مشت زنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مشت زنی کو عربی میں جلق( ہاتھ کی مدد سے منی خارج کرنا، مشت زنی، ہتلس، مٹھولے لگانا)[1] یا استمناء بالید( جلق، ہتھ رس) کہتے ہیں جبکہمٹھی مارنا، اردو میں مستعمل ہے، (انگریزی:mastrubation) ایک انسانی شہوتی (sexual) عمل ہوتا ہے جس میں ایک مرد یا عورت بغیر کسی دوسرے انسان کےاپنی شرمگاہ کو ہاتھ ،انگلیاں یا کسی اور چیز کی مدد سے متحرک رکھے اور جس میں انسان کے شرمگاہ سے منی نکل آئے۔ اس کا ارتکاب انسان عام طور پر اس وقت کرتا ہے جب وہ اپنی شہوت کے دباؤ کو نہ سنبھال سکے۔

مذاہب میں حلت و حرمت[ترمیم]

اسلام[ترمیم]

اس عمل کا قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ ذکر نہیں ہے۔ مگر اس آیت میں اشارہ ہے۔

[2][3]
سو جو ان کے علاوہ طلب کرے تو وہی لوگ حد سے گزرنے والے ہیں۔
اس آیت کے تحت علامہ نسفی لکھتے ہیں۔
اس میں متعہ اور استمناء بالکف کی حرمت ثابت ہو رہی ہے کیونکہ یہ دونوں بارادئہ قضائے شہوت کیلئے کئے جاتے ہیں۔[4]
اور علامہ جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں۔
یعنی منکوحہ بیوی یا شرعی باندی سے شرعی قاعدے سے قضاء شہوت کرنے کے علاوہ کوئی صورت حلال نہیں ہے اس میں زنا بھی داخل ہے اور جو عورت اس پر شرعاً حرام ہے اس سے نکاح بھی بحکم زنا ہے، اسی طرح متعہ نیز اپنی بیوی سے حالت حیض و نفاس میں یا غیر فطری طور پر جماع کرنا بھی اس میں داخل ہے یعنی کسی مرد یا جانور سے شہوت پوری کرنا بھی اور جمہور کے نزدیک استمناء بالید بھی (بیان القرآن، قرطبی بحوالہ معارف)[5]
علامہ نعیم الدین مراد آبادی فرماتے ہیں۔
مسئلہ : اس آیت سے متعہ، لواطت، جانوروں کے ساتھ قضاء شہوت اور ہاتھ سے استمناء کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔[6]

تفسیر مظہری میں ہے۔
بغوی نے اس آیت سے مشت زنی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔ دوسرے کچھ علماء کا بھی یہی قول ہے کہ (مشت زنی حرام ہے) ابن جریج نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ مشت زنی مکروہ ہے۔ عطاء نے یہ بھی فرمایا : میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگوں کا حشر ایسی حالت میں ہوگا کہ ان کے ہاتھ حاملہ ہوں گے‘ میرا خیال ہے کہ یہ مشت زنی کرنے والے ہوں گے۔ سعید بن جبیر] نے فرمایا : ایک گروہ کو اللہ عذاب دے گا کیونکہ وہ اپنی شرمگاہوں سے کھیلتے ہوں گے‘ میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں حضرت انس (رض) کی روایت کردہ ایک حدیث بھی آئی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنے ہاتھ سے نکاح کیا‘ وہ ملعون ہے۔ ازدی نے یہ حدیث الضعفاء میں نقل کی ہے اور ابن جوزی نے اپنے مشہور جزئیہ میں حسن بن عرفہ کی اسناد سے ان الفاظ میں روایت کی ہے کہ سات شخص ہیں جن کی طرف اللہ نظر (رحمت) نہ فرمائے گا‘ ان میں ایک مشت زن کو قرار دیا ہے مگر اس روایت کی اسناد کمزور ہے۔[7]
اسی درج بالاآیت(المعارج:31) کے تحت مولانا عبدالرحمن کیلانی لکھتے ہیں
اس آیت میں اسی بے لگام آزادی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور اس میں زنا، لواطت یا لونڈے بازی، عورتوں کی ہم جنسی، جلق یا مشت زنی غرضیکہ شہوت رانی کی جتنی بھی صورت مندرجہ بالا دو صورتوں کے علاوہ ممکن ہیں سب ناجائز قرار پاتی ہیں۔[8]

مشت زنی حرام ہے[ترمیم]

الاستمناء بالید امام مالک (رح) اور شافعی (رح) نیز ابو حنیفہ (رح) کے نزدیک استمناء بالید حرام ہے امام احمد بن حنبل (رح) نے فرمایا کہ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے (1) زنا میں مبتلا ہونے کے اندیشہ کے پیش نظر (2) مہر ادا کرنے یا باندی خریدنے کی استطاعت نہ رکھنے کی صورت میں (3) یہ اپنے ہاتھ سے ہو نہ کہ اجنبی یا اجنبیہ کے ہاتھ سے، (حاشیہ جلالین)۔[9]
امام احمد حنبل بھی شرائط کے باوجود اسے حرام قرار دیتے ہیں‎

