نوال السعداوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نوال السعداوی
(عربی میں: نوال السعداوي ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Nawal El Saadawi, April 2012 (cropped).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 27 اکتوبر 1931[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
كفر طحلہ[5]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 21 مارچ 2021 (90 سال)[6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاہرہ[8]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش ریاستہائے متحدہ امریکا
قاہرہ[8]  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Egypt (1922–1953).svg مملکت مصر (1931–1952)
Flag of Egypt (1922–1953).svg جمہوریہ مصر (1953–1958)
Flag of Syria.svg متحدہ عرب جمہوریہ (1958–1971)
Flag of Egypt.svg مصر (1971–2021)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کولمبیا (–1966)
جامعہ قاہرہ (–1955)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم عوامی صحت،طب رئوی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد ایم بی بی ایس  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ نفسیاتی معالج،  طبی مصنف،  ماہر امراضِ نسواں،  ناول نگار[9]،  سیاست دان،  مصنفہ،  فعالیت پسند  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[10]،  انگریزی[10]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نوکریاں ڈیوک یونیورسٹی[8]  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
100 خواتین (بی بی سی) (2015)
شون مک برائڈ امن انعام (2012)[11]
کیٹالونیا بین الاقوامی انعام (2003)[12]
100 خواتین (بی بی سی)[13]  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

وہ مصری مصنفہ، ناول نگار، نسوانیت کی علم بردار، سماجی کارکن، طبیبہ اور ماہر نفسیات تھیں۔ انہوں نے اپنی تحریروں، تقریروں اور سماجی خدمات میں اسلام میں خواتین پر بہت کام کیا اور بالخصوص نسوانی ختنہ ان کا توجہ کا مرکز رہا۔ انہیں عرب دنیا کی سیمون دی بووار کہا جاتا ہے۔[14]

پیدائش[ترمیم]

ان کی ولادت 27 اکتوبر 1931ء میں كفر طحلہ نامی ایک چھوٹے سے گاوں میں ہوئی تھی۔[15] ان کا خاندان روایتی ترقی پسند تھا اور 6 سال کی عمر میں السعداوی کا بچپن میں ختنہ کر دیا گیا تھا۔[16] ان سب کے باوجود ان کے والد نے اپنی تمام اولاد کو پڑھانے کا عزم کیا۔[15]

خاندان[ترمیم]

ان کے والد وزارت تعلیم، مصر میں ملازم تھے اور انہوں نے مصری انقلاب، 1919ء میں مصر اور سوڈان میں برطانوی سامراج کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی۔ نتیجتا انہیں ایل چھوٹے سے جزیرہ میں ملک بدر کر دیا گیا تھا اور حکومت میں سزا کے طور پر دس سال تک کوئی ترقی نہیں دی۔ وہ ترقی پسند خیالات کے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی اپنی سوچ اور اپنی فکر کو وسیع کرنے اور اس کی آواز بننے کی تعلیم دی تھی۔ انہوں نے بیٹی کو عربی زبان سیکھنے پر ابھارا۔ ان کے والدین ان کی ابتدائی عمر میں انتقال کر گئے۔[15] اور سعداوی کے نوجوان کندھوں پر بڑے خاندان کا پورا بوجھ آگیا۔[17] ان کی والدہ ترکی النسل تھیں۔ دادی اور نانی بھی ترک خاندان سے ہی تعلق رکھتی تھیں۔[18][19]

تعلیم[ترمیم]

نوال نے دسمبر 1955ء میں قاہرہ یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن سے گریجویشن کیا اور بیچلر آف میڈیسن اینڈ سرجری کی ڈگری حاصل کی، سینے کے امراض کے شعبے میں مہارت حاصل کی،

عملی زندگی[ترمیم]

اسی سال القصر العینی میں بطور فزیشن انٹرن کام کیا۔ انہوں نے کالج میں اپنے ساتھی احمد حلمی سے شادی کی۔ یہ شادی زیادہ دیر نہ چل سکی اور دو سال بعد ختم ہو گئی۔

