مہاویر سنگھ راٹھور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مہاویر سنگھ راٹھور
(بنگالی میں: মহাবীর সিং ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Mahavir Singh freedom fighter Statue .jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 16 ستمبر 1904  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع ایٹاہ،  اتر پردیش  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 مئی 1933 (29 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیلولر جیل،  جزائر انڈمان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات جبری کھلانا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت نوجوان بھارت سبھا  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مہاویر سنگھ راٹھور (انگریزی: Mahavir Singh)، پیدائش: 16 ستمبر، 1904ء - وفات: 17 مئی، 1933ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور 1930ء کی دہائی کے دوران متحرک تحریک آزادی ہند کے مجاہد تھے۔ انہوں نے اترپردیش میں سوشلسٹ انقلابی تنظیم ہندوستانی ریپبلکن آرمی کی تنظیم میں سرگرم حصہ لیا۔ وہ بھگت سنگھ کے قریبی ساتھی تھے اور دوسری لاہور سازش کیس میں گرفتار ہوئے۔ انہیں کالے پانی کی سزا دی گئی۔ سیلولر جیل میں دورانِ قید بھوک ہڑتال کی و جہ سے ان کی جان چلی گئی۔

حالات زندگی[ترمیم]

مہاویر سنگھ 16 ستمبر، 1904ء کو موضع شاہ پور ٹہلا، ضلع ایٹہ، اتر پردیش، برطانوی ہندوستان میں دیو سنگھ کے گھرپیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈی اے وی کالج کانپور سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے برطانوی حکام کے خلاف قومی تحریکوں میں حصہ لیا۔ وہ سوشلسٹ انقلابی پارٹی ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن اور نوجوان بھارت سبھا کے رکن تھے، مشہور انقلابی بھگت سنگھ کے گہرے ساتھیوں میں شامل تھے۔ انہوں نے مزنگ روڈ لاہور پر بھگت سنگھ کو فرار ہونے میں مدد دی تھی۔ اترپردیش میں انقلابی مسلح تنظیم ہندوستانی ریپبلکن آرمی کی تنظیم میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے اترپردیش اور اطراف میں متعدد مسلح وارداتوں میں شامل رہے۔ 4 دسمبر 1928ء کو نیشنل پنجاب بینک لاہور پر ناکام سیاسی ڈکیتی میں شریک ہوئے۔ انہیں گرفتار کر لیا گیا اور 17 دسمبر 1928ء کو قتل کی سازش میں شریک خاص ملزموں میں انہیں بھی ایک قرار دیا گیا۔ ان پر دوسری لاہور سازش کیس کے نام سے مقدمہ چلایا گیا اور کالا پانی کی سزا دے کر جزائر انڈمان و نکوبار بھیجا گیا۔ انہوں نے سیلولر جیل میں سیاسی قیدیوں کے ساتھ حکام کے ظالمانہ سلوک کے خلاف احتجاج میں بھوک ہڑتال کی۔ 17 مئی 1933ء جب جبراً خوراک دینے میں دودھ ان کی ناک کے ذریعہ پھیپھڑوں میں پہنچایا گیا تو وہ شہید ہو گئے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 271