مروہ الشربینی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مروہ الشربینی
(عربی میں: مروة الشربيني خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
مروہ الشربینی

معلومات شخصیت
پیدائش 7 اکتوبر 1977(1977-10-07)
اسکندریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 جولائی 2009(2009-70-10) (عمر  31 سال)
ڈریسڈن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات تیز دھار ہتھیار کا وار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
قومیت مصر
مذہب اسلام
شوہر علوی علی عکاظ
اولاد مصطفی
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ اسکندریہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فارماسسٹ
کھیل ہینڈبال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کھیل (P641) ویکی ڈیٹا پر

مروہ الشربینی، مصری خاتون (1977–2009)، جسے ایک روسی نژاد نسل پرست نے جرمنی کی بھری عدالت میں اٹھارہ دفعہ چھری کے وار کر کے قتل کر دیا۔ جرمنی کی پولیس منہ دیکھتی رہی، جب مروہ کا خاوند اسے بچانے کے لیے آگے بڑھا تو پولیس نے خاوند کو گولی مار دی۔ مروہ کے تین سالہ بیٹے نے یہ تمام منظر دیکھا۔ واقعات کے مطابق روسی ایلکس نے مروہ کو "دہشت گرد" کہا تھا اور دشنام طرازی کی تھی جب وہ اپنے بچے کے ساتھ پارک میں تھی۔ مروہ کی شکایت پر ایلکس کو جرمانہ کیا گیا اور دونوں کا آمنا سامنا عدالت میں اسی مقدمہ میں ہوا۔ مصر میں اس نسل پرستی کے واقعہ پر شدید رد عمل ہوا ہے جبکہ جرمنی نے اسے ایک عام واقعہ گردانا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. گارجین، 7 جولائی 2009، "The headscarf martyr: murder in German court sparks Egyptian fury"