پانڈئے مملکت پر ملک کافور کا حملہ
سنہ 1310ء میں سلطنت دہلی کے فرماں روا سلطان علاء الدین خلجی نے ہندوستان کے انتہائی جنوب کی سلطنتوں کو فتح کرنے کے لیے ملک کافور کی سرکردگی میں ایک لشکر روانہ کیا تھا۔ ہوئے سلوں کو زیر کرنے کے بعد ملک کافور سلطنت پانڈئے کی جانب بڑھے۔ مسلم وقائع نگاروں کے یہاں اس سلطنت کا نام مالابار درج ہے۔ دراصل ملک کافور نے دو پاندئے بھائیوں ویر اور سندر کے درمیان میں جاری حصول اقتدار کی جنگ کا فائدہ اٹھایا تھا۔ سنہ 1311ء کے مارچ اور اپریل میں ملک کافور پانڈئے سلطنت کے متعدد علاقوں پر حملہ آور ہوئے، ان میں سلطنت کا پایہ تخت مدورئی بھی شامل تھا۔ گوکہ اس لشکر کشی کے ذریعہ ملک کافور پانڈئے بادشاہ کو تخت دلی کا باج گزار نہ بنا سکے لیکن مال غنیمت کے طور پر زر و جواہر، گھوڑوں اور ہاتھیوں کا بڑا ذخیرہ لشکر سلطانی کے ہاتھ آیا۔
پس منظر
[ترمیم]سنہ 1310ء تک سلطان علاء الدین خلجی نے جنوبی ہندوستان کے خطہ دکن کے کاکتی اور یادو حکمرانوں کو اپنا باج گزار بنا لیا تھا۔ کاکتیوں کے خلاف سنہ 1310ء میں محاصرہ ورنگل کے دوران میں علائی سالار ملک کافور کو اطلاع ملی کہ یادو اور کاکتی مملکتوں کا جنوبی علاقہ انتہائی متمول اور باثروت ہے۔ چنانچہ جب یہ لشکر ورنگل فتح کرکے دلی واپس پہنچا تو ملک کافور نے مذکورہ اطلاع سلطان کے گوش گزار کی اور ساتھ ہی ہندوستان کے انتہائی جنوبی خطوں کی مہم کی قیادت کی اجازت بھی چاہی۔[1]
سنہ 1311ء کے اوائل میں ملک کافور ایک بڑے لشکر کے ہمراہ دکن پہنچے۔ فروری کے مہینے میں انھوں نے دس ہزار سپاہیوں کو لے کر مملکت ہوئے سل کے پایہ تخت دوارسمدر کا محاصرہ کیا اور یہ محاصرہ اس وقت تک جاری رہا جب تک ہوئے سل حکمران ویر بلالا سوم تخت دلی کو خراج ادا کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ فتح کے بعد ملک کافور نے مزید بارہ دنوں تک یہیں قیام کیا تاکہ باقی ماندہ لشکر بھی دوارسمدر پہنچ جائے۔[2]
عین اُسی وقت ہوئے سل حکومت کے جنوب میں واقع پانڈئے سلطنت میں حصول اقتدار کی جنگ جاری تھی۔ راجا مارورمن کلشیکھر پانڈئے اول کی وفات کے بعد ان کے شہزادوں ویر اور سندر میں رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔[3] متعدد وقائع نگاروں نے بیان کیا ہے کہ اسی رسہ کشی کے دوران میں سندر نے ملک کافور سے مدد چاہی اور یہی مطالبہ پانڈئے علاقوں پر حملہ کا سبب بنا۔ تاہم معاصر مورخ امیر خسرو نے اس کا ذکر نہیں کیا بلکہ ان کے مطابق ملک کافور نے دونوں سلطنتوں کے علاقوں پر حملہ کیا تھا۔[2]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Kishori Saran Lal 1950، صفحہ 201
- ^ ا ب Banarsi Prasad Saksena 1992، صفحہ 414
- ↑ B. R. Modak 1995، صفحہ 3
کتابیات
[ترمیم]- B. R. Modak (1995)۔ Sayana۔ Sahitya Akademi۔ ISBN:978-81-7201-940-2۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-30
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت) - Banarsi Prasad Saksena (1992) [1970]۔ "The Khaljis: Alauddin Khalji"۔ در Mohammad Habib and Khaliq Ahmad Nizami (مدیر)۔ A Comprehensive History of India: The Delhi Sultanat (A.D. 1206–1526) (Second ایڈیشن)۔ The Indian History Congress / People's Publishing House۔ ج 5۔ OCLC:31870180
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت) - K.K.R. Nair (1987)۔ "Venad: Its Early History"۔ Journal of Kerala Studies۔ University of Kerala۔ ج 14 شمارہ 1: 1–34۔ ISSN:0377-0443
{{حوالہ رسالہ}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت) - Kishori Saran Lal (1950)۔ History of the Khaljis (1290–1320)۔ Allahabad: The Indian Press۔ OCLC:685167335
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت) - Peter Jackson (2003)۔ The Delhi Sultanate: A Political and Military History۔ Cambridge University Press۔ ISBN:978-0-521-54329-3۔ 2018-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-05-30
{{حوالہ کتاب}}: پیرامیٹر|حوالہ=harvدرست نہیں (معاونت)