موت کی کتاب (ناول)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موت کی کتاب
Mout ki ktab.JPG
مصنف خالد جاوید
مصور سرورق دانش فراز
ملک بھارت
زبان اردو
صنف نثر
ناشر عریشہ پبلیکیشنز، دہلیشہر زاد، کراچی
تاریخ اشاعت
2011ء
طرز طباعت ہارڈ بائنڈ
صفحات 126

موت کی کتاب ایک ناول ہے، جو بھارتی ناول نگار خالد جاوید نے لکھا ہے۔ اس میں ایک حد درجہ مصیبت زدہ انسان کی کہانی ہے، جو آخر تک درد اور تکلیف سہتا ہے، مگر خودکشی کا خیال بار بار آنے اور اس پر قادر ہونے کے باوجود وہ اپنی زندگی کا خاتمہ خود نہيں کرتا۔ ناول کو ادبی حلقوں کی طرف سے کافی سراہا گيا ہے۔

مصنف[ترمیم]

خالد جاوید 1963ء کو اترپردیش کے شہر بریلی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے فلسفہ، سائنس اور اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ کئی سال تک روہیل کھنڈ یونیورسٹی میں فلسفہ پڑھایا۔ آج کل وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی کے شعبۂ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔

خالد جاوید کی کہانیوں کے دو مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ "برے موسم میں" 2000ء میں شائع ہوا تھا اور "آخری دعوت" 2007ء میں پنگوئن پبلی کیشنز، دہلی سے چھپ کر منظر عام پر آیا۔ ان کی کہانیوں کے ترجمے ہندی اور دیگر علاقائی زبانوں کے علاوہ انگریزی، جرمن اور فرانسیسی میں بھی ہوئے ہیں۔ کہانیوں کے علاوہ خالد جاوید کے مضامین کا ایک مجموعہ بعنوان "کہانی، موت اور آخری بدیسی زبان" بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ کرناٹک اردو اکیڈمی سے ان کی کتاب "مارکیز، فن اور شخصیت" اور ابھی کچھ دنوں پہلے ہی عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی سے "میلان کنڈیرا" چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہے۔[1]

پلاٹ[ترمیم]

ناول کے مرکزی کردارمیں بے خوابی، وحشت، جنون، جنسیت، مرگی، آتشک اور جذام اور دیوانگی تک سب جمع ہیں۔ اس کی ماں میراثن ہے، باپ زمیں دار خاندان کا شہوت پرست، جسے شادی کے بعد گھر سے الگ رہنا پڑ رہا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اس کا بیٹا اس کی بیوی کے ایک بھگوڑے فوجی سے ناجائز تعلقات کا نتیجہ ہے۔
مرکزی کردار کو پہلی بار سرعام تشدد کا نشانہ اس وقت بنایا گیا جب اسے اپنی چھت سے، قدرے بڑی عمر کی لڑکی کو جنسی اشارے کرتے دیکھا گیا۔ بچپن ہی سے باپ بیٹا نفرت کی زنجیر سے بندھے ہیں، بیٹا باپ کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ ان حالات میں ایک جھگڑے کے بعد ماں غائب ہو جاتی ہے، بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ تبدیل ہوتا ہے لیکن زیادہ نہیں۔ جب بیماریاں اور بد فعلیاں بہت بڑھیں تو دوا دارو اور گنڈے تعویزوں کے بعد حل کے طور پر شادی کر دی گئی، جب کوئی چیز نہیں بدلی تو پاگل خانے پہنچا دیا گیا جہاں بجلی کے جھٹکوں سے علاج ہوا۔ اس کے بعد ہی اس پر پیدائش سے پہلے کا وہ منظر منکشف ہوتا ہے جو تب کا ہے جب اسے ماں کی کوکھ میں آٹھواں مہینا تھا اور اس کے باپ نے جبراً جنسی آسودگی حاصل کی تھی۔
مرکزی کردار خود کشی کا ذکر بہت کرتا ہے لیکن شروع سے آخر تک خود کشی نہیں ہوتی، وہ باپ کو قتل کرنے کی بات بچپن ہی سے شروع کرتا ہے اور اسے ایک بار قتل بھی کرتا ہے لیکن خیال میں۔ وہ اپنی ماں کو آخری بار فوجیوں کے قبرستان میں دیکھتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس کا رویہ باپ سے تبدیل نہیں ہوتا۔[2][3]

