مدھو اچاریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مدھو اچاریہ
Shri Madhvacharya.jpg
ذاتی
پیدائش
واسو دیو (ವಾಸುದೇವ)

1238ء
پاجک، نزد اڑیپی (موجودہ اڈوپی، کرناٹک)
مذہب ہندومت
سلسلہ ویدانت
بانئ اڈوپی شری کرشن مٹھ
فلسفہ دویت (ثنوی) ویدانت
مرتبہ
گرو اچیوت پریکش
ادبی کام سرومول گرنتھ
اعزازات پورن پراگیہ، جگت گرو

مَدْھْوَ اچاریہ (کنڑا: ಮಧ್ವಾಚಾರ್ಯರು) کو پورن پراگیہ اور آنند تیرتھ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا پیدائشی نام واسو دیو تھا۔ مدھو اچاریہ ایک ہندو فلسفی اور دویت ویدانت مکتب فکر کے بانی تھے۔ مدھو اچاریہ بھکتی تحریک کے عہد کے اہم فلاسفہ میں سے ایک تھے۔ کرناٹک میں ان کے بہت سے معتقدین پائے جاتے ہیں جو ان کو وایو کا تیسرا جنم مانتے ہیں اور پہلے دو جنم ہنومان اور بھیم تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مدھیہ گیہ دکن کے پاس کرناٹک میں اُڑیپی نام کی جگہ کے پاس واقع ایک گاؤں پاجک میں رہتا تھا۔ اس کے پاس تھوڑی سی زمین تھی جو اس کے گزر بسر کے لیے کافی تھی۔ مدھیہ گیا بڑا قابل تھا۔ اس کی قابلیت کی وجہ سے ہی لوگ اُس ”بھٹ“ کہتے تھے۔

مدھیہ گیہ کی بیوی کا نام ویدوتی تھا، اس کے بطن سے ایک لڑکی اور دو لڑکے پیدا ہوئے۔ بدقسمتی سے دونوں لڑکے چھوٹی عمر میں وفات پا گئے۔ مدھیہ گیہ کو اس بات کی فکر ہوئی کہ اگر اس کے کوئی لڑکا نہ ہوا تو اس کی نسل رک جائے گی۔ بارہ برس تک بڑی لگن سے مدھیہ گیہ اور ان کی بیوی ویدوتی نے اڑیپی کے مندر میں بھگوان کی پوجا کی اور دعا مانگتے رہے کہ ان کے ایک لڑکا ہو۔ بالآخر دسہرے کے دن ویدوتی نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ مدھیہ گیہ نے اس لڑکے کا نام واسو دیو رکھا۔ آگے چل کر یہی واسو دیو مدھو اچاریہ کے نام سے سارے ہندوستان میں مشہور ہوا۔

واسو دیو کے بچپن کے بہت سے قصے مشہور ہیں۔ ایک واقعہ یوں بتایا جاتا ہے کہ واسو دیو جب پانچ برس کے تھے، تو ایک دن گھر سے کہیں لاپتہ ہو گئے۔ ان کے ماں باپ نے انھیں بہت ڈھونڈا لیکن کچھ پتہ نہ چلا۔ تین دن کے بعد اچانک مدھیہ گیہ کو خبر ملی کہ واسو دیو تو اُڑیپی کے مندر میں ہے۔ دونوں فوراً اُڑیپی پہنچے۔ وہاں بھگوان اننتیشور کے مندر میں مورتی کے سامنے بھگتوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ ننھا واسو دیو لوگوں کو بتا رہا تھا کہ شاستروں کے مطابق بھگوان وشنو کی پوجا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد تو اس بات میں شک ہی نہیں رہ گیا تھا کہ واسو دو کوئی معمولی بچے نہیں بلکہ اوتار تھے۔

اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد وہ گاؤں کی پاٹھ شالا میں پڑھنے کے لیے بھیجے گئے۔ واسو دیو کھیل کود، کُشتی لڑنے، دوڑنے، کودنے پھاندنے اور تیرنے میں سب سے آگے رہتے۔ ان کے ننھے سے جسم میں اتنی طاقت تھی کہ لوگ حیرت کرتے اور اُنہیں پیار سے ”بھیم“ کہہ کر پکارتے تھے۔ واسو دیو کی غیر معمولی طاقت کی وجہ سے شاید انھیں پون سُت کا اوتار کہا جانے لگا اور بعد میں لوگ اس بات میں یقین بھی کرنے لگے۔