[10]اگرکسی نے مشت زنی کی تو اس نے حرام فعل کا ارتکاب کیا۔
یہ فعل ناپاک حرام و ناجائزہے حدیث شریف میں ہے ناکح الید ملعون جلق لگانے والے (مشت زنی کرنے والے ) پراللہ تعالی کی لعنت ہے[11] مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عم سے استمناء کے متعلق سوال کیا گیا انہوں نے کہا وہ شخص اپنے نفس سے زنا کرنے والا ہے۔ [12] آخر میں فتاوی رضویہ کا فتوی ملاحظہ فرمائیں
سوال۔:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ کہ زلخ لگانے کا اللہ پاک کیا گناہ فرماتاہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب۔:یہ فعل ناپاک حرام وناجائز ہے اللہ جل وعلا نے اس حاجت کے پورا کرنے کو صرف زوجہ و کنیز شرعی بتائی ہیں اور صاف ارشاد فرمادیا ہے کہ : ‎

( القرآن الکریم)۔ جو اس کے سو ااور کوئی طریقہ ڈھونڈھے توو ہی لوگ ہیں حد سے بڑھنے والے۔
حدیث میں ہے : ناکح الید ملعون (الحدیقہ الندیہ ،الاسرار المرفوعۃ فی اخبار الموضوعۃ )جلق لگانے والے پر اللہ تعالٰی کی لعنت ہے۔
ہاں اگر کوئی شخص جوان تیز خواہش ہو کہ نہ زوجہ رکھتاہو نہ شرعی کنیز اور جوش شہوت سخت مجبور کرے اوراس وقت کسی کام میں مشغول ہوجانے یا مردوں کے پاس جابیٹھنے سے بھی دل نہ بٹے غرض کسی طرح وہ جوش کم نہ ہو یہاں تک کہ یقین یاظن غالب ہوجائے کہ اس وقت اگر یہ فعل نہیں کرتا تو حرام میں گرفتار ہوجائے گا تو ایسی حالت میں زنا ولواطت سے بچنے کے لئے صرف بغرض تسکین شہوت نہ کہ بقصد تحصیل لذت و قضائے شہوت اگر یہ فعل واقع ہو تو امید کی جاتی ہےکہ اللہ تعالٰی مواخذہ نہ فرمائے گا۔ پھر اس کے ساتھ ہی واجب ہے کہ اگر قدرت رکھتا ہو فورا نکاح یا خریداری کنیز شرعی کی فکر کرے ورنہ سخت گنہ گار ومستحق لعنت ہوگا۔ یہ اجازت اس لئے نہ تھی کہ اس فعل ناپاک کی عادت ڈال لے اور بجائے طریقہ پسندیدہ خدا ورسول اسی پر قناعت کرے۔
طریقہ محمدیہ میں ہے :‎

(الطریقہ محمدیہ،الحدیقہ الندیہ ) اھ مزیدا من شرحھا الحدیقۃ الندیۃ۔ مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے : (۱) مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو (۲) شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء یالونڈے بازی وغیرہ کا اندیشہ ہو (۳) تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے محض تکسین شہوت مقصود ہو نہ کہ حصول لذت۔ طریقہ محمدیہ کی عبارت مکمل ہوگئی جس میں اس کی شرح حدیقہ ندیہ سے کچھ اضافہ بھی شامل ہے۔
تنویر الابصار میں ہے :‎

(درمختارشرح تنویر الابصار)۔ غلبہ شہوت کے وقت نکاح کرنا واجب ہے۔
ردالمحتارمیں ہے :‎

(ردالمحتارکتاب النکاح)واﷲ تعالٰی اعلم۔ میں کہتاہوں اور اسی طرح کچھ ظاہر ہوتاہے کہ اگر حالت ایسی ہوکہ یہ اپنے آپ کو نظر حرام اور مشت زنی سے نہ روک سکے تو شادی کرنا واجب ہے۔ اگر چہ زناء میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ اللہ تعالٰی ہی بڑا عالم ہے۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php
  2. ^ المومنون:7
  3. ^ المعارج:31
  4. ^ تفسیر مدارک التنزیل ۔ ابوالبرکات عبداللہ بن احمد محمد بن محمود النسفی سورہ المومنون،آیت7
  5. ^ تفسیر جلالین۔ جلال الدین سیوطی،سورۃ المومنون،آیت7
  6. ^ تفسیر خزائن العرفان علامہ نعیم الدین مراد آبادی
  7. ^ تفسیر مظہری،قاضی ثناء اللہ پانی پتی، سورہ المعارج آیت نمبر31
  8. ^ تفسیر تیسیر القرآن مولانا عبدالرحمن کیلانی ،المعارج ،31
  9. ^ تفسیر جلالین۔ جلال الدین سیوطی،سورۃ المومنون،آیت7
  10. ^ المغني لابن قدامۃ المؤلف: أبو محمد موفق الدين الحنبلي، الشهير بابن قدامة المقدسي ، الناشر: مكتبة القاهرة
  11. ^ (کشف الخفاء ،حرف النون،ج۲،ص۲۹۱)
  12. ^ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : 13587)
  13. ^ فتاوی رضویہ،احمد رضا خان،جلد 22،صفحہ 202،203