہنچ کر ملک کافور نے یہ اطلاع سلطان کے گوش گزار کی اور اس مہم پر جانے کے لیے اپنی مستعدی کا بھی تذکرہ کیا۔ سلطان نے اس تجویز کو منظور کر لیا۔ علائی دربار کے وقائع نگار امیر خسرو نے جنوبی ہند کی ان مہمات کا مقصد وہاں نور شریعت کو پھیلانا بتایا ہے۔[1]

روانگی[ترمیم]

17 نومبر 1310ء کو ملک کافور کی سربراہی میں لشکر سلطانی نے دہلی سے کوچ کیا۔[2] جمنا ندی کے کنارے پر واقع تنکل نامی گاؤں میں لشکر نے پہلا پڑاؤ کیا، اس وقت یہ مقام کہاں واقع ہے اس کے متعلق یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے۔[3] یہاں وزیر جنگ خواجہ حاجی نے چودہ روز تک فوج کا جائزہ لیا۔ 2 دسمبر 1310ء کو فوج نے یہاں سے کوچ کیا اور اکیس پڑاؤ کے بعد کتیہون پہنچی۔[2] کتیہون مقام سے گزرنے کے بعد فوج کی راہ میں دشوار گزار پہاڑیاں، وادی اور تین ندیاں آئیں جن میں سب سے بڑی ندی نرمدا تھی۔ سترہ دنوں کی مسافت طے کرنے کے بعد فوج گھرگاؤں پہنچی، یہ مقام اس وقت کھرگون کہلاتا ہے۔ یہاں فوج نے بیس دن پڑاؤ کیا اور سالار فوج کا جائزہ لیتے رہے۔ نیز کاکتی حکمران پرتاپ ردر نے تیئیس ہاتھی بطور کمک بھیجے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kishori Saran Lal 1950، صفحہ 201.
  2. ^ ا ب پ Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ 411.
  3. Kishori Saran Lal 1950، صفحہ 202.

کتابیات[ترمیم]

  • Banarsi Prasad Saksena (1992) [1970]. "The Khaljis: Alauddin Khalji". In Mohammad Habib and Khaliq Ahmad Nizami. A Comprehensive History of India: The Delhi Sultanat (A.D. 1206–1526). 5 (ایڈیشن Second). The Indian History Congress / People's Publishing House. OCLC 31870180. 
  • Kishori Saran Lal (1950). History of the Khaljis (1290–1320). Allahabad: The Indian Press. OCLC 685167335.