لیکن واسو دیو کھیل کود میں جہاں اپنے سے بڑے لڑکوں سے آگے تھے وہاں پڑھائی لکھائی میں بڑے ڈھیلے تھے۔ آخر میں اُستاد نے واسو دیو کو سمجھا بُجھا کر راستے پر لانے کی ساری کوشش چھوڑ دی۔ واسو دیو بھی پاٹھ شالا چھوڑ کر گھر چلے آئے۔ اب واسو دیو نے اپنے آپ ہی پڑھنا شروع کیا اور جلد ہی ویدوں اور شاستروں کا پورا گیان حاصل کر لیا۔ ترک شاستر (منطق) اور گرامر (قواعد) کے تو وہ ماہر تھے۔ پاٹھ شالا چھوڑنے کے بعد سے واسو دیو کا دِل دنیا سے اُچاٹ رہنے لگا۔ اُنہیں گھر بسانے کی کوئی خواہش نہ تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ویدوں، ویدانگوں اور شاستروں کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی ساری زندگی دھرم کے پرچار میں لگائیں۔ پندرہ برس کی عمر میں انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اُنہیں سنیاس لینا چاہیے۔

ترک دنیا[ترمیم]

سنیاس لینے کے لیے گُرو کی ضرورت ہوتی ہے۔ بہت ڈھونڈنے پر ”اچیوت پریکش“ نامی سنیاسی اسے واسو دیو کی ملاقات ہوئی۔ واسو دیو نے اچیوت پریکش کو اپنا گُرو چنا۔ لیکن سنیاس سے پہلے ماں باپ کی اجازت بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ مدھیہ گیہ اور ویدوتی کا ایک ہی لڑکا تھا اور اسے سنیاس لینے کی دُھن سوار تھی۔ اس سے مدھیہ گیہ اور ویدوتی بڑے غمزدہ ہوئے۔ انھوں نے واسو دیو کو یہ کہہ کر سنیاس لینے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا کہ اگر تم نے سنیاس لے لیا تو ہمارے مرنے کے بعد ہمارا انتم سنسکار کیسے ہوگا۔ آخری رسوم نہ ادا ہونے کی وجہ سے ان کی مکتی نہ ہوگی۔ لیکن واسو دیو سنیاس لینے کا عہد کر چکے تھے۔ چنانچہ انھوں نے اپنے والدین کو دلاسا دیا کہ ان کے یہاں ایک اور لڑکے کا جنم ہوگا۔ اس کے کچھ ہی عرصے بعد ویدوتی نے ایک اور بیٹے کو جنم دیا۔ اس کا نام وشنو تیرتھ رکھا گیا۔ جب تک وشنو تیرتھ کا جنم ہو گیا تب تک واسو دیو نے سنیاس ہی نہیں لیا۔ لیکن چھوٹے بھائی کے جنم کے بعد اب کوئی رکاوٹ نہیں رہ گئی چنانچہ انہوں نے سنیاس لیا۔ سنیاسی ہونے کے بعد ہی اُنہیں پورن پراگیہ (پورن بودھ) کا خطاب دیا گیا اور لوگ اُنہیں واسو دیو کی بجائے اسی نام سے پکارنے لگے۔

علما سے اختلاف[ترمیم]

اب پورن پراگیہ اپنے گُرو اچیوت پریکش کے ساتھ مٹھ میں رہنے اور پوجا پاٹھ کا مطالعہ کرنے لگے۔ اچیوت پریکش ویدانت کے بڑے بھاری عالم تھے۔ پورن پراگیہ بھی وید، ویدان اور شاستروں کی گہری جانکاری رکھتے تھے۔ اب انھیں ویدانت کا مطالعہ اور اس پر غور کرنے کا موقع ملا۔ لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد پورن پراگیہ کا گُرو سے اختلاف رہنے لگا۔ اکثر اچیوت پریکش سے ان کی بحث ہو جاتی۔ دھیرے دھیرے پورن پراگیہ کی علمیت اور ذہانت نکھرنے لگی۔ آس پاس ان کی قابلیت اور علمیت کی شہرت پھیلنے لگی۔ ابتدا میں اچیوت پریکش پورن پراگیہ کے جواب سے متفق نہیں ہوتے تھے۔ لیکن وہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو گئے کہ پورن پراگیہ کے سوچنے کا طریقہ بالکل نیا اور انوکھا ہے اور ان کے جوابوں میں بڑی جان ہے۔ اچیوت پریکش نے انھیں مٹھ (ہندو خانقاہ) کا نگران اعلیٰ بنایا۔ اس طرح پورن پراگیہ اننتیشور کے مندر کے مٹھ کی سب سے اونچی گدی پر بیٹھے۔ مٹھ کے نگران اعلیٰ کے ساتھ ہی اُن کا نام پورن پراگیہ سے بدل کر آنند تیرتھ یا مدھو اچاریہ رکھ دیا گیا۔ بعد میں ان کا نام مدھواچاریہ ہی سب سے زیادہ مشہور ہوا۔

