فرحت بصیر خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فائل:Prof. Farhat Basir Khan.jpg
فرحت بصیر خان
فرحت بصیر خان
250px 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1957 (عمر 61–62 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گورکھپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
قومیت بھارتی
دیگر نام Khan, F. B. Khan
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ Academic, photographer
دور فعالیت 1975 -

فرحت بصیر خان (انگریزی: Farhat Basir Khan) (ولادت: 2 اگست 1957ء) بھارت کے ایک فوٹوگرافر ہیں۔ وہ فی الحال اے جے کے ماس کمیونیکیشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے منسلک ہیں۔ انہون نے متعدد ملکی و بین الاقوامی فوٹوگرافی پروجیکٹ میں حصہ لیا اور کئی ملکی و بین الاقوامی اداروں میں مضیف بھی ہیں۔[1][2] اکیڈمک اور اور فوٹوگرافی انڈسٹری میں ان کی خدمات قابل قدر ہیں جنہیں اہل فن وقعت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔[3][4][5][6]

وہ اے جے کے ماس کمیونیکیشن میں پروفیسر اور نائب ڈائریکٹر ہیں۔[7][8] انہوں نے اکیڈمی آف فوٹوگرافی ایکسیلینس کی بنیاد رکھی اور وہاں وہ پروفیسر اور ڈیئریکٹر رہے۔[9][10] وہ کئی بین الاقوامی مسابقوں میں حکم رہ چکے ہیں جیسے سی ایم ایس فلم فیسٹیول دہلی، فیوجی فلم سپر سکس، فلم فوٹوگرافی اینڈ انیمیشن فیسٹیول کونپور و دہلی۔ اس کے علاوہ نیدرلینڈز اور ایمسٹرڈیم میں مسابقات میں شامل رہ چکے ہیں۔[11][12] فرحت بصیر خان نے یونیسیف اور عالمی ادارہ صحت کے لیے 50 سالہ یادگاری آڈیو-وزیول گروگرام کر چکے ہیں اور ساتھ برقی ذرائع ابلاغ، ابلاغ عامہ اور ورلڈ وائڈ ویب کے لیے وقتا فوقتا کام کرتے رہتے ہیں۔[13]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

فرحت بشیر خان کی ولادت 2 اگست 1957ء کو علی گڑھ میں ہوئی اور انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ [14] 1978ء میں انہوں نے تصویری صحافت میں اپنے کیرئر کا آغاز کیا اور بہت جلد اس میدان کے مانے جانے نام بن گئے۔[15] ان کا خواب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں فوٹوگرافی کا استاد بننے کا تھا۔[16]

اکیڈمک کیرئر[ترمیم]

انڈسٹری میں قدم جمانے کے بعد انہوں نے اے جے کے ماس کمیونیشن ریسرچ سینٹر میں شمولیت اختیار کی اور وہاں فوٹوگرافی، کثیر الوسط اور آڈیو ویزول کے صدر نشین بن گئے اور مولانا آزاد کی کرسی پر بیٹھنے کا شرف حاصل کیا۔[17] مزید برآں جنڈل فوٹو استوڈیو کے بھی ڈائریکٹر رہے۔نقص حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag انہوں نے کئی نامور ہستیوں کے کام کیا ہے جیسے شاہ رخ خان، روشن عباس، برکھا دت، کبیر خان، لولین ٹنڈن، اسیم مشرا اور سوربھ نارانگ وغیرہ۔[18][19][20] وہ ہمیشہ نئے پروجیکٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اور فوٹوگرافی کی دنیا میں نت نئے تجربات کی کوشش کرتے ہیں۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 1993ء کے لیے انہوں نے ساکت فوٹوگرافی اور آڈیو ویڈیو پروڈکشن کا سہ سالہ انڈر گریجویٹ کورس تیار کیا جسے یوجی سی نے ملک بھی نافذ کیا۔ وہ ملک کی نامور تعلیمی اکائی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ میں بھی خدمات دے چکے ہیں جہاں انہوں نے 80 کی دہائی میں ووکیشنل کورس تیار کیا۔[2] اسی دوران میں انہوں نے کئی نئے فارمیٹ بھی ایجاد کیے جیسے واک تھرو سمپوزیم اور میڈیا انسٹالیشن وغیرہ۔ وہ فوٹوگرافی، گرافکس اور اسٹریٹ تھیٹر سے متعلق میں مختلف تجربات اور پروجیکٹ میں بطور نگراں شرکت کرتے رہتے ہیں۔[19]

دی گیم آف ووٹس[ترمیم]

انہوں نے ایک کتاب بنام دی گیم آف ووٹس لکھی جسے سیج پبلشنگ نے شائع کیا اور سابق صدر بھارت پرنب مکھرجی نے اس کا دیباچہ لکھا۔ کتاب میں برقی اور ٹیکنالوجی کے میدان کی باریکیوں پر روشنی ڈالی ہے اور بھارت میں انتخاباتی نتائج میں استعنال ہونے والی ٹیکنالوجی کو بھی بیان کیا ہے۔ وہ بارک اوباما، ڈونالڈ ٹرمپ اور نریندر مودی کے انتخابی نتائج پر روشنی ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ کیسے مودی نے 2014ء اور 2019ء میں بین الاقوامی لیڈروں کے سہارے انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔[21]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Jury member"۔
  2. ^ ا ب "Prof. Farhat Basir Khan"۔
  3. "Innovative photography"۔
  4. Dr. Rahat Abrar۔ "Alumni of AMU"۔ Directory of Journalists from AMU۔ AMU University۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-14۔
  5. FB Khan۔ "Faculty of MCRC"۔ AJK MCRC, JMI (www.ajkmcrc.org)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-03-14۔
  6. FB Khan۔ "Faculty MCRC"۔ AJK MCRC, JMI (www.ajkmcrc.org)۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  7. "Officiating Director at AJK MCRC"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ 5 فروری 2011۔
  8. "Faculty AJK MCRC"۔
  9. "FB Khan"۔
  10. "Nomination Jury"۔
  11. "Prof Farhat Basir Khan – Illustrated Lecture on Documenting Reality Lalit Kala Akademi"۔ Press Trust of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  12. "supersix"۔
  13. "50 year commemorative AV, UNICEF"۔
  14. "Alumni of AMU"۔ Aligarh Muslim University۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  15. "Prof. Farhat Basir Khan"۔
  16. "Curriculum Vitae – Prof. Farhat Basir Khan" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Jamia Millia Islamia۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2017۔
  17. "Prof. Farhat Basir Khan"۔ Indi Career۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  18. Dr. Hamid Raihan۔ "Prof. Farhat Basir Khan Rewarded"۔ AMU NEWS۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  19. ^ ا ب Parul Sharma (11 مارچ 2009)۔ "Another Proud Moment for Jamia Institute"۔ The Hindu۔ Chennai, India۔ اخذ شدہ بتاریخ 14 مارچ 2011۔
  20. "Prof. Farhat Basir Khan"۔
  21. "The Game of Votes"۔ Amazon۔ اخذ شدہ بتاریخ 16 ستمبر 2019۔