نوال السعداوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نوال السعداوی
(عربی میں: نوال السعداوي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Nawal El Saadawi 02.JPG
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 اکتوبر 1931 (89 سال)[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
كفر طحلہ[4]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ریاستہائے متحدہ امریکا  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt.svg مصر[5]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ قاہرہ
کولمبیا یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ نفسیاتی معالج،  طبیبہ،  طبی مصنف،  ماہر امراضِ نسواں،  ناول نگار[6]،  حامی حقوق نسواں،  سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[7]،  انگریزی[7]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوکریاں ڈیوک یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
100 خواتین (بی بی سی)  (2015)
شون مک برائڈ امن انعام (2012)[8]
کیٹالونیا بین الاقوامی انعام (2003)[9]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

نوال السعداوی کی ولادت 27 اکتوبر 1931ء کو ہوئی۔وہ مصری مصنفہ، ناول نگار، نسوانیت کی علم بردار، سماجی کارکن، طبیبہ اور ماہر نفسیات ہیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور سماجی خدمات میں اسلام میں خواتین پر بہت کام کیا اور بالخصوص نسوانی ختنہ ان کا توجہ کا مرکز رہا۔ انہیں عرب دنیا کی سیمون دی بووار کہا جاتا ہے۔[10]

نوال السعدی عرب خواتین یکجہتی ایسوسی اے شن کی بانی اور صدر نشین ہیں۔[11][12] وہ عرب ایسو سی اے شن برائے حقوق انسانی کی بھی شریک بانی ہیں۔[13] انہیں تین زمروں میں اعزازی ڈاکٹری کی ڈگری سے نوازا گیا ہے۔ 2004ء میں یورپ کی کونسل نے انہیں نارتھ ساوتھ اعزاز دیا۔2005ء میں بیلجئیم میں انانا انٹرنیشنل پرائز ملا۔[14] اور 2012ء میں عالمی امن دفتر نے 2012ء عالمی امن دفتر کے اعزاز سے سرفراز کیا۔[15] نوال السعدی متعدد عہدوں پر فائز ہیں، جیسے؛ قاہرہ میں سماجیات و فنون کی آتھور آف سپریم ہیں، وزارت صحت، قاہرہ کی ڈائریکٹ جنرل، میڈیکل ایسو سی اے شن، قاہرہ، مصر کی سکریٹری جنرل، وزارت صحت، مصر اور یونیورسٹی ہاسپٹل کی ڈاکٹر ہیں۔ وہ ہیلتھ ایجوکیشن ایسو سی اے شن اور اجپشین ومن رائٹرز ایسو سی اے شن کی بانی بھی ہیں۔ صحت مجلہ کی صدر نشین بھی رہ چکی ہی اور میڈیکل ایسو سی اے شن مجلہ کی ایڈیٹر ہیں۔[16][17] اسلام کے بارے میں عقائد

نوال السعداوی 85 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلی گئی اور ایسی حالت میں چلی گئی کہ انہوں نے اسلام کی مبارک دین کے خلاف اپنی ساری طاقت استعمال کی ۔۔۔۔
نوال السعداوی کہتی تھی حجاب عورت کی عقل چھینتی ہے ۔۔
نوال السعداوی  حج کے  فریضہ کے خلاف مزاق اور لطیفے کرتی تھی اور کہتی تھی کہ حجر اسود کو چومنا بتوں کو چومنے جیسا ہے 

نوال کہتی تھی العیاز بااللہ خدا نے عورت کی حقوق میں انصاف نہیں کیا اور عورت سے بے انصافی کی ۔۔۔ نوال السعداوی کہتی تھی کہ عورت ننگی بھی نکلے تو اسے مکلمل آزادی ہیں ۔۔ نوال السعداوی کہتی تھی کہ عورت کسی کے ساتھ بھی جنسی تعلقات قائم کرسکتی ہیں ان عقائد کی بنا پر علماء نے اس پر کفر کے فتویٰ جاری کیۓ وہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں لیکن انکی سوچ اسلامی قوانین کے خلاف تھی