شنکر اچاریہ کا کہنا تھا کہ سنسار میں ایک ایشور کو چھوڑ کر اور جو کچھ بھی ہم دیکھتے ہیں وہ سب جھوٹ ہے، مایا کا کھیل ہے۔ ایشور کو صرف گیان کے ذریعے ہی سمجھا اور پایا جا سکتا ہے۔ مدھو اچاریہ کو شنکر اچاریہ کی یہ بات درست معلوم نہیں ہوئی۔ اُنہیں یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ شنکر اچاریہ کے شاگرد عوام کو صحیح راستے پر نہیں لے جا رہے ہیں۔ انھوں نے دل ہی دل میں طے کیا کہ دیش بھر گھوم گھوم کر لوگوں کو میں دھرم اور ایشور کے بارے میں اپنا مت بناؤں گا۔ اسی ارادے سے مدھو اچاریہ سارے ملک میں کے سفر کے لیے چل پڑے۔

تبلیغ[ترمیم]

تبلیغ کے لیے وہ سب سے پہلے وہ دکھن بھارت گئے۔ ان کے ساتھ اچیوت پریکش اور کُچھ شاگرد بھی تھے۔ اس زمانے میں دکھن بھارت کئی چھوٹی چھوٹی سلطنتوں میں بٹا تھا۔ اکثر آپس میں ان کی لڑائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ لیکن ان سلطنتوں کے راجا عالموں کی بڑی قدر کرتے تھے۔ بھری سبھا میں جو عالم دوسرے مت یا عقیدے کے عالم کو شاستر کے معنی و مطلب بتانے میں ہرا دیتا تھا، اس کے مت یا عقیدے کو راجا اور اس کی پرجا مان لیتے تھے۔ سب سے پہلے مدھو اچاریہ منگلور پہنچے۔ یہاں انھوں نے اپنے مخالفوں کو مذہبی بحث (مناظرہ) میں بڑی آسانی سے ہرا دیا۔ منگلور سے آگے بڑھ کر وہ تروونکور پہنچے۔ تروونکور کے راجا نے ان کی بڑی عزت کی۔ اور اُنہیں دربار میں آ کر شاستر کے معنی و مطالب بتانے کے لیے مدعو کیا مدھو اچاریہ تو اسی کام کے لیے نکلے تھے، انھوں نے راجا کو کی بات منظور کر لی۔ اسی وقت شرنگیری مٹھ کے نگران اعلیٰ ودیا شنکر بھی تروونکور آ پہنچے۔ شرنگیری کا مٹھ ان چار مٹھوں میں سے ایک تھا۔ جسے شنکر اچاریہ نے خود قائم کیا تھا۔ تروونکور کے سامنے راجا کے دربار میں مدھو اچاریہ کی جیت ہوئی۔ اس کے بعد مدھو اچاریہ اپنے چیلوں کے ساتھ رامیشورم پہنچے۔ یہاں بھی اپنے مخالفوں کو ہرانے کے بعد وہ شری نگم گئے اور شری نگم سے اڑیپی لوٹ آئے۔
مدھو اچاریہ کے اس دورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ دکھن بھارت میں ان کی جیت کا ڈنکا بجنے لگا۔ لیکن شنکر اچاریہ کو اپنی ہار بہت کھلی۔ وہ مدھو اچاریہ کے دشمن بن گئے۔ انھوں نے جہاں تہاں مدھو اچاریہ اور ان کے چیلوں کو ستانا شروع کر دیا۔ لیکن اس سے مدھو اچاریہ جُھکے نہیں۔ اڑیپی لوٹ کر مدھو چاریہ نے بھگوت گیتا کی شرح لکھی اور ویدانت سوتروں کی وضاحت کا کام ہاتھ میں لیا۔ اس طرح کئی برس اڑیپی میں ٹھہرے رہنے کے بعد مدھو اچاریہ نے اتر بھارت کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اُتر بھارت میں اس زمانے میں مسلمانوں کا کافی زور تھا۔ کئی بار مدھو اچاریہ کو مسلمان سرداروں کی جاگیروں اور علاقوں سے ہو کر گزرنا پڑا۔ وہ مسلمان سرداروں سے فارسی میں بات کر کے انھیں متاثر کر دیتے تھے۔ اُنہیں مسلمانوں کے ہاتھوں کبھی بھی کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچا۔ مدھو اچاریہ کا کہنا تھا کہ کسی انسان کے دل میں جگہ بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس سے اسی کی بھاشا میں بات چیت کی جائے۔
اُتر بھارت میں مختلف علاقوں کا کا دورہ کرتے ہوئے مدھو اچاریہ آخیر میں مدھو اچاریہ ہردوار پہنچے۔ یہاں انھوں نے کئی دنوں تک اپاسی اور دھیان کیا۔ اسی بیچ وہ کچھ دنوں کے لیے ہمالیہ کی غار میں چلے گئے۔ کئی دنوں تک اکیلے رہنے کے بعد وہ ہردوار لوٹ آئے۔ اور انھوں نے پہلی بار اعلان کیا کہ بھگوان وشنو کی پوجا ہی ایشور کی سچی پوجا ہے۔ یہیں انھوں نے ویدانت سوتر کی اپنی شرح شائع کی۔ آج بھی ان کی شرح اپنے ڈھنگ کی انوکھی کتاب مانی جاتی ہے۔ ہردوار سے انھوں نے اپنا دورہ شروع کیا۔ اب جہاں کہیں بھی وہ گئے انھوں نے بھگوان وشنو کی ہی پوجا کرنے کا اپدیش دیا۔ اتر بھارت سے وہ لوٹتے وقت کلیان (حیدرآباد) میں کچھ دن ٹھہرے۔ کلیان دنوں چاکولیہ سامراجیہ کی راجدھانی تھی اور وہاں بڑے بڑے عالم رہتے تھے۔ کلیان میں مدھو اچاریہ کا ”شوبھن بھٹ“ نامی ایک نہایت مشہور عالم سے شاستر کے معنی و مطالب کے بارے میں مباحثہ ہوا۔ شوبھن بھٹ اس میں ہار گئے۔ اس کا بڑا زبردست پڑا ہے۔ شوبھن بھٹ کے ساتھ ہی ہزاروں افراد نے ویشنو مت قبول کر لیا۔ کلیان سے روانہ ہونے سے پہلے مدھو اچاریہ نے شوبھن بھٹ کو وہاں کے اپنے مٹھ کا پردھان مقرر کیا۔
اڑیپی لوٹ کر مدھو اچاریہ نے اپنے گرو اچیوت پریکش کو بھی ویشنو دھرم کی تعلیم دی اور اپنا شاگرد بنا لیا۔ اس زمانہ میں شیو یا دیوی کے مندروں کے میں جانوروں کی قربانی ہوتی تھی۔ مدھو اچاریہ نے جانوروں کی قربانی کی شدید مخالفت کی۔

