مشت زنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مشت زنی مگر يہ نام غلط ہے کیوں کے یہ کام زنا کے تعریف میں نہیں آتا مٹھی مارنا، استمناء بالید، یہ نام زیادہ صحیح ہیں، (انگریزی:mastrubation) ایک انسانی شہوتی (sexual) عمل ہوتا ہے جس میں ایک مرد یا عورت بغیر کسی دوسرے انسان کےاپنی شرمگاہ کو ہاتھ ،انگلیاں یا کسی اور چیز کی مدد سے متحرک رکھے اور جس میں انسان کے شرمگاہ سے منی نکل آئے۔ اس کا ارتکاب انسان عام طور پر اس وقت کرتا ہے جب وہ اپنی شہوت کے دباؤ کو نہ سنبھال سکے۔

مذاہب میں حلت و حرمت[ترمیم]

اسلام[ترمیم]

مگر بعض فرقے اور علماء اسے حرام اور بعض مکروہ کہتے ہے۔حوالہ درکار؟ اس عمل کا قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہے۔ مگر اس آیت میں اشارہ ہے۔ فَمَنِ ابْتَغٰى وَرَاۗءَ ذٰلِكَ فَاُولٰئكَ ہُمُ الْعٰدُوْنَ(المعارج:31) سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔ بغوی نے اس آیت سے مشت زنی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ دوسرے کچھ علماء کا بھی یہی قول ہے کہ (مشت زنی حرام ہے) ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ مشت زنی مکروہ ہے۔ عطاء نے یہ بھی فرمایا : میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے‘ میرا خیال ہے کہ یہ مشت زنی کرنے والے ہوں گے۔ سعید بن جبیر] نے فرمایا : ایک گروہ کو اللہ عذاب دے گا کیونکہ وہ اپنی شرمگاہوں سے کھیلتے ہوں گے‘ میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں حضرت انس (رض) کی روایت کردہ ایک حدیث بھی آئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنے ہاتھ سے نکاح کیا‘ وہ ملعون ہے۔ ازدی نے یہ حدیث الضعفاء میں نقل کی ہے اور ابن جوزی نے اپنے مشہور جزئیہ میں حسن بن عرفہ کی اسناد سے ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ سات شخص ہیں جن کی طرف اللہ نظر (رحمت) نہ فرمائے گا‘ ان میں ایک مشت زن کو قرار دیا ہے مگر اس روایت کی اسناد کمزور ہے۔[1] یہ فعل ناپاک حرام و ناجائزہے حدیث شریف میں ہے ناکح الید ملعون جلق لگانے والے (مشت زنی کرنے والے ) پراللہ تعالی کی لعنت ہے[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر مظہری،قاضی ثناء اللہ پانی پتی، سورہ المعارج آیت نمبر31
  2. ^ (کشف الخفاء ،حرف النون،ج۲،ص۲۹۱)