تنقید و تبصرہ[ترمیم]

موت کی کتاب پر سہ ماہی اثبات کا خاص شمارہ

ناول شائع ہوتے ہی مختلف ادبی شخصیات و مجلات نے اس پر تبصرے کیے۔ اب تک جن قابل ذکر شخصیات نے ناول پر رائے دی ہے ان میں شمس الرحمٰن فاروقی، سلیم شہزاد، رضوان الحق، صدیق عالم، آصف فرخی، سہ ماہی اثبات اور بی بی سی اردو وغیرہ شامل ہیں۔ شمیم حنفی نے اس ناول کو اردو زبان کے غیر معمولی کارنامے سے تعبیر کیا۔[4]شمس الرحمٰن فاروقی نے ناول کے کردار کی زندگی کو کتاب ایوب میں حضرت ایوب کی اذیت و تکلیف سے مماثل ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔[5] آصف فرخی: خودکشی کو جوتے میں ڈال کر چل پڑنے والی اس کہانی میں امید یا ایسے ہی کسی اور فریب سے عاری، اذیت کے سبب ہوش و دیوانگی کی سرحد سے دور یہ وژن خالد جاوید کی نادرہ کاری کی جوہر ہے۔ اور یہ جوہر انہیں معاصر اردو افسانے میں ایک بالکل ہی منفرد انداز کا حامل بنا دیتا ہے جس کے موجد بھی وہ نظر آتے ہیں اور خاتم بھی۔[6] اقبال مجید نے لکھا:ان اوراق کا بیانیہ شعبدہ بازی کی حد تک بے حد شفاف ہے اور ناول کے دیگر اوراق (ابواب) کی طرح ان میں فکشن کو مغربی طرز پر انتہائی پر تشدد اور بے رحمانہ طریقے سے جدید تر بنانے کی حمالی نظر نہیں آتی۔ یہ آخری تین اوراق گڑھی ہوئی بانجھ اشاریت اور رمزیت کے دیگر ہانپتے اور کانپتے اوراق کی طرح نہیں ہیں بلکہ انھیں انتہائی جدید، انوکھی اور مابعد جدید خوبیوں کا حامل تسلیم کیا جانا چاہیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے ناول کے آخری ورق میں ابلاغ کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

اقتباسات[ترمیم]

  • بس نیند ہی نیند تھی۔ اس بے تحاشا نیند میں، میں نے اندھیری سنسان راتوں میں خدا اور شیطان کو اپنی اپنی روشنیوں میں، آپس میں لڑتے، بحث و مباحثہ اور پھر ٹھٹھے مار کر ہنستے بھی دیکھا۔ اس کے بعد خدا اور شیطان دونوں سنجیدگی کے ساتھ مل کر کالے حروف سے موت کی کتاب لکھنے میں مشغول ہو گئے۔ کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ کس نے کس کے لفظوں میں ڈنڈی مار دی، کس نے؟ نیند میں، میں یہ نہیں دیکھ سکا۔ بہت عرصہ تک، شاید کوئی ہزار صدیوں تک نیند میں اس طرح آگے بڑھتے رہنے کے بعد، اب مجھے یہ بھی معلوم ہو گیا ہے کہ میں تو لگاتار آگے بڑھتا گیا مگر اپنے پیچھے ایک گندا مٹیالا راستہ بھی چھوڑتا گیا۔ میں جہاں جہاں سے گزرا، وہاں ایک گدلا نالا بنتاچلا گیا۔ دوبارہ کبھی واپس آؤں گا تو اس نالے کی جونکیں میری پنڈلیوں سے تمام خون چوس جائیں گی۔ میرا سیاہ سایہ نما بدن کالی دلدلوں میں غوطہ خوری کرنے کے لیے مجبور ہوگا۔ دلدل کے اندر کنول کے پتے سڑتے ہیں، میرے جسم کا بخار اپنا بھنور بنا کر کیچڑ کو دریا کی وسعت عطا کرتا ہے۔ میں اس کائی، کیچڑ بھرے پانی سے سن ہوجاؤں گا اور وہ تمام منحوس جھاڑ جھنکاڑ میرے سر، پیٹ اور پیٹھ سے چمٹے ہوں گے جو میری اپنی بے ہوشی اور نیند سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ واپسی کا سر آسان نہ ہوگا۔[7]

خودکشی سے متعلق[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

ریختہ پر ناول پڑھیں

حوالہ جات[ترمیم]