سازشیں[ترمیم]

اُڑیپی کے نزدیک ہی شرنگیری کا مٹھ تھا۔ مدھو اچاریہ کا بڑھتا ہوا اثر شرنگیری مٹھ کے مہنت کو بُرا لگا۔ دکھن بھارت کے کئی راجا شنکر اچاریہ کے معتقد تھے۔ اس طرح اس مہنت کو راجاؤں کی مدد بھی حاصل تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مدھو اچاریہ اور ان کے مت کو ماننے والوں کے خلاف طرح طرح کے مظالم کیے جانے لگے۔ مٹھ کا بڑا مہنت پدم تیرتھ جانتا تھا کہ اگر مدھو اچاریہ کو اپنے خیالات پھیلانے کا موقع ملا تو کچھ ہی دنوں میں ساری عوام ویشنوی ہو جائے گی اور پھر اسے کوئی پوچھے گا نہیں اسی لیے اس نے مدھو اچاریہ سے بدلنا لینے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے اس نے اپنے پیروؤں کو اکھٹا کیا اور ان سے کہا کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں سب جگہ گھومیں اور ویشنویوں کو ہر طرح سے ستائیں۔
ادھر تو مہنت پدم تیرتھ نے ویشنو مت کے مبلغوں کو روکنے کا یہ انتظام کیا اور ادھر اس نے مدھو اچاریہ کے کتب خانے کو تباہ کرنے کی اسکیم بنائی۔ اس نے سوچا کہ اگر مدھو اچاریہ کے کتب خانے کو تباہ کر دیا جائے تو اس سے ویشنو مت کے پرچار میں بہت بڑی رکاوٹ پڑے گی۔ مہنت پدم تیرتھ کے کچھ آدمی چپ چاپ مدھو اچاریہ کی کُٹیا میں پہنچے اور وہاں سے بہت سی کتابیں اٹھا کر بھاگ گئے۔ یہ کتابیں انھوں نے یہ سوچ کر زمین میں دفن کر دیں کہ انھیں کوئی کھوج نہ سکے گا۔ خوش قسمتی سے کمبلا کے راجا جے سنگھ چالوکیہ کو مدھو اچاریہ سے بڑی عقیدت تھی۔ جب مدھو اچاریہ نے راجا جے سنگھ سے مدد مانگی تو ان کے آدمیوں نے چوروں کا پتہ لگا لیا۔ اس طرح مدھو اچاریہ کی کتابیں واپس مل گئیں۔