نوال السعداوی کئی عہدوں پر فائز رہیں، جیسے کہ قاہرہ میں وزارت صحت میں محکمہ صحت کی تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ، قاہرہ میں میڈیکل سنڈیکیٹ کی سیکرٹری جنرل، یونیورسٹی ہسپتال میں بطور ڈاکٹر اپنے کام کے علاوہ۔ وہ قاہرہ میں سپریم کونسل برائے آرٹس اینڈ سوشل سائنسز کی رکن بھی تھیں۔ انہوں نے ہیلتھ ایجوکیشن ایسوسی ایشن اور مصری خواتین مصنفین ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے قاہرہ میں ہیلتھ جرنل کی ایڈیٹر انچیف اور جرنل آف دی میڈیکل ایسوسی ایشن کی ایڈیٹر کے طور پر کام کیا۔

حقوق نسواں کی علمبردار[ترمیم]

نوال السعدی عرب خواتین یکجہتی ایسوسی اے شن کی بانی اور صدر نشین تھیں۔[20][21] وہ عرب ایسو سی اے شن برائے حقوق انسانی کی بھی شریک بانی تھیں۔[22]

ادبی زندگی[ترمیم]

نوال نے ابتدائی طور پر لکھنا شروع کیا، اور ان کی پہلی تصانیف مختصر کہانیاں تھیں جن کا عنوان تھا " میں نے محبت کو سیکھا " (1957) اور ان کا پہلے ناول " A Doctor's Diary " (1958) تھا۔ ان کی سب سے مشہور تصانیف میں سے ایک کتاب ہے " میری یادداشتیں خواتین کی جیل میں " (1982

ان کی چالیس کتابیں شائع ہو چکی ہیں جو دوبارہ شائع ہو چکی ہیں اور ان کی تحریروں کا 20 سے زائد زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔نوال السعدوی کی تحریروں کا مرکزی خیال ایک طرف عورتوں اور انسانوں کی آزادی اور دوسری طرف انسانوں کی آزادی کے درمیان تعلق کے گرد گھومتا ہے۔ دوسری طرف ثقافتی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں میں وطن۔ 1972 میں، اس نے اپنی پہلی غیر افسانوی تصنیف وومن اینڈ سیکس شائع کی ، جس میں سیاسی اور مذہبی دونوں حکام کا مخالف تھا۔ یہ کتاب ان کی وزارت صحت سے برطرفی کی ایک وجہ تھی اور ان کے کاموں میں بھی

تصانیف[ترمیم]

  • 1960 – مذكرات طبيبة.
  • 1971 – الأنثى هي الأصل
  • 1972 – كانت هي الأضعف (رواية).
  • 1973 – الرجل والجنس
  • 1974 – المرأة والجنس
  • 1975 – امرأة عند نقطة الصفر (رواية).
  • 1975 – المرأة والصراع النفسى
  • 1977 – الوجه العاري للمرأة العربية
  • 1970 – الغائب (رواية).
  • 1978 – الأغنية الدائرية (رواية).
  • 1982 – مذكراتي في سجن النساء.

الزرقاء (مسرحية).

  • 1983 – امرأتان في امرأة (رواية)
  • 1984 – الإنسان اثني عشر امرأة في زنزانة.
  • 1986 – رحلاتي في العالم.
  • 1987 – سقوط الإمام (رواية).
  • 1988 – الخيط وعين الحياة
  • 1989 – موت الرجل الوحيد على الأرض (رواية).
  • 1989 – لحظة صدق (قصة قصيرة).
  • 1992 – معركة جديدة في قضية المرأة.
  • 1992 – الحب في زمن النفط (رواية).
  • 1990 – دراسات عن المرأة والرجل في المجتمع العربي

الحاكم بأمر الله (مسرحية من فصلين).

  • 1999 – توأم السلطة والجنس.
  • 2000 – جنات وإبليس (رواية).
  • 2000 – المرأة والدين والأخلاق. اشتركت في تأليفه د.هبة رؤوف عزت (مناظرة حول قضايا المرأة)
  • 2000 – أوراق حياتي.
  • 2000 – تعلمت الحب (رواية).
  • 2004 – كسر الحدود.
  • 2005 – الرواية (رواية)
  • 2006 – الصورة الممزقة (رواية).
  • 2006 – الإله يقدم استقالته في اجتماع القمة
  • 2006 – قضايا المرأة المصرية السياسية والجنسية.
  • 2009 –زينة (رواية).

