مظہر عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظہر عباس
معلومات شخصیت
پیدائش 6 جولا‎ئی 1958 (61 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مظہر عباس ایک پاکستانی صحافی ہیں۔ وہ اے آر وائی نیوز کے نائب ناظم اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے معتمد عمومی ہیں۔ وہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل اطہر عباس کے بھائی ہیں۔[1]

عباس، جوتقریبًا تیس سال تک صحافی کے طور پر کام کرتے رہے، اپنے کام کی وجہ سے کئی دھمکیوں کے گھیرے میں رہے۔ تین آزاد ٹی وی چیانلوں کی مسدودی کے معاملے کو طشت از بام کرنے کے بعد جو پرویز مشرف کے خلاف عوامی احتجاج کو پوری طرح سے منظرکشی کر رہے تھے، عباس کو پولیس کے الزامات کا 2007 میں سامنا کرنا پڑا۔ اسی سال مئی میں وہ اور دیگر دو صحافی اپنی کاروں پر گولیوں سے بھرے سفید لفافے دستیاب ہوئے۔[1]

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مظہر کی پیدائش 6 جولائی 1958 کو ہوئی تھی۔ انہوں نے انٹرمیڈیٹ لطیف آباد، حیدرآباد کے گورنمنٹ کالج سے کیا۔ اس کے بعد انہوں نے صحافت میں اعلٰی تعلیم کراچی یونیورسٹی سے حاصل کی۔

عملی زندگی[ترمیم]

مظہر نے کراچی یونیورسٹی کے اپنے زمانہ طالب علمی ہی سے لکھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے اس وقت نوائے وقت کے لیے لکھا۔ فارغ التحصیل ہونے کے بعد انہوں نے دی اسٹار کے لیے کام کیا جو کراچی کا ایک مشہور شام کا اخبار تھا۔

بعد میں انہوں نے ایک امریکی رسالے کے لیے دس سال کام کیا اور اخبار ڈان کے لیے بھی لکھا۔ اس کے بعد انہوں نے آؤٹ لُک انڈیا کے لیے کام کیا جو بھارت کا ایک اخبار ہے۔ وہ اے ایف پی بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے بیورو کے صدر بھی بنے۔

1992 میں وہ پاکستان ٹیلی ویژن سے جڑ گئے مگر طباعتی ذرائع کا کام جاری رکھا۔ 2002 میں انہوں نے اے آر وائی کے تبصراتی پروگراموں کی میزبانی کرنے لگے اور اسی سال انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل ساؤتھ ایشیا بیورو کے صدر ڈانیل پرل کے اغوا اور قتل کو اے ایف پی کے کرسپانڈنٹ کے طور پر دنیا کے آگے پیش کیا۔ 2007 میں وہ اے آر وائی ون ورلڈ سے ہمہ وقت جڑے جو اب اے آر وائی نیوز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ نائب ناظم بن گئے۔ انہوں نے ”اسپاٹ لائٹ” کے نام سے ہم ٹی وی پر ایک شو کی میزبانی کی۔ اس کے بعد وہ اے آر وائی کے لیے ایک ہفتہ وار شو دو ٹوک کیے جس میں انہوں نے ملک کی فوجی شخصیات کا انٹرویو لیا۔ بعد میں وہ ایکسپریس نیوز میں حالات حاضرہ کے ناظم بنے۔

2009 میں انہیں اعزازی میسوری میڈل (Missouri Medal of Honor) ان کی صحافت کے شعبے میں خدمات کے اعتراف دیا گیا تھا۔ وہ ان پانچ صحافیوں سے ایک تھے جنہیں بین الاقوامی آزادی صحافت انعام (International Press Freedom Award) سال 2007 میں دیا گیا تھا۔ یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے صحافت کی آزادی کو حملوں، دھمکیوں اور قیدوبند کی صورت میں بھی برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ 2010 میں انہیں ایک انعام پاکستان کی انسانی حقوق سوسائٹی کی جانب سے آزادی صحافت کی کوششوں کے لیے دیا گیا۔ 35 سالہ صحافت کے دوران انہوں نے 5000 مضامین لکھے اور 400 ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔

موجودہ کام[ترمیم]

مظہر مختلف چیانلوں پر تجربہ کار تجزیہ نگار کا کردار نبھا رہے ہیں۔

شخصی زندگی[ترمیم]

مظہر کے تین بھائی ہیں: ظفر عباس جو ڈان کے ایک مدیر ہیں، میجر جنرل اطہر عباس جو سابق ڈی جی آئی ایس پی آر ہیں اور اظہر عباس جو جیو نیوز کے سابق صدر رہے ہیں۔

مظہر شادی شدہ ہیں اور ان کی تین بیٹیاں ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب "Mazhar Abbas - TV journalist, Pakistan - Awards - Committee to Protect Journalists"۔ Cpj.org۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-02-02۔