فرانسیسی جرمن جنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
فرانسیسی جرمن جنگ
حصہ the wars of German unification
Collage of Franco–Prussian War imagery
Clockwise from top left:
Prussian infantry at the Battle of Spicheren;
Jeanniot's 1886 La ligne de feu (Battle of Mars-La-Tour);
Werner's depiction of the capitulation of Sedan;
Neuville's 1873 Les dernières cartouches (Battle of Bazeilles).
تاریخ 19 July 1870 – 10 May 1871
(9 months, 3 weeks)
مقام
نتیجہ German victory
علاقائی
تبدیلیاں
Treaty of Frankfurt
متحارب گروہ
Flag of فرانس French Empirea

Baden
 مملکت بویریا
Württemberg
Hesse-Darmstadt

Flag of فرانس French Republicb Flag of the German Empire.svg جرمن سلطنتd
سالار ورہنما
طاقت
909,951
1,200,000
نقصانات
756,285[3]
  • 138,871 dead[4]
  • 143,000 wounded
  • 474,414 captured
116,696[5]
  • 28,208 dead
  • 88,488 wounded
  • a Until 4 September 1870.
  • b From 4 September 1870.
  • c Leading member of the North German Confederation.
  • d From 18 January 1871.
جنگ میں کامیابی کے بعد پیرس میں جرمن سلطنت کا اعلان

فرانسیسی جرمن جنگ (فرانسیسی: Guerre franco-allemande، جرمنی: Deutsch-Französischer Krieg) کے نام سے (19 جولائی 1870 – 10 مئی 1871) کو جرمن ریاست پرشیا اور فرانس کے مابین یورپی تاریخ کی ایک اہم جنگ ہوئی۔ اس جنگ میں پرشیا کا ساتھ دوسری جرمن ریاستوں نے بھی دیا۔ اس جنگ میں فرانس کو شکست ہوئی۔

اسباب[ترمیم]

صدیوں تک چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم رہنے کے بعد جرمن ریاستیں پرشیا کے ذیر قیادت متحد ہو رہی تھیں اور یہ فرانس کو گوارہ نہ تھا۔ اپنے مشرق کی جانب ایک طاقتور جرمن ریاست کا بننا فرانس کے لیۓ پریشانی کا باعث تھا۔ چنانچہ اس نے پرشیا کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ جنگ میں فرانس کو شکست ہوئی۔

نتائج[ترمیم]

جرمنی 1871ء میں

جنگ میں فتح کے بعد جرمن ریاستوں نے متحد ہو کر لطنت کا اعلان کیا جس کا چانسلر بسمارک تھا۔ فرانس کو تاوان جنگ کے علاوہ جرمنی کو اپنے دو صوبے آلسائس اور لورین جن میں کہ جرمن زبان بولنے والے خاصی تعداد میں تھے دینے پڑے۔

نگار خانہ[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Howard 1991، ص&nbsp39.
  2. ^ Wawro 2003، ص&nbsp42.
  3. ^ Nolte 1884، ص&nbsp526–527.
  4. ^ Nolte 1884، ص&nbsp527.
  5. ^ Howard 1991، ص&nbsp453.