موسٰی محمد ابو مرذوق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
موسٰی محمد ابو مرذوق
(عربی میں: موسى أبو مرزوق ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Abu Marzook.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش 9 جنوری 1951 (69 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رفح  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United States (1795-1818).svg ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت حماس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن حماس  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ عین شمس
کولوراڈو اسٹیٹ یونیورسٹی
لوزیانا ٹیک یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

موسٰی محمد ابو مرذوق فلسطینی تحریک حماس کے ایک رہنما ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

موسٰی کی پیدائش سے کچھ عرصہ قبل ان کا خاندان مجدل کی قریبی بستی بینا سے رفح کی طرف منتقل ہوا- وہ 1951ء میں پیدا ہوئے تھے-

تعلیم[ترمیم]

موسٰی نے اپنی پوری ابتدائی تعلیم غزہ میں حاصل کی- انجینئیرنگ کی تعلیم اس نے قاہرہ کی حلوان یونیورسٹی سے حاصل کی- 77-1976ء میں اس نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرلی-1981ء تک آپ امارات میں ایک کمپنی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے- اس کے بعد 1981ء میں موسٰی اعلٰی تعلیم کے حصول کے لیے امریکا گئے۔ وہاں نے صنعتی انجینئری میں ماسٹر اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں-

جلاوطنی[ترمیم]

اردن میں موسٰی نے تین سال قیام کیا مگر جون 1996ء میں اسے وہاں سے ملک بدر کر دیا گیا-

قید و بند کی صعوبتیں[ترمیم]

نیویارک ائیرپورٹ پر امریکی انتظامیہ نے موسٰی کو بغیر کوئی وجہ بیان کیے گرفتار کر لیا- بعد میں اسرائیل نے موسٰی پر حماس کے عسکری ونگ کو اسلحہ فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا-امریکا کی فیڈرل عدالت نے آپ کو اسرائیل کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا- نیو یارک کی فیڈرل جیل میں اٹھارہ ماہ قید رہنے کے بعد اس نے امریکا کے اس فیصلے کے خلاف کوئی درخواست پیش نہ کی-مگر اس کے کچھ عرصے بعد اسرائیل نے امریکا سے حوالگی کا فیصلہ واپس لے لیا- 1997 ء میں اردن کی دعوت پر امریکا نے موسٰی کو اردن کے حوالے کر دیا-[1]

حوالہ جات[ترمیم]