اعزازات[ترمیم]

انہیں تین زمروں میں اعزازی ڈاکٹری کی ڈگری سے نوازا گیا۔ 2004ء میں یورپ کی کونسل نے انہیں نارتھ ساوتھ اعزاز دیا۔2005ء میں بیلجئیم میں انانا انٹرنیشنل پرائز ملا۔[23] اور 2012ء میں عالمی امن دفتر نے 2012ء عالمی امن دفتر کے اعزاز سے سرفراز کیا۔[24] نوال السعدی متعدد عہدوں پر فائز رہیں، جیسے؛ قاہرہ میں سماجیات و فنون کی آتھور آف سپریم ہیں، وزارت صحت، قاہرہ کی ڈائریکٹ جنرل، میڈیکل ایسو سی اے شن، قاہرہ، مصر کی سکریٹری جنرل، وزارت صحت، مصر اور یونیورسٹی ہاسپٹل کی ڈاکٹر ہیں۔ وہ ہیلتھ ایجوکیشن ایسو سی اے شن اور اجپشین ومن رائٹرز ایسو سی اے شن کی بانی بھی تھیں۔ صحت مجلہ کی صدر نشین بھی رہ چکی تھیں اور میڈیکل ایسوسی اے شن مجلہ کی ایڈیٹر تھیں۔[25][15]

عقائد[ترمیم]

نوال السعداوی 90 سال کی عمر میں اس دنیا سے چلی گئی اور ایسی حالت میں چلی گئی کہ انہوں نے اسلام کی مبارک دین کے خلاف اپنی ساری طاقت استعمال کی۔۔۔۔ نوال السعداوی کہتی تھی حجاب عورت کی عقل چھینتی ہے۔۔ نوال السعداوی حج کے فریضہ کے خلاف مزاق اور لطیفے کرتی تھی اور کہتی تھی کہ حجر اسود کو چومنا بتوں کو چومنے جیسا ہے نوال کہتی تھی العیاز بااللہ خدا نے عورت کی حقوق میں انصاف نہیں کیا اور عورت سے بے انصافی کی۔۔۔ نوال السعداوی کہتی تھی کہ عورت ننگی بھی نکلے تو اسے مکلمل آزادی ہیں۔۔ نوال السعداوی کہتی تھی کہ عورت کسی کے ساتھ بھی جنسی تعلقات قائم کر سکتی ہیں ان عقائد کی بنا پر علماء نے اس پر کفر کے فتویٰ جاری کیۓ وہ ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں لیکن انکی سوچ اسلامی قوانین کے خلاف تھی

جیل[ترمیم]

نوال السعدوی کو مصری حکومت کی متنازعہ شخصیات اور ناقدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ 1981ء میں نوال نے ایک حقوق نسواں میگزین " The Confrontation " کے قیام میں اپنا حصہ ڈالا۔ 6 ستمبر 1981ء کو، انہیں صدر محمد انور سادات کے دور اقتدار میں جیل کی سزا سنائی گئی ، اور اسی سال، صدر کے قتل کے ایک ماہ بعد انہیں رہا کر دیا گیا ۔ ان کے سب سے مشہور اقوال میں سے، " خطرہ میری زندگی کا حصہ بن گیا ہے جب سے میں نے قلم اٹھایا اور لکھا۔ جھوٹ سے بھری دنیا میں سچ سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہے ۔‘‘

نوال کو تین ماہ تک قنطر کی خواتین کی جیل میں قید رکھا گیا اور رہائی کے بعد 1983ء میں اپنی مشہور کتاب " My Memoirs in the Women's Prison " لکھی۔ اس سے پہلے وہ ایک خاتون قیدی کے ساتھ رابطے میں تھی اور اسے 1975ء میں ایک عورت کے طور پر گراؤنڈ زیرو کے اپنے ناول کے لیے ایک تحریک کے طور پر لیا تھا ۔