شہرت[ترمیم]

مدھو اچاریہ نے جن عالموں کو شاستر ارتھ میں ہرا کر اپنے فرقے میں شامل کیا تھا ان میں پنڈت تری وکرم کا نام سب سے اہم ہے۔ پنڈت تری وکرم شنکر اچاریہ کے معتقد تھے۔ لیکن انھیں شنکر اچاریہ کے عقیدت سے کچھ بے اطمینانی ہو چلی تھی۔ مدھو اچاریہ نے آٹھ دن کے شاستر ارتھ کے بعد پنڈت تری وکرم کو شکست دی تھی اور اُنہیں اپنے فرقے میں شامل کر لیا تھا۔ تری وکرم کے ویشنو مت میں شامل ہونے کی خبر سن کر دور دور کے بہت سے لوگ اپنے آپ ہی ویشنوی ہونے لگے۔
جس وقت مدھو اچاریہ جے سنگھ کے سلطنت میں گھوم رہے تھے، لگ بھگ اُن ہی دنوں ان کے ماں باپ کی موت ہو گئی۔ انھوں نے مدھو اچاریہ کا نام اور شہرت پھیلتے دیکھ لیا تھا۔ انھیں اپنے بیٹے پر فخر تھا۔

آخری ایام[ترمیم]

اپنی زندگی کا آخری وقت مدھو اچاریہ نے کماردھارا اور نیتروتی نامی ندیوں کے دوآب میں بڑے اطمینان سے کتاب لکھنے میں گزارا۔ یہیں بیٹھے بیٹھے وہ چیلوں کو دھرم کا پرچار کرنے اور مخالفوں کو شاستر ارتھ میں شکست دینے کے لیے بھیجتے رہتے تھے۔ مدھو اچاریہ نے کئی مٹھ قائم کیے۔ موت سے پہلے مدھو اچاریہ نے اپنے لائق شاگرد پدانام تیرتھ کو دھرم پرچار کا بھار سونپ دیا اور اُڑیپی کے کرشن مندر کی دیکھ بال کے لیے آٹھ خاص چیلوں کی مجلس بنادی۔ بارہویں صدی کے اختتام یا تیرہویں صدی کی شروعات میں انھوں نے بڑے اطمینان اور سکون سے دھیان (مراقبہ) کرتے ہوئے سفر آخرت کیا۔

نظریات[ترمیم]

مدھو اچاریہ بھی رامانج کی طرح بہت بڑے اچاریہ ہوئے ہیں۔ جیو آتما یعنی جاندار مخلوق اور پرماتما کا تعلق، مدھو اچاریہ کے مطابق آقا اور خادم کا تعلق ہے۔ ویشنو کی عبادت سے جیو آتما میں بہت سی ایسی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں جو ایشور میں ہیں۔ لیکن وہ کبھی ایشور کے جیسا نہیں ہو سکتا۔ مدھو اچاریہ کا بھی ایک فرقہ بن گیا۔

پیروکار[ترمیم]

ان کے پیرو گوپی کا تلک لگاتے ہیں۔ لیکن بیچ کی لکیر کالی ہوتی ہے جس کے بیچ میں لال نقطہ بنا ہوتا ہے۔ جسم کے مختلف حصوں میں وہ چکر کا نشان بناتے ہیں۔ کرناٹک میں اس مت کے ماننے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

مدھو اچاریہ نے 37 کتابیں لکھیں جن میں دو ممتاز ہیں۔ برہم سوتروں کی تشریح اور اُپنشدوں کی تفسیر۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • ہندوستان کی نامور شخصیات حصہ دوم (ہندی کتاب ”بھارت کے گورو حصہ دوم“ سے ترجمہ شدہ)، پبلیکیشنز ڈویژن، منسٹر آف انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ گورنمنٹ آف انڈیا، ”مدھو اچاریہ“ مصنف نریش نارائن تیواری، صفحہ 43-50

بیرونی روابط[ترمیم]