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ان کی ولادت 1931ء میں كفر طحلہ نامی ایک چھوٹے سے گاوں میں ہوئی تھی۔[17] ان کا خاندان روایتی ترقی پسند تھا اور 6 سال کی عمر میں السعداوی کا بچپن میں ختنہ کر دیا گیا تھا۔[18] ان سب کے باوجود ان کے والد نے اپنی تمام اولاد کو پڑھانے کا عزم کیا۔[17]

ان کے والد وزارت تعلیم، مصر میں ملازم تھے اور انہوں نے مصری انقلاب، 1919ء میں مصر اور سوڈان میں برطانوی سامراج کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی۔ نتیجتا انہیں ایل چھوٹے سے جزیرہ میں ملک بدر کر دیا گیا تھا اور حکومت میں سزا کے طور پر دس سال تک کوئی ترقی نہیں دی۔ وہ ترقی پسند خیالات کے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی اپنی سوچ اور اپنی فکر کو وسیع کرنے اور اس کی آواز بننے کی تعلیم دی تھی۔ انہوں نے بیٹی کو عربی زبان سیکھنے پر ابھارا۔ ان کے والدین ان کی ابتدائی عمر میں انتقال کرگئے۔[17] اور سعداوی کے نوجوان کندھوں پر بڑے خاندان کا پورا بوجھ آگیا۔[19] ان کی والدی ترکی النسل تھیں۔ دادی اور نانی بھی ترک خاندان سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔[20][21]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6h71tjc — بنام: Nawal El Saadawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. بنام: Nawal El Saadawi — FemBio ID: http://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=8628 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Банк данных о выдающихся женщинах
  3. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000029593 — بنام: Nawal El Saadawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. عنوان : The International Who's Who of Women 2006 — ناشر: روٹلیجISBN 978-1-85743-325-8
  5. https://libris.kb.se/katalogisering/wt79bs8f5vmtp1w — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 21 مارچ 2013
  6. مصنف: Virginia Blain، Isobel Grundy اور Patricia Clements — عنوان : The Feminist Companion to Literature in English — صفحہ: 340
  7. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11999798c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  8. http://www.afri.ie/news-and-events/international-peace-bureau-to-award-2012-sean-macbride-peace-prize-to-nawal-el-sadaawi-egypt-and-lina-ben-mhenni-tunisia/ — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اکتوبر 2016
  9. http://web.gencat.cat/ca/generalitat/premis/pic/
  10. "Nawal El Saadawi | Egyptian physician, psychiatrist, author and feminist". Encyclopædia Britannica. اخذ شدہ بتاریخ 7 مارچ 2016. 
  11. "Arab Women's Solidarity Association United"، Lokashakti.
  12. Hitchcock, Peter, Nawal el Saadawi, Sherif Hetata. "Living the Struggle"۔ Transition 61 (1993): 170–179.
  13. Nawal El Saadawi, "Presentation by Nawal El Saadawi: President's Forum, M/MLA Annual Convention, نومبر 4, 1999"، The Journal of the Midwest Modern Language Association 33.3–34.1 (Autumn 2000 – Winter 2001): 34–39.
  14. "PEN World Voices Arthur Miller Freedom to Write Lecture by Nawal El Saadawi"، YouTube. 8 ستمبر 2009.
  15. "International Peace Bureau". www.ipb.org. 25 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 ستمبر 2015. 
  16. "Nawal El Saadawi". nawalsaadawi.net. اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2014. 
  17. ^ ا ب پ ت "Nawal El Saadawi". faculty.webster.edu. اخذ شدہ بتاریخ 25 ستمبر 2015. 
  18. "Exile and Resistance". 27 اکتوبر 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جون 2010. 
  19. Nawal El Saadawi (2013)، A Daughter of Isis: The Early Life of Nawal El Saadawi، Zed Books، ISBN 1-84813-640-4 
  20. Nawal El Saadawi (1986)، Memoirs from the Women's Prison، University of California Press، صفحہ 64، ISBN 0-520-08888-3، My eyes widened in astonishment. Even my maternal grandmother used to sing, although she was born to a Turkish mother and lived in my grandfather's house in the epoch when harems still existed. 

بیرونی روابط[ترمیم]

ہنداوی پر ان کی متعدد کتابیں موجود ہیں۔ https://www.hindawi.org/books/series/85168395/