مصر میں ریاستی کونسل کی انتظامی عدالت نے بھی 12 مئی 2008ء کو مسترد کر دیا۔ اس کی مصری شہریت منسوخ کر دی گئی تھی، ایک وکیل کی طرف سے ان کے خیالات کی وجہ سے اس کے خلاف دائر مقدمہ میں سزا ملی،

وفات[ترمیم]

21 مارچ 2021ء کو 90 سال کی عمر میں قاہرہ میں فوت و دفن ہوئیں،

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6h71tjc — بنام: Nawal El Saadawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. بنام: Nawal El Saadawi — FemBio ID: https://www.fembio.org/biographie.php/frau/frauendatenbank?fem_id=8628 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Банк інформації про видатних жінок
  3. General Diamond Catalogue ID: https://opac.diamond-ils.org/agent/15702 — بنام: Nawāl al-Saʿdāwī
  4. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000029593 — بنام: Nawal El Saadawi — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. عنوان : The International Who's Who of Women 2006 — ناشر: روٹلیجISBN 978-1-85743-325-8
  6. https://www.almasryalyoum.com/news/details/2293225
  7. https://www.lemonde.fr/culture/article/2021/03/21/l-ecrivaine-egyptienne-feministe-nawal-el-saadawi-est-morte_6073950_3246.html
  8. ^ ا ب پ https://www.nytimes.com/2021/03/21/obituaries/nawal-el-saadawi-dead.html — اخذ شدہ بتاریخ: 23 مارچ 2021
  9. عنوان : The Feminist Companion to Literature in English — صفحہ: 340
  10. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11999798c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  11. http://www.afri.ie/news-and-events/international-peace-bureau-to-award-2012-sean-macbride-peace-prize-to-nawal-el-sadaawi-egypt-and-lina-ben-mhenni-tunisia/ — اخذ شدہ بتاریخ: 23 اکتوبر 2016
  12. http://web.gencat.cat/ca/generalitat/premis/pic/
  13. https://www.bbc.com/news/world-34745739 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 دسمبر 2022
  14. "Nawal El Saadawi | Egyptian physician, psychiatrist, author and feminist". Encyclopædia Britannica. اخذ شدہ بتاریخ 7 مارچ 2016. 
  15. ^ ا ب پ ت "Nawal El Saadawi". faculty.webster.edu. اخذ شدہ بتاریخ 25 ستمبر 2015. 
  16. "Exile and Resistance". 27 اکتوبر 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 23 جون 2010. 
  17. Nawal El Saadawi (2013)، A Daughter of Isis: The Early Life of Nawal El Saadawi، Zed Books، ISBN 1-84813-640-4 
  18. Nawal El Saadawi (1986)، Memoirs from the Women's Prison، University of California Press، صفحہ 64، ISBN 0-520-08888-3، My eyes widened in astonishment. Even my maternal grandmother used to sing, although she was born to a Turkish mother and lived in my grandfather's house in the epoch when harems still existed. 
  19. "Arab Women's Solidarity Association United" آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ lokashakti.org (Error: unknown archive URL)، Lokashakti.
  20. Hitchcock, Peter, Nawal el Saadawi, Sherif Hetata. "Living the Struggle"۔ Transition 61 (1993): 170–179.
  21. Nawal El Saadawi, "Presentation by Nawal El Saadawi: President's Forum, M/MLA Annual Convention, نومبر 4, 1999"، The Journal of the Midwest Modern Language Association 33.3–34.1 (Autumn 2000 – Winter 2001): 34–39.
  22. "PEN World Voices Arthur Miller Freedom to Write Lecture by Nawal El Saadawi"، YouTube. 8 ستمبر 2009.
  23. "International Peace Bureau". www.ipb.org. 25 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 25 ستمبر 2015. 
  24. "Nawal El Saadawi". nawalsaadawi.net. اخذ شدہ بتاریخ 12 فروری 2014. 

بیرونی روابط[ترمیم]

ہنداوی پر ان کی متعدد کتابیں موجود ہیں۔ https://www.hindawi.org/books/series/85168395/