نظیر صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نظیر صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش 7 نومبر 1930  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
چھاپرا،  بہار،  برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 12 اپریل 2001 (71 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن اسلام آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ شاعر،  نقاد،  محقق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،  جامعہ پیکنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پروفیسر نظیر صدیقی (پیدائش: 7 نومبر، 1930ء - وفات: 12 اپریل، 2001ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز نقاد، شاعر، محقق اور انشائیہ نگار تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

نظیر صدیقی 7 نومبر، 1930ء کو سرائے ساہو، چھاپرا، بہار، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1][2][3][4] ان اصل نام محمد نظیر الدین صدیقی تھا۔ انہوں نے اردو اور انگریزی میں ایم اے کیا اور مشرقی پاکستان کی کئی یونیورسٹیوں اور کالجوں سے وابستہ رہے۔ 1969ء میں وہ کراچی آ گئے جہاں انہوں نے اردو کالج میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1971ء میں انہوں نے وفاقی کالج برائے طلبہ اسلام آباد سے وابستگی اختیار کی اور بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے منسلک ہوئے، جہاں سے وہ صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔ اسی دوران انہوں نے بیجنگ یونیورسٹی میں بھی شعبہ اردو میں تدریس کے فرائض انجام دیے۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

پروفیسر نظیر صدیقی کو اردو کے ایک اہم نثر نگار اور نقاد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر اردو اور انگریزی میں 20 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی تنقیدی کتب میں تاثرات و تعصبات، میرے خیال میں، تفہیم و تعبیر، اردو ادب کے مغربی دریچے، جدید اردو غزل ایک مطالعہ، اردو میں عالمی ادب کے تراجم اور انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب Iqbal and Radhakrishnan: A Comparative Study (اقبال اور رادھا کرشنن:تقابلی مطالعہ ) شامل ہیں۔ ان کے خاکوں کا مجموعہ جان پہچان کے نام سے انشائیوں کا مجموعہ شہرت کی خاطر کے نام سے اور خود نوشت سوانح عمری سو یہ ہے اپنی زندگی کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔ اس کے علاوہ ان کا شعری مجموعہ حسرت اظہار کے نام سے شائع ہواتھا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

تنقید[ترمیم]

  • تاثرات و تعصبات
  • میرے خیال میں
  • تفہیم و تعبیر
  • ادبی جائزے
  • ڈاکٹر عندلیب شادانی۔ ایک مطالعہ
  • اردو ادب کے مغربی دریچے
  • یگانہ چنگیزی
  • شیرازۂ خیال
  • جدید اردو غزل ایک مطالعہ
  • اردو میں عالمی ادب کے تراجم
  • Iqbal and Radhakrishnan: A Comparative Study

شاعری[ترمیم]

  • حسرت اظہار

خاکے و انشائیہ[ترمیم]

  • جان پہچان
  • شہرت کی خاطر

خود نوشت[ترمیم]

  • سو یہ ہے اپنی زندگی

تر اجم[ترمیم]

  • اعتراف (جاپانی کتاب کا ترجمہ)

نظیر صدیقی کے فن و شخصیت پر کتب[ترمیم]

وفات[ترمیم]

نظیر صدیقی 12 اپریل، 2001ء کو اسلام آباد، پاکستان میں وفات پاگئے اور اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔[1][2][3][4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب نظیر صدیقی، ریختہ ڈاٹاو آر جی، بھارت
  2. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 874
  3. ^ ا ب نظیر صدیقی، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  4. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 895